143

سوہنی…..! (نرجس کاظمی)

گجرات کی سوہنی کمہارن کے، حسن کے چرچے اتنے زد عام تھے کہ ہندوستان کی راجکماریاں بھی رشک کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک دنیا بھر میں گجرات کی شہرت سوہنی کی وجہ سے ہے۔ اگر گجرات سوہنی کے علاوہ کسی اور  وجہ سے مشہور ہے تو ہمیں کیا۔۔۔؟ آپ گجرات کی جوتیاں مشہور کرلو۔۔ ہنہہ۔۔۔

میری یہ بات آپ کو تسلیم کرنا ہی پڑے گی کہ جہاں، جہاں اردو/ پنجابی زبان بولی یا سمجھی جاتی ہے وہاں ،وہاں گجرات کی شناخت سوہنی ہی ہے۔۔۔۔اچھا ! ابھی بھی یقین نہیں آیا۔۔۔۔؟؟؟ اے لو بھیا! ہم بھی  تم کو یقین دلا کر چھوڑیں گے۔۔۔ دہلی کے گورنمنٹ چینل دور درشن میں ہماری ملاقات ایک نٹ کٹھ سی نیوز اینکر سے ہوئی۔ عمر اور تجربہ بتاتا تھا کہ دماغ بس ابھی ہی بھرائی کیلئے اس ٹونٹی تلے رکھا گیا ہے جس میں سے پانی کم اور ہوا زیادہ آتی ہے۔ جس کے نیچے اپنے پانی کا گھڑا بھرنے کیلئے رکھنے والا گجر  پہلے جماہیاں لیتا ہے پھر دور پیڑ تلے جا کر اپنی نیند پوری کرنے لگتا ہے۔ کہ کھمساں نوں کھانا گھڑا جب تک بھر جائے ہم اپنی نیند ہی پوری کرلیں موصوف نیند پوری کرنے کے بعد سو کے اٹھتے ہیں پھر ڈنڈ بیٹھکیں نکال کے باقی کی تھکاوٹ دور کرتے ہیں کہ مہا کا یقین ہے کہ گھڑا ابھی بھی بھرا نہیں ہوگا۔ بہرحال جب خاتون سے تعارف ہوا تو موصوفہ اپنی بڑی، بڑی آنکھیں مذید پھیلا کر جی۔۔ جی بلکل!  ہماری مسجد کے مولوی کی بتائی ہوئی حور کی آنکھوں جتنی، آنکھیں پھیلا کے حیران ہوتے ہوئے بولیں ارے گجرات تو ہمارے دیش میں ہے۔ پھر غرور سے گردن اکڑا کے شاہانہ انداز میں مخاطب ہوئیں ہمارے گجرات کو تو پوری دنیا جانتی ہے۔ ساتھ ہی اپنی خوبصورت ناک سکیڑتے ہوئے نخرے سے بولیں آپ کا گجرات کونسا۔۔۔۔؟؟؟ ہم متاثر ہوتے ہوئے منمنائے “سوہنی کا دیس”۔ پہلے  ان کے چہرے کے تاثرات حیرت میں بدلے پھر جلدی سے عقیدت بھرے انداز میں ہمارے ہاتھ تھام کر چوم لئے اور عاجزی سے فرماتی ہیں ارے آپ سوہنی کے دیش سے آئی ہیں کیسا ہے آپ کا گجرات۔ “آپ کی من موہنی صورت” دیکھ کر یقین آگیا ہے کہ پاکستان کے گجرات  کی سوہنیاں واقعی بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔۔۔ہم نے بھی بڑے ناز سے اپنے بال جھٹک کر کہا۔۔۔ہم نے کبھی غرور نہیں کیا۔۔۔ شکر ہے خاتون نے گجرات کے گجروں کے بارے میں نہیں پوچھ لیا۔۔۔ ہائے اللہ!۔۔۔ اگر وہ پوچھ لیتیں تو ہم کیا بتا پاتے۔۔۔ 6 مہینے۔۔۔، چار مہینے یا دو مہینے میں ایکبار نہاتے ہیں۔ ہم تو مخمصے میں پڑ جاتے نا۔۔۔آئیں نا ہمارے ساتھ چائے پئیں وہ لجلجائیں۔ اور ہم نے گجروں کے نہانے کے خیال سے، واپس بیدار ہوتے ہوئے جھرجھری سی لی، مناسب الفاظ میں معذرت کی، ۔۔۔ کیونکہ اب ساتھی خواتین نے کینہ توز نظروں سے ہمیں گھورنا شروع کردیا تھا۔ اس سے پہلے کہ گجراتی مردوں کا بھونڈا پھوٹے ہم نے وہاں سے نکلنے میں ہی عافیت سمجھی۔

جن خواتین کی مٹی گجرات سے گندھی ہے یا جن خواتین نے صرف گجرات کا پانی ہی پیا ہے۔ تو ان کی فطرت سے واقفیت میرے خیال میں آپ کیلئے دلچسپی کا باعث ہوگی۔ گجرات کی خواتین بھولی بھالی معصوم صورت ہوتی ہیں۔حسن میں الگ سی تابناکی لئے یہ خواتین وفاداری میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔مزاج کے تیکھے پن سے دھوکہ دینی والی خواتین پہلے تو کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتیں۔۔۔ آپ ان سے اگر راستہ بھی پوچھیں تو ذرا احتیاط سے، تہذیب سے، سہج کر بات کریں۔ ورنہ جواب میں بپھری شیرینی والا انداز اور۔۔۔۔ کڑک دار مردانہ آواز میں جواب “کی آ” ہی آنا۔۔۔۔ لوفرانہ یا لجاجت والا انداز تو بلکل بھی نہیں اپنانا کہ یہاں آپ کی گارنٹی ختم ہوجاتی ہے کہ اب آپ کیساتھ کیا سلوک روا رکھا جانا۔

یہی سوہنیاں بدطنیت مرد کی چاردیواری میں آجائیں تو دو طرح کے ردعمل کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ کمہلا جائیں گی یا بپھری لہر کی طرح ہر چیز تہس نہس کردیں گی۔کمہلائی ہوئی حسینہ کمہلانے کے بعد پھر کچلی ہوئی مسخ شخصیت کے ساتھ سامنے آتی ہیں جو کہ نہ تو آپ کے کسی قابل رہتی ہیں نہ آپ کی نسل  کی۔ دبو قسم کی اولاد کی پیداوار سے بچاو کیلئے آپ کا گجراتن کو اس کا جائز رتبہ دینا ضروری ہے، ورنہ یہ گجراتن بس ایک بے چارگی یا شدید دکھ کی سی کیفیت میں ہی اپنی زندگی بتا دیتی ہے۔اور اگر بات کریں بپھری ہوئی شیرنی کی تو زخمی شیرنی اور بھی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ زمانے کے دکھ اور گہرے گھاو آپ کو اس کی آنکھوں میں تو منجمند نظر آسکتے ہیں مگر وہ کس طرح آپ کی زندگی کو تہس نہس کرکے رکھ دے یہ ہر ایک گجراتن کی ایک الگ ہی داستان ہوگی۔ یہ آپ کے تجربے پہ منحصر ہے، کسی قسم کے بندھن میں بندھنے  سے پہلے گجراتن کے مزاج کی شناخت نا ممکن ہے۔ لہذا شوخ اداوں سے محتاط رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

شریف مردوں کیساتھ رشتہ بندھنے کے بعد وہی جان سکتا ہے کہ یہ حسن کی دیویاں وفاداری میں وہ منازل طے کرتیں کہ وفاداری کے مفہوم کی طوالت بڑھتی ہی چلی جاتی۔

سیدھی سادی معصوم سوہنیوں کو پھنسانے کے چکر میں ہرگز مت آئیں ورنہ آپ کو اتنے چکر آجانے کہ آپ نے دیواروں سے سر ٹکرا، ٹکرا لہو لہان ہو جانا اور ان کا کیا جانا ۔۔۔ بس “ہنہہ”۔

گجراتن مرد کی فطرت ایک لمحے میں جان جاتی ہے خوامخواہ پرکھنے کے حیلے کرتی ہیں کہ جلد بازی ان کی فطرت میں نہیں۔ بڑے امن اور سکون سے پوسٹ مارٹم کا عمل جاری رکھتیں۔ پوسٹ مارٹم کے نتائج کچھ بھی نکلیں ان کی بلا سے۔ جن کی فطرت میں ہارنا نہ لکھا ہو وہ مقدر تک سے لڑ جاتیں۔ یہاں بھی بات ان کے حق سچ پہ ہونے کی ہے۔ مکار اور دغا باز خواتین اس کیٹیگری میں آتی ہی نہیں نہ ہی وہ میرا مخاطب ہو سکتی ہیں۔ 

بات وفادار گجراتن کی ہو رہی ہو تو رن مریدی کا لفظ شاید گجرات کی خواتین کیلئے ہی بنا ہے۔ اپنی وفا شعاری سے ایسا قائل کرتیں کہ مرد بس انہی کا ہی، ہو کے رہ جاتا ہے۔ حتی کہ اپنی سوہنی کی خاطر ۔۔۔ مہینوال خود کو بپھری لہروں کے حوالے کرکے ڈوب جاتا ہے۔۔۔۔ اتنی خوبیاں ہونے کے بعد میرے خیال میں یہ ایک واحد  حق ہے، جو گجرات کی سوہنی کو مل پاتا ہے۔ الغرض! سوہنی کے دیس کی سوہنیاں واقعی سراہے جانے کے قابل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں