پاکستانی صحافی سرل المیڈا نے ‘ورلڈ پریس فریڈم ہیرو’ کا ایوارڈ وصول کر لیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کے معروف صحافی و کالم نگار اور ڈان نیوز کے اسسٹنٹ ایڈیٹر سرل المیڈا نے عالمی پریس فریڈم کا 71 واں ایوارڈ وصول کر لیا ہے۔

سرل المیڈا کو 100 سے زائد ممالک میں ایڈیٹرز، میڈیا ایگزیکٹوز اور نامور صحافیوں کے عالمی نیٹ ورک ‘آئی پی آئی’ کے سالانہ عالمی کانگریس اور جنرل اسمبلی کے دوران خصوصی تقریب میں اس اعزاز سے نوازا گیا۔

آئی پی آئی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ ‘ہمیں پاکستان کے سرل المیڈا کو آئی پی آئی ورلڈ پریس فریڈم ہیرو 2019 کے ایوارڈ سے نوازنے پر فخر ہے، جو ڈان کے کالم نگار اور اسسٹنٹ ایڈیٹر ہیں جبکہ ہمیں سرل اور ان کے اخبار کی دلیرانہ صحافت کا اعتراف ہمارے لیے عزت کی بات ہے۔’

سرل المیڈا نے ایوارڈ وصول کرنے کے بعد ایک ٹویٹ کیا اور اس ایوارڈ کو ڈان اخبار کے ایڈیٹر ظفر عباس کے نام کیا۔

سرل نے لکھا تھا کہ ’سچ یہ ہے کہ ڈان کے ایڈیٹر ظفر عباس ہیرو ہیں جنہوں نے سخت دباؤ، جبر، ڈرانے اور دھمکیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے اخبار اور سٹاف کے لیے جنگ لڑی۔‘

یاد رہے کہ آئی پی آئی نے اپریل میں ایوارڈ کے وصول کنندہ کے لیے سرل المیڈا کے نام کا اعلان کیا تھا۔

آئی پی آئی کا ‘ورلڈ پریس فریڈم ہیرو ایوارڈ’ سے ان صحافیوں کو نوازا جاتا ہے جنہوں نے آزادی صحافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہو، بالخصوص ان حالات میں جب ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔’

انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کی پوسٹ میں کہا گیا کہ سرل المیڈا کو یہ ایوارڈ، پاکستان میں سول عسکری تعلقات کے حوالے سے ان کی ‘نازک’ اور ‘زبردست’ کوریج پر دیا گیا۔

ویانا کے انسٹی ٹیوٹ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ‘سرل کی سول عسکری تعلقات کے حوالے سے چھان بین انہیں اور ڈان کو ہدف بنانے کی وجہ بنے۔’

سرل المیڈا کا نام 2016 میں کچھ عرصے کے لیے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں بھی رکھا گیا تھا۔

بعد ازاں 2018 میں ان کے خلاف عدالت میں غداری کا مقدمہ بھی دائر کیا گیا تھا اور ایک مرتبہ پھر ان کا نام عارضی طور پر ای سی ایل میں شامل کرلیا گیا تھا۔

سرل المیڈا نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور صحافت میں آنے سے قبل انہوں نے مختصر عرصے کے لیے بحیثیت ایک وکیل کے کام کیا۔

وہ ورلڈ پریس فریڈم ہیرو کا اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے پاکستانی صحافی ہیں، اس سے قبل خبر ایجنسی پاکستان پریس انٹرنیشنل (پی پی آئی) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر اسلم علی کو بھی اس اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

آئی پی آئی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر باربرا ٹریونفی کا کہنا تھا کہ ‘سرل المیڈا نے شدید خطرات کے باوجود بہترین کام کیا جو پاکستان کی جمہوریت کے لیے اہم ہے’۔

انہوں نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ سرل المیڈا کے خلاف عائد تمام الزامات کو واپس لے لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں