175

امریکا ایران کشیدگی: ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اسلام آباد پہنچ گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ ہنگامی دورہ پاکستان کے سلسلے میں اسلام آباد پہنچ گئے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ ہنگامی دورہ پاکستان کے سلسلے میں اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام اور پاکستان میں ایران کے سفیر نے ان کا استقبال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ ظریف ایران امریکا کشیدگی کے عروج کے دور میں پاکستان آئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جواد ظریف اپنے دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

ملاقاتوں میں پاک ایران تعلقات، امریکہ اور ایران کشیدگی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا جبکہ دورے کے موقع پر پاک ایران وزرائے خارجہ کے درمیان باضابطہ دوطرفہ مذاکرات بھی ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ وزیر اعظم کے دورہ ایران کا فالو اپ ہے، اس موقع پر وزیر اعظم کے دورہ کے دوران ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد اور پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

دورے میں دو طرفہ مسائل کے حل بالخصوص سرحدی سیکیورٹی کے امور زیر غور آئیں گے اور ایران وزیر خارجہ پاکستانی قیادت سے علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی بات چیت کریں گے۔

ملاقاتوں میں مشرق وسطی کی صورتحال اور امت کو درپیش مسائل بھی زیر غور آئیں گے۔ ایران پر امریکی پابندیاں، گیس پائپ لائن منصوبے سمیت دیگر امور پر بھی بات چیت ہوگی۔

خیال رہے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف اسے وقت میں پاکستان کے دورے پر آئے ہیں جب ایران اور امریکہ میں کشیدگی عروج پرہے۔

یاد رہے چند روز قبل پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ میں تاخیر کے معاملے پر پاکستان نے ایرانی خط کا جواب دیتے ہوئے ایران پر عالمی پابندیوں کو جواز قرار دیا تھا۔

پاکستانی وزارتِ پٹرولیم نے اس نوٹس پر اپنے جواب میں موقف اختیار کیا تھا کہ ایران پرعالمی پابندیاں منصوبہ کی تکمیل میں رکاوٹ ہیں،پابندیاں ختم ہونے پرمنصوبہ مکمل کرلیں گے۔

یاد رہے کہ 30  مئی کو خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس مکہ معظمہ میں ہوں گے ، جس میں خطے کو درپیش سلامتی کے خطرات پرغور اور ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پرطے کیا جائے گا جبکہ اگلے روز 31 مئی کو اسلامی سربراہ اجلاس بھی مکہ معظمہ میں طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے 21 اپریل کو وزیرِ اعظم عمران خان نے ایران کا دورہ کیا تھا ، دورے کے دوران عمران خان نے ایرانی صدر اور سپریم لیڈر اور اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں تھیں جبکہ پاک ایران تعلقات پر وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے تھے۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا دوطرفہ معاہدوں پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا، دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ پاک ایران بارڈر کا استعمال امن اور دوستی کیلئے بڑھایا جائے گا اور دہشت گردی کی روک تھام کیلئےحکمت عملی بنائی جائے گی، اس کے علاوہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئےحکمت عملی بنائی جائے گی۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کا مشترکہ قونصلر کمیشن اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، مشترکہ قونصلر کمیشن کا اجلاس رواں سال جون میں ہو گا۔

دونوں ممالک میں صحت کے شعبے میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے، باہمی اشتراک سے شعبہ صحت میں تکنیکی سہولتوں کو فروغ دیا جائے گا، پاکستان اور ایران میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا، معاشی، تجارتی اور اقتصادی فروغ کیلئے مشترکہ اقدامات کئے جائیں گے۔

وزیراعظم نے ایرانی صدرحسن روحانی کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی، دورے کی تاریخوں کا تعین سفارتی رابطوں کے بعد کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں