جسٹس قاضی فائز عیسی کیس: ایک جمہوری حکومت کو ججز کی جاسوسی پر ختم کیا جاچکا ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے کا معاملہ زیر سماعت ہے اور آج کیس کی سماعت کے دوران جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے ہیں کہ یہ ذہن میں رکھیں ایک جمہوری حکومت کو ججز کی جاسوسی پر ختم کیا چکا ہے۔ عدالت عظمی میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے ان کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو چیلنج کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی۔

ایک طویل وقفے کے بعد اس کیس کی سماعت جون کے آغاز سے دوبارہ شروع ہوگئی ہے اور اب فروغ نسیم عدالت میں پیش ہوکر دلائل دے رہے ہیں جبکہ ایک سماعت میں ججز یہ عندیہ بھی دے چکے ہیں کہ وہ یہ کیس عدالت کی موسم گرما کی چھٹیوں سے پہلے ختم کرنا چاہتے ہیں۔

جمعرات کو کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے حکومتی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فروغ نسیم اپنی مرضی کے مطابق بحث کریں، آپ کے اکثریت سوالات غیر متعلقہ ہیں، اے آر یو سے متعلق 2 تین مثالیں اور بیان کر دیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ بھی بتا دیں ججز کے ضابطہ اخلاق کی قانونی قدعن ہے کہ نہیں، ہم آپ کو تفصیل سے سنیں گے۔ عدالتی استفسار پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ بنیادی سوال ہے کہ کیا جج پر قانونی قدعن تھی کہ وہ اہلیہ اور بچوں کی جائیداد ظاہر کرے۔ فروغ نسیم کے مطابق درخواست گزار کا موقف ہے کہ ان کی اہلیہ اور بچے ان کے زیر کفالت نہیں، جج کے خلاف کارروائی صرف اسی صورت ہوگی جب جج کا مس کنڈکٹ ہو۔

حکومتی وکیل کا کہنا تھا کہ معاملہ ٹیکس کا یا کسی اور جرم کا نہیں ہے، مس کنڈکٹ کی آرٹیکل 209 میں تعریف نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ثابت شدہ مس کنڈکٹ لکھا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 209 میں مس کنڈکٹ کی تعریف نہ کرنا دانستہ ہے۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 209 میں مس کنڈکٹ کی بات کی تو دیگر انتظامی قوانین سے اصول لیے جائیں گے، اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین ہی انتظامی قوانین کو اختیار دیتا ہے، آئین دیگر تمام قوانین کا ماخذ ہے۔ جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ بہتر ہوگا مس کنڈکٹ کی تعریف دیگر قوانین کے بجائے آئین کے تحت ہی دیکھی جائے، جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ آئین میں زیر کفالت اہلیہ اور خود کفیل اہلیہ کی تعریف موجود نہیں۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت جج اور ان کی اہلیہ پبلک آفس ہولڈر ہیں، جج کی اہلیہ بھی ایمنسٹی نہیں لے سکتیں، بچوں کے لیے تو پھر بھی زیر کفالت یا خود کفیل کا معاملہ ہے، اہلیہ کے لیے ایسا کچھ نہیں۔ اس پر بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی یا ان کی اہلیہ سے ان جائیدادوں کے بارے میں کسی نے نہیں پوچھا، جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ جج سے سوال کرنے کا حق صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو ہے۔سماعت کے دوران بات کو جاری رکھتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے اسی حق کے تحت جسٹس قاضی فائز عیسی سے جائیدادوں کے بارے میں پوچھا، اس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ حقیقت میں یہ ثابت کرنا ہے کہ اہلیہ کی جائیداد ظاہر نہ کر کے جج نے قانونی تقاضا پورا نہیں کیا۔

اس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ پاناما کیس میں نواز شریف نے یہی کہا تھا کہ بچوں کی جائیداد کا مجھ سے مت پوچھیں، اس کیس میں بھی تینوں جائیدادوں کا آج تک نہیں بتایا گیا۔حکومتی وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ایمنسٹی اسکیم قانون کے تحت ججز، بیگمات یا انکے زیر کفالت بچے فائدہ نہیں لے سکتے، پاکستان میں تین ایسے قوانین ہیں جسکے تحت ججز اور ان کی بیگمات کو اثاثے ظاہر کرنا ضروری ہیں۔

فروغ نسیم کی بات پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دیگر شہریوں کو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں چھوٹ حاصل ہے لیکن ججز اور اہل خانہ کو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں چھوٹ حاصل نہیں۔اس موقع پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ ذہن میں رکھیں ایک جمہوری حکومت کو ججز کی جاسوسی پر ختم کیا چکا ہے۔بعد ازاں مذکورہ کیس کی سماعت آج جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں