سُپرمین اِن اسلام: ایک جعلی کتاب کا قصہ…! (حمزہ ابراہیم)

”سپرمین اِن اسلام“ کے عنوان سے ایک کتاب قیام پبلیکیشنز لاہور نے 1994ء میں پہلی بار شائع کی، جس کا موضوع امام جعفر صادقؑ کے علمی کارنامے تھے۔ کتاب کے سر ورق پر بتایا گیا ہے کہ اسے 25 مغربی ماہرینِ مشرق نے لکھا ہے۔ یہ کتاب فارسی میں لکھی گئی ایک کتاب کا ترجمہ تھا جو عبد الکریم مشتاق صاحب نے سید کفایت حسین سے تیار کروا کر شائع کیا۔ فارسی کتاب کا عنوان ”مغز متفکر جہان شیعہ“ ہے اور اس کے مولف کا نام ذبیح الله منصوری (متوفی 1986ء) ہے۔ یہ کتاب پہلی بار ایران میں 1975ء میں شائع ہوئی۔ عربی میں اس کا ترجمہ ”الإمام الصادق كما عرفہ علماء الغرب“ کے عنوان سے بیروت سے شائع ہوا۔ کینیڈا میں مقیم ایک پاکستانی کوکب علی مرزا صاحب نے 1996ء میں اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کر کے”دی گریٹ مسلم سائنٹسٹ اینڈ فلاسفر امام جعفر ابن محمد الصادقؑ“ کے عنوان سے شائع کیا۔ گویا وہ انگریزوں کو بتانا چاہتے تھے کہ اُنہوں نے یہ کتاب بھی لکھ رکھی ہے۔ قیام پبلیکیشنز لاہور نے اس انگریزی ترجمے کو بھی پاکستان میں شائع کیا ہے۔ یہ سب نسخے کئی بار شائع ہو چکے ہیں اور ناشرین کی جیبیں نوٹوں کی برکت سے بھر چکی ہیں۔ فارسی کتاب کو ایرانی عالم آیت الله سید محمد حسین تہرانی صاحب نے اپنی کتاب ”امام شناسی“ کی اٹھارویں جلد میں شامل بھی کیا ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ پاکستانی شیعہ عوام میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔ایران و عراق کے بعض شیعہ علما پر اس کتاب نے ایسا اثر ڈالا کہ انہوں نے قرآن و حدیث کے سائنسی معجزات ڈھونڈنے میں کئی سال لگا دئیے۔ چونکہ وہ بھی ذبیح الله منصوری صاحب کی طرح میٹرک کی کتابوں کی حد تک ہی سائنس سے واقف تھے لہذا اپنی کتب میں کئی غلط باتیں سائنس سے منسوب کرتے رہے۔

ذبیح الله منصوری صاحب 1899ء میں ایران کے شہر سنندج میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم آلیانس سکول میں حاصل کی جو ایران میں کام کرنے والے فرانسیسی چلا رہے تھے۔وہیں سے انہوں نے فرانسیسی زبان سیکھی۔ بعد میں ان کے والد کا تبادلہ تہران ہو گیا اور وہ وہاں چلے گئے۔ جوان ہوتے ہی باپ کے سائے سے محروم ہو گئے اور خاندان کی کفالت کا بوجھ ان کے کندھوں پر آ گیا ،جس کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو گئے۔1922ء میں مختلف اخبارات اور جرائد میں بطور مترجم ملازمت شروع کی۔ انہوں نے 1986ء میں تہران میں وفات پائی۔ ان کی روزی کا ذریعہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ عوام و علما پسند کتابیں لکھنا بھی تھا۔ پاکستان میں اس کی مثال جناب نسیم حجازی وغیرہ ہیں۔ ایسے لوگ علمی اعتبار سے پختہ نہ تھے اور ان کی مالی ضروریات اس بات کا تقاضا کرتی تھیں کہ ایسی کتابیں لکھی جائیں جنہیں عوام ثواب کمانے کی نیت سے مطمئن ہو کر پڑھیں اور خرید کر بانٹیں۔ موجودہ زمانے میں پاکستان میں اوریا مقبول جان اور انصار عباسی صاحب ہوں یا ایران میں حسن عباسی، حسین شریعت مداری یا حسن رحیم پور ازغدی وغیرہ، ایسے ہی نیم خواندہ مگر ثواب دار لکھاریوں کی جدید کھیپ ہیں۔ان لوگوں کیلئے اسلام کو خطرے میں دکھانا اور پھر اس کو بچانا روزی کمانے کا ذریعہ ہے۔بدقسمتی سے ایسے لوگ ہٹلر قسم کے ”سادہ زندگی گزارنے والے“ نیم خواندہ رہبروں کیلئے گوئبلز کی جگہ بھی پُر کر رہے ہیں۔

عبد الکریم مشتاق بھی ایسی ہی شخصٰت تھے۔ اردو کتاب کے شروع میں لکھا ہے:

”عصر حاضر میں تہذیب کے مسئلہ کی اہمیت نے عالم اسلام کو ایک نازک بلکہ دشوار منزل پر لا کھڑا کیا ہے ۔۔ زیر نظر کتاب ہماری جدوجہد کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے ممتاز و منفرد ہے کہ اس سے قبل اردو زبان میں ایسی کاوش منظر عام پر نہیں آ سکی ہے۔ اس کتاب کا اصل مسودہ فرانسیسی زبان میں ہے ۔ اسے پچیس دانشوروں کی ایک جماعت نے مرتب کیا ہے۔“

اگلے صفحات میں ”مقدمہ فارسی مترجم“ کے ذیل میں ان مفروضہ دانشوروں کے اسمائےگرامی بھی لکھے گئے ہیں جنہوں نے مرکز مطالعات اسلامی سٹراس برگ میں ایک تحقیقی پروگرام میں حصہ لیا اور اس کتاب شریف کو مرتب کیا۔ان میں سے اکثر نام یورپی ہیں مگر دو نام مسلمان ہیں جن میں سے مسٹر موسیٰ صدر اصل میں لبنانی شیعہ عالم آیت الله موسیٰ صدر ہیں اور دوسرے مسٹر حسین نصر اصل میں معروف مصنف ڈاکٹر حسین نصر ہیں۔ ان دو حضرات نے کبھی اس کتاب کو لکھنے میں حصہ ڈالنے کا اظہار نہیں کیا۔ باقی 23 نام ذبیح الله منصوری صاحب کی اپنی اختراع ہیں اور ان ”سائنس دانوں“ کا ان یونیورسٹیوں سے کوئی تعلق نہیں رہا، جن میں سے اکثر وجود ہی نہیں رکھتیں۔ اس قسم کی کوئی کتاب فرانسیسی یا کسی اور یورپی زبان میں لکھی بھی نہیں گئی۔ مبینہ فرانسیسی کتاب کا کوئی نسخہ ایران کی کسی لائبریری میں بھی موجود نہیں ہے ۔ فرانس کے شہر سٹراس برگ میں اس قسم کا تحقیقی مرکز بھی کبھی نہیں تھا۔کتاب میں جاہلانہ باتیں لکھ کر امام صادق ؑ سے منسوب کی گئی ہیں اورحوالے فراہم کرنے کی زحمت نہیں کی گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر امام جعفر صادقؑ کے سائنسی کارناموں پر کسی قسم کی تحقیق ممکن ہوتی تو اس کام کیلئے ایک سائنس کی تاریخ کے موضوع پر تحقیق کرنے والے کسی یونیورسٹی کے پروفیسر کو محض ایک سال درکار ہو گا۔ پچیس سائنس دانوں کی ٹیم بنا کر کئی ملین ڈالرز خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ اس موضوع پر آج تک صحافی قسم کے لوگوں کے علاوہ کسی نے قلم نہیں اٹھایا ہے۔

جہاں تک کتاب کے اندر لکھی گئی باتوں کا تعلق ہے تو ان میں سے اکثر غلط ہیں۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ امام صادقؑ (متوفی765ء) بطلیموس کی فلکیات اور جغرافیہ کے علاوہ اقلیدس کا ہندسہ اوریونانی فلسفہ پڑھاتے تھے۔ مؤلف صاحب نے اس دعوے کا کوئی حوالہ فراہم کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ چونکہ امام صادقؑ کے زمانے میں ان کتابوں کا ترجمہ نہیں ہوا تھا لہٰذا منصوری صاحب کا دعویٰ ہے کہ یہ علوم انہوں نے اپنے والد امام باقرؑ سے سیکھے۔ البتہ منصوری صاحب کو یہ معلوم نہیں کہ یونانی علوم نہایت ناقص تھے اور یونانی علما کی اہمیت محض اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اہم سوالات اٹھائے اور جہالت کے زمانے میں ان کے جواب ڈھونڈنے کی روایت ڈالی۔مصر سے ملنے والی یونانی کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ بنی امیہ کے دور میں شروع ہو چکا تھا کیوں کہ فولاد بنانے، سونے اور چاندی کی کثافت ماپنے، نقشے تیار کرنے، بیت المال کا حساب کرنے اور مجنیق وغیرہ بنانے کیلئے ان کی ضرورت تھی۔ عباسی خلیفہ مامون نے دار الترجمہ قائم کر کے اس کام میں تیزی پیدا کی اور رومی سلطنت میں وفود بھیج کر یونانی کتابیں منگوائیں۔ اگلی صدیوں میں جب مسلمان سائنس دانوں نے ان پر مزید کام کیا تو انہوں نے امام صادق کا ذکر نہیں کیا بلکہ ان علوم کو یونانیوں سے ہی منسوب کیا۔ معروف شیعہ عالم خواجہ نصیر الدین طوسی (متوفی 1274ء) نے بھی اپنی کتاب ”التذکرہ فی علم الہیہ“ میں اپنے سائنسی کام کی بنیاد بطلیموس پر رکھی۔

منصوری صاحب کے بقول بطلیموس(متوفی 170ء) نے اپنی کتاب ”مجسطی“ میں زمین کے گول ہونے کا تصور پیش کیا تھا ، جبکہ یہ تصور ارشمیدس (متوفی 212 قبل مسیح) اور ارسطرخس(متوفی 230 قبل مسیح) اس سے پہلے بیان کر چکے تھے۔ یہ بات یونانیوں کے عام مشاہدے کے مطابق تھی کہ جب مصر سے کشتیاں یونان جاتیں توافق پر ڈوبتے ہوئے غائب ہو جاتی تھیں، اور واپس آتے ہوئے افق سے یکدم نمودار ہوتی تھیں جو سمندر کی سطح کے کروی ہونے کی دلیل تھی۔ اس بات کو مصر کے مختلف مقامات پر ایک وقت پر ایک چیز کے سائے کے مختلف زاویے بنانے سے بھی ثابت کیا گیا تھا اور اس تجربے سے یونانی سائنس دانوں نے زمین کے قطر کو بھی ماپ لیا تھا۔منصوری صاحب اس نظرئیے کو امام صادقؑ سے منسوب کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امام صادقؑ نے یہ بات مجسطی کا عربی ترجمہ ہونے سے پہلے عربوں کو بتائی۔اپنے اس دعوے کے ثبوت میں انہوں نے کوئی روایت پیش نہیں کی البتہ اصول کافی میں زمین کے بارے میں امام صادقؑ سے جو روایت نقل کی گئی ہے وہ یہ ہے :

”ابان بن تغلبؒ نے امام صادقؑ سے پوچھا کہ زمین کس چیز پر رکھی ہے؟ امامؑ نے فرمایا مچھلی پر، پوچھا مچھلی کس پر ہے؟ فرمایا پانی پر، پوچھا پانی کس پر ہے، فرمایا ایک چٹان پر، پوچھا چٹان کس پر ہے، فرمایا گائے کے سینگ پر، پوچھا گائےکس پر ہے، فرمایا کیچڑ پر، پوچھا کیچڑ کس پر ہے، فرمایا افسوس! اس مقام سے آگے علما کی عقل حیرت میں پڑ جاتی ہے۔“( محمد بن یعقوب كلینى، الكافی، ج 15، ص 221، دار الحدیث قم، چاپ اول، ‏1429 ہجری)

روایات کی کتب میں اس قسم کی بے شمار روایات موجود ہیں جن کا مجسطی میں بیان کئے گئے نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس کے علاوہ مجسطی میں بہت سی باتیں غلط بھی ہیں اور مجسطی کو آئمہ دین سے نسبت دینے میں ان غلطیوں کو بھی ان کے سر ڈالنے کا خطرہ موجود ہے کہ جس کا احساس منصوری صاحب کو اپنی جہالت کی وجہ سے نہ ہو سکا۔اس کی ایک مثال سات آسمانوں کے نظرئیے کی ہے۔ بطلیموس کے زمانے میں آسمان کی طرف دیکھنے کیلئے دوربین ایجاد نہیں ہوئی تھی اور آسمان کو دیکھنے کیلئے دوربین کا استعمال سب سے پہلے گلیلیو (متوفی 1642ء) نے کیا۔ بطلیموس کے زمانے تک آنکھ کے مشاہدات سے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ سورج، چاند اور آنکھ سے دکھائی دینے والے پانچ سیارے ہر شب الگ مقام سے طلوع ہوتے ہیں۔ بطلیموس نے پانچ سیاروں اور سورج اور چاند کیلئے سات آسمان فرض کئے اور کہا کہ یہ زمین کے گرد کروں کی طرح ہیں کہ جن کا مرکز زمین ہے۔ باقی ستارے جو ہر رات اسی پرانے طے شدہ مقام پر ہی طلوع ہوتے تھے ان میں سے کچھ کے نام تو رکھے گئے مگر ان کو پہلے آسمان کی زینت اور خوبصورتی کے لئے نصب کئے گئے چھوٹے چھوٹے چراغوں کے علاوہ کچھ نہ سمجھا گیا جو اپنے طے شدہ راستوں پر تیر رہے تھے۔ اب سائنس ان باتوں کو غلط ثابت کر چکی ہے۔ اب ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ زمین آسمان سے الگ نہیں ہے بلکہ اس کا حصہ ہے۔ زمین اتنی چھوٹی ہے کہ اس کو آسمان سے وہی نسبت ہے جو ذرے کو صحرا سے ہوتی ہے۔ ستارے بہت دور ہیں اور وہ ہر شب مشرق سے طلوع ہو کر مغرب کی طرف آہستہ سے تیرتے ہوئے اس لئے دکھائی دیتے ہیں کہ زمین گھوم رہی ہے۔ اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اگر یہ باتیں اس زمانے میں کوئی کرتا تو اس کو دیوانہ قرار دیا جاتا۔ ممکن ہے کہ اسے مرتد قرار دے کر سر تن سے جدا کر دیا جاتا۔ انہی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے کوئی دینی رہنما کبھی بھی اپنے مخاطب کی ذہنی سطح سے اوپر کی بات نہیں بتا سکا اور دینی کتب سے ہمیں یہی درس ملتا ہے کہ اپنے زمانے کی سائنس سے نہ ٹکرایا جائے، جیسا کہ اوپر دی گئی روایت میں امام صادق نے اپنے ماحول کی عرب دانش کے مطابق ہی جواب دیا۔

منصوری صاحب نے آگے چل کر امام صادقؑ کو آکسیجن کی دریافت کا الزام بھی دیا ہے اور یہ بھی لکھ ڈالا ہے کہ خالص آکسیجن گوشت کو جلا دیتی ہے۔ بقول شخصے، اب یہ تو کسی کتاب میں نہیں لکھا؟ دسویں جماعت کا بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔انہوں نے امام صادقؑ کو عناصر اربعہ کے تصور کو غلط ثابت کرنے والی شخصیت بھی قرار دیا جبکہ یہ تصور عباسی دور کے سبھی مسلمان سائنس دانوں میں عام رہا ہے ۔آگے چل کر منصوری صاحب امام صادقؑ کو تصوف کا بانی قرار دیتے ہیں۔یہ ایک کھلا تضاد ہے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں سائنس کا زوال تصوف کے عام ہونے سے ہوا۔ انسانی سرمایہ کشف و الہام میں صرف ہونے لگا تو سائنس میں کام کرنے والی افرادی قوت میں شدید کمی واقع ہوئی ۔ سب سے پہلے یہ انحراف امام غزالی (متوفی 1111ء) کی ”تہافۃ الفلاسفہ“ کے نتیجے میں اہلسنت میں آیا اور بعد میں ملا صدرا (متوفی 1635ء) نے شیعوں میں سائنس کی جو رمق باقی تھی، اسے بھی ختم کر دیا۔ ان دو حضرات نے عقلی علوم میں دلچسپی رکھنے والی مسلمان اقلیت کو شبہ علم (pseudo-science) کی کھائی میں دھکا دے کر دنیاوی علوم سے دور کر دیا۔

آگے چل کر جابر ابن حیان(متوفی 803ء) کو جدید کیمسٹری کا بانی قرار دیا گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جابر نے کیمسٹری کا کوئی قانون کشف نہیں کیا ہے۔ جابر نے اپنے زمانے میں میسر دھات سازی کے یونانی علوم کی بنیاد پر ہی کام کیا۔ اس نے جانوروں کے گوبر سے نا خالص نائٹرک ایسڈ بنایا جو دھاتوں کی سطح سے زنگ اتارنے کے کام آتا تھا۔ یہ کام بلا شبہ اس دور کے حساب سے بڑا کارنامہ ہے، لیکن اس کو امام صادقؑ سے نسبت دینے سے جابر کی غلطیاں بھی ان سے منسوب ہو جائیں گی۔یہاں ایک اور نکتے پر بھی توجہ دینا ضروری: دین اور سائنس میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ سائنس میں نئے لوگ پرانوں سے بہتر ہوتے ہیں۔ مثلا آج کل میٹرک کا بچہ بھی جابر بن حیان سے کہیں بہتر کیمسٹری کو جانتا ہوتا ہے۔ لیکن دین کے معاملے میں پرانے بزرگان کا مقام اپنے بعد میں آنے والوں سے ہمیشہ بلند رہتا ہے۔ مثلا ً آج کا کوئی محدث امام بخاریؒ یا شیخ کلینیؒ سے بہتر نہیں ہو سکتا۔ دین اور سائنس میں جوڑ پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے دینی بزرگان اور کتب کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ دین اور سائنس کبھی ایک دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتے۔

منصوری صاحب کی کتاب چار سو ستر صفحات پر مشتمل ہے۔ ہر صفحے پر لمبی لمبی پھینکی گئی ہے۔ تھوڑے لکھے کو کافی سمجھیں اور باقی لطیفے کتاب ڈھونڈ کر خود پڑھیں۔


ڈاکٹر حمزہ ابراہیم مذہب، سماج، تاریخ اور سیاست پر قلم کشائی کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں