222

سعودی اخبار نے ایران پر حملے کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد (تجزیہ؛ احمد خان) ایران نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ دنیا بھر کیلئے خطرہ ہے امریکہ فوری سرجیکل سٹرائیک کرے۔ سعودی اخبار عرب نیوز نے اپنی ایڈیٹوریل میں مطالبہ کیا ہے۔

http://www.arabnews.com/node/1497651/editorial

سعودی عرب کے معروف اخبار عرب نیوز نے اپنے ایڈیٹوریل میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فجیرہ بندرگاہ پر سعودی اور اماراتی آئیل ٹنکرز کو نقصان پہنچانے اور سعودی عرب کے تیل پائپ لائین پر حملہ کو جواز بناتے ہوئے ایران پر حملہ کیا جائے۔

یاد رہے کچھ رو پہلے خلیج فارس میں متحدہ عرب امارات کے فجیرہ بندرگاہ کے قریب چار جہازوں کو سبوتاژ کرکے نقصان پہنچانے کی کوشش کئ گئی تھی جس میں دو سعودی، ایک امراتی اور ایک ناروے کا جہاز شامل تھا۔ تاہم جہازوں کو کتنا نقصان پہنچا کوئی تفصیلات نہیں اور نہ ہی کوئی ویڈیو یا تصاویر سامنے نہ آسکی لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کیلئے سازش ہوسکتی ہے۔

اخبار نے شام پر امریکی حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “خان شیخون پر بشار الاسد نے جب گیس حملہ کیا تھا تو امریکہ اور یورپ نے ری ایکشن میں شام پر حملے کئے تھے۔ چونکہ امریکہ اور یورپ روایت بنا چکے لہذا اب ایران پر بھی اسی طرح حملہ بنتا ہے۔ (یاد رہے دو سال بعد ساری دنیا مان گئی ہے کہ شام میں گیس حملے اس لئے اسٹیج کئے تھے تاکہ شام پر حملے کا جواز بناسکے)۔

ماہرین کے مطابق فجیرہ بندرگاہ پر آئیل ٹنکرز کو نشانہ بنانا ایک سازش سے زیادہ کچھ نہیں اور آئیل پائپ لائینز پر حملے یمن نے کئے ہیں جو نہتے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت امریکہ و برطانیہ کے شدید بمباری کا چار سال سے مقابلہ کررہے ہیں یمن میں بچوں سمیت دو کروڑ آبادی کو بھوکا مارا جارہا ہے، نسلیں برباد کی گئیں۔

عرب نیوز اخبار آگے لکھتے ہیں کہ شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ”سانپ کا سر کچل دو” اور اب ولیعد محمد بن سلمان نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو مشرق وسطی کا ہٹلر کہا ہے جو نرم لہجہ نہیں سمجھتے لہذا ایران کو نشان عبرت بنائیں۔ شاہ عبدللہ کا “سانپ کا سر کچل دو” والی خبر جب ویکی لیکس میں شائع ہوئی تھی تب سعودی عرب تردید کررہے تھے۔

سعودی ولیعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کو آسانی سے ہٹلر کہتے ہیں لیکن حرم پاک کے پاسبانوں اور نام نہاد خادم حرمین شریفین نے امریکہ، اسرائیل، فرانس اور برطانیہ سے مل کر پہلے لیبیا کو تباہ و برباد کیا، پھر شام کا دہشتگرد داعش، احرارالشام اور جبہۃ النصرہ کے ذریعے اینٹ سے اینٹ بجایا اور اب یمن میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔

سعودی عرب یمن کے حوثی قبائل کو ہفتوں میں ختم کرنے والے تھے چار سال میں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا، اب ایران پر حملے کیلئے امریکہ اور اتحادیوں کو اکسا رہے ہیں۔

تجزیہ نگار نے سوال کیا ہے کہ کیا مشرق وسطی میں امریکی پٹرول سٹیشنز (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین) ایران کی طاقتور فوج کا مقابلہ کرپائیں گے؟

کیا لبنان کی حزب اللہ، یمن کی انصار اللہ اور عراق کی حشدلشعبی جیسے طاقتور ملیشیاز کو مکمل طور پر ختم کرنا کسی کے بس میں ہے؟
دنیا بھول گئی ہے ایران، روس اور حزب اللہ نے شام میں امریکہ، یورپ سعودی و امارات اتحاد کو شکست سے دوچار کیا ہے؟ اور ان کو دکھ بھی یہی ہے۔

جب روس نے بشار الاسد کو اکیلا نہیں چھوڑا تو خطے کی سب سے بڑی طاقت ایران کا ساتھ نہیں دے گا کیا؟ اگر روس ایران کے ساتھ کھڑا ہوا تو دنیا بھر میں تیسری جنگ عظیم نہیں چھیڑ جائے گی؟

کیا مسلمہ اُمّہ پوچھ سکتی ہے کہ اپنی نام نہاد طاقت کے زعم میں مبتلا مسلمہ کے چیمپئن پوری دنیا کو آگ میں کیوں جھونکنے پر تلے ہوئے ہیں؟


نوٹ: تحریر میں خیالات تجزیہ نگار کے ہیں ۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں