افغانستان: خوست میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے تحریک طالبان پاکستان کا ایک اہم کمانڈر ہلاک

اسلام آباد (ش ح ط) افغانستان کے صوبے خوست میں گولونوں مہاجرین کیمپ کے قریب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے قاری حسین گروپ کا سربراہ خنظلہ گیلامان عرف قاری سیف اللہ محسود کو ہلاک کردیا۔

امیر خنظلہ عرف سیف اللہ محسود کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خودکش بمباروں کو تربیت دینے کا ماہر تھا۔

قبائلی ذرائع کے مطابق قاری سیف اللہ محسود کو خوست میں مہاجرین کیمپ کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

ہلاک طالبان کمانڈر پاکستان کے معروف قوال امجد صابری شہید اور سماجی کارکن و صحافی خرم ذکی شہید کے قتل میں بھی ملوث تھا۔

ہلاک کمانڈر پاکستان میں بم دھماکوں اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور بعد میں موقع سے فرار ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر کا قتل بظاہر تنظیم کے متحارب دھڑوں کے درمیان آپس کی لڑائی کا شاخسانہ ہے۔

طالبان کے دیگر گروپوں کے ساتھ اختلافات کے نتیجے میں خنظلہ گیلامان عرف قاری سیف اللہ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان چھوڑ کر خوست چلے گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں