پاکستان اور بھارت کے مابین جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست کا سالانہ تبادلہ ہوا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان میں جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کےنمائندے کےحوالے کی گئی۔

ادھر بھارتی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کےنمائندے کےحوالےکی گئی۔

دفتر خارجہ کے مطابق فہرستوں کا تبادلہ دوطرفہ جوہری تنصیبات، سہولیات پر عدم حملے کے معاہدے کے تحت ہوا، دونوں ممالک ہرسال یکم جنوری کو ایک دوسرےکواپنی جوہری تنصیبات،سہولیات سےآگاہ کرتےہیں اور یکم جنوری 1992 سے یہ سلسلہ جاری ہے۔

دوسری جانب حکومت پاکستان نے پاکستان میں قید دوسو بیاسی ہندوستانی قیدیوں کی تفصیلات بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پچپن شہری اور دو سو ستائیس ماہی گیروں کی فہرست اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی گئی،یہ اقدام پاکستان اور بھارت کے مابین قونصلر رسائی معاہدہ کی دفعات کے مطابق کیا گیا ہے۔۔

معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو سالانہ دو بار یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایک دوسرے کی تحویل میں قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرنا ہوگا، تاہم ابھی تک بھارتی حکومت نے پاکستانی قیدیوں کی فہرست پاکستان ہائی کمیشن کے ساتھ شیئر نہیں کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں