218

غازی خالد اور ماورائے عدالت قتل (شیخ نعیم کمال)

رب الشرح لی سدری یسرلی امری واحلل عقدۃ من اللسانی یفقھو قولی اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الْحَبِیْبِ الْعَالِی الْقَدْرِالْعَظِیْمِ الْجَاہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ

قال اللہ تبارک و تعالیٰ فی الکلام مجید و الفرقان الحمید: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠۔

حالیہ واقعہ جو پشاور کی ایک عدالت میں پیش آیا کہ ایک مدعی نبوتؐ اور نام نہاد قادیانی طاہر نسیم جو کہ گزشتہ کئی سالوں سے اپنے آپ کو مرزا قادیانی کا نائب بتا کر جھوٹا دعویٰ نبوت کر رہا تھا مگر اس پر مقدمہ 2018 میں رجسٹر ہوا، جسکی بابت معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا اور مذکورہ طاہر نسیم نے بمطابق وڈیوز موجود یو ٹیوب نے ببانگ دہل ختم نبوت کے طے شدہ نازک ایشو پر گستاخی کرنے کی جسارت کی کو ایک خالد نامی غازی نے کمرہ عدالت میں جج کے سامنے واصل جہنم کر دیا کیونکہ 2 سال کے ٹرائل کے باوجود عدالت تا حال کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکی۔

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر متضاد رائے پائی جا رہی ہیں اور معاملہ کو مسلمانوں کے درمیان نزاع بنا کر کنٹروورشل بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، چونکہ معاملہ ہم سب کے عین ایمان کا ہے سوچا کہ بندہ ناچیز بھی اس پر قلم اٹھائے۔

پہلی رائے جو سوشل میڈیا پر جاری ہے کہ غازی خالد نے ماضی کے ملتے جلتے واقعات کی روشنی میں درست اقدام اٹھائے اور قابل تحسین قرار پایا۔

دوسری رائے کے مطابق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا اس لیے ماورائے عدالت قتل قبل از انصاف ہے لہذا کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ غازی خالد کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔

تیسری اور حتمی رائے جو ہمارے آئمہ کرام کی ہے صدیوں پہلے یہ فیصلہ ہو چکا کہ بعد از ظہور پیغمبر کائنات، کسی بھی مدعی نبوت کو بلا سنے قتل کر دیا جائے، حتیٰ کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کا فتویٰ ہے کہ جو بھی کسی مدعی نبوت سے اسکے نبی ہونے کی دلیل مانگے وہ بھی واجب القتل ہے کیونکہ مدعی اپنے جھوٹے دعوی کی وجہ سے اور پوچھنے والا ختم نبوت میں شک کرنے کی بناء پر دونوں ہی مستوجب سزا ہونگے اور اسکی واحد سزا “سر تن سے جدا ہے” جو کہ مسیلمہ کذاب کے فعل قبیح سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے فعل سے تا حال غلامان رسول سے صادر و ظاہر ہوا اور تا قیامت ہوتا رہے گا اور اسی پر امت کا اجماع ہے۔

باقی رہی بات پاکستان کے نظام عدالت کی جس پر رشک نہیں بلکہ مجھے ایک قانون دان ہونے کی حیثیت سے شرم آتی ہے اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے احساس غلامی محسوس کرتا ہوں کہ 18ویں صدی میں بننے والا ضابطہ فوجداری و ضابطہ دیوانی ہائے جسکو بنانے والے غیر مسلم قابض و غاصب طاغوتی حکمران تھے کو آج تک پاکستانی مسلمان قرآن و سنت سے تبدیل نہیں کر پائے بلکہ اسی کو بوقتِ ضرورت کانٹ چھانٹ کر کے کام چلا رہے ہیں، اور محض آئین پاکستان کے مقدمہ میں یہ لکھ دیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام قوانین قرآن وسنت کے تابع ہونگے اور پھر بھنگ پی کر گہری نیند سو گئے، الا ماشاءاللہ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم بنفس نفیس ایک الہامی آئین ہے جسکو عالم انسانیت پر نافذ کرنے کی ذمہ داری امت مسلمہ کو سونپی گئی جیسا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا: ” وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ” اور مزید دکھ کی بات یوں کہ جس ریاست کو نظریاتی بنیادوں پر اسلام امپلیمنٹ کرنے کی خاطر حاصل کیا گیا اس میں 73 سال سے گورے غاصب کا پروسیجرل قانون چلا آ رہا ہے جو کہ تا حال کسی کو فوری اور سستا انصاف مہیا نہ کر سکا اور بالخصوص توہین رسالت کے تمام مقدمات کنٹروورسی کا شکار ہوئے۔ طوالت کے خوف سے مختصراً یہی کہوں گا کہ اس لولے لنگڑے قانون کو ٹھیک اور تبدیل نہ کرنے میں بیرونی خفیہ طاغوتی طاقتوں کا آلہ کار بننے والے تمام ہاتھوں کے ساتھ ساتھ اس ملک کے نام نہاد علماء جنکو فرقہ وارانہ اختلافات کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا ذمہ داران ہیں، مزید اس موضوع پر میرے ملک کے قابل وکلاء نے بھی کوئی قابل قدر عملی خدمات انجام نہیں دیں یعنی کوئی آواز آہن بلند نہیں کی کہ ایوانوں میں ہلچل مچ جائے یا قابل وکلاء کو ایسے مواقع اور فورم تا حال میسر نہ آ سکے، مزید قانون سازی کی درستگی کیلئے میری ذاتی رائے ہے کہ وکلاء کی اکثریت اگر اسمبلی میں عوام کے نمائندے بن کر جائیں تو اس ملک کی لیجسلیشن کی کوئی شکل و صورت شائد بن جائے وگرنہ دہائیوں سے نام نہاد میٹرک فیل عوامی نمائندے کیا خاک قانون سازی کریں گے؟

وکلاء اور کورٹ رپورٹرز اس امر کے گواہ ہیں کہ بہت سارے قتل کمرہ عدالت و کچہریوں کی حدود میں واقع ہوئے کیونکہ ایک کیس کو حل کرنے میں میرے ملک کی عدالتوں نے سالوں لگا دئیے، سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ سالوں میں آنے والے فیصلوں کے بعد قوم سوگ زدہ رہی کہ جسکو باعزت بری کیا گیا وہ کئی ماہ پہلے بے قصوری کی قید کاٹتے ہوئے جیل میں ہی اپنے ایام زندگی پورے کر گیا۔ میرا خیال ہے کہ دوسرے نظام ہائے کی طرح جوڈیشل سسٹم کے ناکام اور کھوکھلا ہونے کیلئے اتنا کافی ہے ورنہ میرے پاس اتنا میٹیریل ہے کہ 500 صفحات کی کتاب بحوالہ جات لکھ ڈالوں، ایسی ہی روداد زیر نظر کیس میں بھی ہے کہ 2018 میں مقدمہ چلا جسکا تا حال فیصلہ نہ ہو سکا، ماڈل کورٹس کہاں تھیں؟ ایسے نازک معاملے پر پراسیکیوشن، تحقیقات و تفتیش میں نقائص اور دیری کیوں؟ پچھلے واقعات سے ریاست نے کیا سبق سیکھا اور کیا اقدام لئے؟ اگر ان سوالوں کے جوابات آپکو معلوم ہیں تو غازی خالد کی جسارت پر حیرانی کیسی، ماضی کی روشنی میں تو یہی ہونا تھا۔

افسوس کہ جب ایک عام انسان اپنے کسی پیارے کے قتل کا بدلا اسوقت لے لیتا ہے جب اسے کئی سال عدالت انصاف مہیا نہیں کرتی اور قانون کے اس میگزم کہ “انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار تصور ہوتا ہے” لیکن جب معاملہ ہماری جان، مال، ماں، باپ اور عزت سے بڑھ کر ہو جب معاملہ عشق رسول کا ہو، جب معاملہ وصل یار کا ہو، جب معاملہ خدا کے معشوق کا ہو تو پھر دنیاوی عدالتوں کا منہ رب کائنات نہیں دیکھتا بلکہ نمرود جیسی موذی شئے کو ایک مچھر سے مروا دیا کرتا ہے۔

کیا آپکو سمجھ نہیں کہ طاغوتی طاقتیں ہمارے ایمان کو ٹیسٹر لگا کر آئے دن ایسے کمینے لوگوں کو کھڑا کر دیتی ہیں یہ جاننے کیلئے کہ عشق رسول ابھی مرا کہ نہیں؟ روح محمدی جسد سے نکلی یا نہیں؟ بالکل ویسے ہی رب کائنات ہر دفعہ غازی علم الدین شہید، غازی ممتاز قادری اور غازی خالد جیسوں کے قلوب، میں عشق کی شمع روشن کر کے اپنا کام لے لیتا ہے۔

اگر اتنی سادہ بات کسی کو سمجھ نہیں آتی تو سنیں راقم الحروف کا چیلنج ہے کہ جائیں پورے قرآن سے ایک آئیت ڈھونڈ لائیں جسکے مطابق اللّٰہ نے کسی کو فوری پکڑا ہو جس نے اللّٰہ کا ڈائریکٹ انکار کیا ہو یا زبان دراز کی ہو، ایک بھی نہیں ملے گی مگر جب بھی کسی فرد یا قوم نے اسکے کسی نبی یا محبوب کی گستاخی کی اللّٰہ نے اسے تب پکڑ لیا اور ابدی طور پر اوراق تاریخ میں ملعون اور لعنتی قرار دے دیا۔

اب رہی بات میرے ان وکلاء ساتھیوں کی جو سوشل میڈیا پر دوسرے وکلاء کو یوں کہہ رہے ہیں کہ وکلاء غازی خالد کی حوصلہ افزائی کرنے سے باز رہیں انکے لئیے بس اتنا ہی کہوں گا کہ وہ اپنی تمام کوششیں اس فرسودہ قانون اور نظام کو درست کروانے پر لگائیں تا کہ انصاف بروقت اور درست ممکن ہو، کیونکہ غازی خالد کے اقدام پر تنقید کرنے والوں کو عدالت، قانون اور انصاف کی توہین تو نظر آتی ہے مگر انکو اس نظام کا کھوکھلا پن، طاغوتی ہاتھ اور توہین رسول کیوں نظر نہیں آتی؟

رہی بات مشہور اینکر پرسن قطب بلال اور اس جیسے تمام لوگوں کی تو جناب قطب بلال صاحب یا تو آپ اعلی درجے کے جاہل انسان ہیں یا پھر آپ جیسے ہی ضمیر فروش اپنی زبان اور قلم غیروں کے ہاتھوں فروخت کیا کرتے ہیں، آپکی پوسٹ کے بعد آپکی قدر و قیمت صفر ہو گئی ہے اپنی راہ لیں اور قیامت کے دن کا انتظار کریں میں شیخ نعیم آپ سے ضرور ملوں گا وہاں یہ پوچھنے کی غرض سے کہ تم کس کی کٹھ پتلی تھے؟

تو ظاہر ہوا کہ مرنے والا قادیانی کسی طاغوتی طاقت کی کٹھ پتلی تھا۔

قطب بلال اور اسکے حامی ماورائے عدالت قتل پر شور مچانے والے بھی اپنی حماقت، کم علمی، طاغوتی اور ہوا و نفس کی کٹھ پتلیاں ہیں۔

اور ہم جیسے ناچیزوں کو اللّٰہ رب العزت اپنے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی کٹھ پتلیوں میں شامل فرما دے۔ آمین
کالم ہذا کا ون لائنر یوں لکھوں گا کہ جب تک نظام عدل اسطرح نہیں ہو جاتا جسطرح کا خالق مطلق ہم سے ڈیمانڈ کرتا ہے، اور جب تک طاہر نسیم جیسے قادیانی آتے رہیں گے یقیناً خالد جیسے غازیوں کا ظہور بھی ہوتا رہے گا۔ واللہ اعلم باالصواب۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں