اسرائیلی طیاروں کی شام میں بمباری، 18 افراد شہید

دمشق (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسی) شام میں البوکمال کے علاقے میں اتوار کی نصف شب کے بعد اسرائیلی جنگی طیاروں کی بم باری میں ایرانی فورسز اور حزب اللہ ملیشیا کے 18 اہلکار شہید ہوگئے۔

پیر کے روز شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ “البوکمال میں ایرانی فورسز اور حزب اللہ ملیشیا کے کئی ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں 18 اہلکار شہید ہوگئے۔

بی بی سی نیوز کے ذرائع کے مطابق عراق کے سرحد علاقے القائم کے متوازی شامی علاقے البوکمال میں 3 زور دار دھماکے سنے گئے۔ مذکورہ ذرائع نے واضح کیا کہ دھماکوں میں عراقی شیعہ ملیشیا کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے ارکان جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔

المرصد کا کہنا ہے کہ دھماکے لڑاکا طیاروں کی بم باری کے نتیجے میں ہوئے تاہم ان طیاروں کی شناخت ابھی تک نامعلوم ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی نے شام کی ایک اپوزیشن جماعت کے حوالے سے بتایا ہے کہ فضائی حملوں میں ایران نواز عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کی فورسز کے ہتھیاروں کے گودام کو نقصان پہنچا۔

متعدد ذرائع کے مطابق ایران نے البوکمال کے علاقے میں مختلف ملیشیاؤں کے ارکان کو تعینات کیا ہوا ہے۔ ان میں لبنان کی حزب اللہ اور عراق کی حزب اللہ کے علاوہ النجباء، فاطمیوں اور زینبیون شامل ہے۔ ان تمام ملیشیاؤں کی قیادت ایرانی پاسداران انقلاب کے ہاتھ میں ہے۔

ایرانی ملیشیاؤں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران عراق شام سرحد پر بالخصوص البوکمال شہر میں اپنے وجود کو مضبوط بنایا ہے۔

ایران نے شام میں ایک نیا فوجی اڈہ بنا لیا ہے اور وہاں ہزاروں فوجیوں کو ٹھہرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس بات کا انکشاف امریکی چینل “فوكس نيوز” نے متعدد مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے کیا۔

ایران کے اس خفیہ منصوبے کا نام “امام علی کمپلیکس” ہے اور اس کی منظوری تہران میں اعلی قیادت کی جانب سے دی گئی۔ منصوبے کی تکمیل کی تمام تر نگرانی ایرانی پاسداران انقلاب کی سمندر پار کارروائیوں کی ذمے دار القدس فورس کے ہاتھوں میں ہے۔

‘فوکس نیوز’ چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس مغربی انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے فراہم کردہ مصدقہ اطلاعات ہیں۔ اس اڈے کے بارے میں معلومات کے ساتھ سیٹلائٹس کی مدد سے اس کی تصاویر بھی حاصل کی گئی ہیں۔ ایک تصویر میں عراق اور شام کی سرحد پر ایک فوجی اڈے کو زیر تکمیل دیکھا جاسکتا ہے۔

رواں سال مئی میں فوکس نیوز نے بتایا تھا کہ ایران ایک سرحدی گذر گاہ بنا رہا ہے جو شام میں مذکورہ نئے کمپلیکس سے دور نہیں۔ اس سے قبل رواں سال عراق اور شام کے درمیان البوکمال کی سرحدی گذر گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں اسے شدید نقصان پہنچا۔

گذشتہ برس ایرانی جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے بعد تہران نے اشتعال انگیز کارروائیاں انجام دیں۔ یہ کارروائیاں ایران کے خلاف عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کو اٹھانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کے طور پر کی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں