لاہور: داتا دربار خودکش حملے کی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشاف سامنے آگئے

لاہور (ڈیلی اردو) گزشتہ روز لاہور میں صوفی بزرگ داتا گنج بخش کے مزار کے داخلی دروازے پر خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس میں 11 افراد شہید جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے، شہدا میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل تھے تاہم اب اس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آگئی ہے جس میں انتہائی سنسنی خیز انکشاف کیا گیاہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب فرانزک ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ خودکش حملہ آور نے بھارت کے بنے ہوئے بوٹ پہن رکھے تھے تاہم فی الحال ابھی تک خودکش حملہ آور کی شناخت نا ہو سکی، بظاہر حملہ آور قبائلی علاقے کا معلوم ہوتا ہے یا پھر وہ افغانستان کا شہری بھی ہو سکتا ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگرد کو کسی بڑی تنظیم کا تعاون حاصل تھا۔

سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کہ خودکش بمبار کو دھماکے سے اڑانے سے قبل جس طرح حملہ آور کا چال چلن اور رویہ اس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ اسے کوئی مہلک ٹیکہ لگایا گیاہے تاکہ وہ خود کو دھماکے سے اڑانے سے قبل کسی قسم کی گھبراہٹ یا تذبذب کا شکار نہ ہو۔

اتبدائی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور کی عمر ممکنہ طور پر 14 سے 16 سال کے درمیان ہے ، وہ داتا دربارکی ساتھ ملحقہ گلی سے نکلا اور پولیس کی گاڑی کے سامنے آ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جو کہ دروازے کے سامنے کھڑی تھی ۔

خودکش حملے میں لوکل بنایا گیا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جبکہ بال بیرنگ حملہ آور کی جیکٹ میں تھے ۔حملہ آور کا پتا سیف سٹی کیمروں کے ذریعے لگایا گیا ہے اور دہشتگرد کی تصویر انسداد دہشتگردی ڈپارئمنٹ اور دیگر اداروں کو اس کی ویڈیو فراہم کر دی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں