80 لاکھ کشمیری 26 روز سے محصور، قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 نوجوان شہید

سری نگر (ڈیلی اردو/ نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسز کا 80لاکھ سے زاید کشمیریوں کامحاصرہ 26ویں روز بھی جاری رہا اور علاقے میں انسانی بحران سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔

کرفیوں اور پابندیوں کے باعث بچوں کی غذا اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت کھانے پینے کی اشیا ختم ہو چکی ہیں جس کے باعث موت کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔

قابض بھارتی کی فائرنگ سے مزید 2 نوجوان شہید ہو گئے جبکہ جمعہ کے روز بھارتی آرمی چیف کے مقبوضہ وادی کے دورے کے موقع پر کشمیریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے اس دوران قابض فورسز سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

کشمیر میڈیا سرو س کے مطابق بھارت نے مقبوضہ علاقے میں ریاستی دہشت گردی میں اضافہ کردیا ہے اورنہتے کشمیریوں پر مظالم میں تیزی لائی ہے۔

بھارت نے وادی کشمیر کو کشمیریوں کے لیے ایک بڑی جیل اور جہنم میں تبدیل کردیا ہے۔ مقبوضہ وادی کے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اورکرفیو اور پابندیوں کی وجہ سے انہیں بچوں کی غذا اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت کھانے پینے کی اشیا کی سخت قلت کا سامنا ہے۔

قابض انتظامیہ نے بیرونی دنیا سے مقبوضہ کشمیر کی زمینی صورتحال چھپانے کے لیے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون، موبائل فون اور ٹی وی چینل سمیت تمام مواصلاتی ذرائع مسلسل بند کر رکھے ہیں۔

وادی کشمیر میں اسکول مسلسل بند ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض انتظامیہ نے حریت رہنمائوں، سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔

کے ایم ایس کے مطابق اب تک 10ہزار سے زاید افراد کو گرفتار کر کے جیلوں، تھانوں اور عارضی حراستی مراکز میں بند کردیاگیا ہے۔

دریں اثنا لوگوں نے کرفیو اور دیگر پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھارتی قبضے اور مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے خلاف سرینگر اور مقبوضہ علاقے کے دیگر علاقوں میں زبر دست مظاہرے کیے۔

پابندیوں کی وجہ سے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور مقبوضہ علاقے کی دیگر مساجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کی جا سکی ۔ بھارتی حکومت کے مذموم اقدام کے خلاف جموں خطے کے علاقے بانیہال میں بھی ایک مظاہرہ کیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جمعہ کو لاپتا افراد کے عالمی دن کے موقع پر جاری کیے گئے ا عداد و شمار میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مقبوضہ کشمیر میں 8 ہزار سے زائد افراد کو گرفتاری کے بعد دوران حراست لاپتا کیا۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں مزید 2 نوجوان شہید کر دیے ۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بارہمولہ کے علاقہ سوپور میں بھارتی فوج نے تلاشی اور سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 نوجوان شہید ہو گئے۔

ادھر بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل بِپن راوت جمعہ کو 2 روزہ دورے پر مقبوضہ کشمیر پہنچ گئے۔ اس دوران وادی میں عاید پابندیوں میں مزید سختی کر دی گئی ہے جبکہ نمازِ جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارتی آرمی چیف جمعے کو کشمیر کے ریاستی دارالحکومت سرینگر پہنچے جہاں انہوں نے مقامی فوجی کمانڈروں کے ساتھ بند کمرے میں ایک اجلاس کیا۔

بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ اور چنار کور کے کمانڈر کنول جیت سنگھ ڈھلون بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔

بھارتی آرمی چیف کو کشمیر کی موجودہ صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی جس کے بعد بری فوج کے سربراہ نے علاقے میں آپریشنل تیاریوں کا جائزہ بھی لیا۔

ذرائع کے مطابق جنرل بِپن راوت نے ایل او سی کا فضائی معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے ایل او سی کے قریب واقع چوکیوں پر تعینات فوجی افسران اور جوانوں سے ملاقاتیں کیں اور موجودہ صورتِ حال سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

سخت ترین حفاظتی انتظامات اور لوگوں کی نقل و حرکت پر عاید پابندیوں کے باوجود سرینگر کے بعض مقامات پر لوگوں نے مظاہرے کیے ہیں۔ اس دوران مظاہرین اور حفاظتی دستوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں