یمن کے متحارب فریقین معاہدہ کرنے میں ناکام ہو گئے، یو این سفارتکار

صنعاء (ڈیلی اردو/شِنہوا) اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹِن گریفتھس نے کہا ہے کہ یمن کے متحارب گروہوں اور دیگر متعلقہ فریقین کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات سے کوئی معاہدہ نہیں کیا جاسکا۔

سعودی عرب اور عمان میں ختم ہونے والے حالیہ مذاکرات کا مقصد وسطی صوبہ مارب سمیت یمن بھر میں جنگ بندی کروانا تھا جہاں پر حوثی باغی فروری سے حکومتی افواج پر بڑے پیمانے پر حملہ کرر ہے ہیں۔

گریفتھس نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ ہم اس مسئلے پر ایک سال سے زائد عرصہ سے بحث کررہے ہیں،بدقسمتی سے ہمیں معاہدے تک پہنچنے کیلئے جس پر مقام پر ہونا چاہئے تھا وہاں نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں تنازعہ کے فریقین، ملوث، متعلقہ کرداروں اور متعلقہ لوگوں کو مصروف رکھوں گا تاکہ امن مذاکرات میں پیشرفت میں مدد کیلئے مشترکہ بنیادیں تلاش کرنے بارے مواقع کی پیشکش کی جائے۔

حوثیوں نے یمن کے تیل سے مالا مال صوبہ مارب پر قبضہ کرنے کیلئے فروری میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی فوج کیخلاف بڑے حملے شروع کئے تھے، یہ صوبہ داخلی طور پر بے گھر 20 لاکھ سے زائد افراد کی میزبانی کرتا ہے۔

اقوام متحدہ امدادی ایجنسیوں نے حوثیوں کو خبردار کیا ہے کہ مارب میں حملوں کے باعث بڑی انسانی تباہی ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں