99

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ‘سپریم کوآرڈینیشن کونسل’ کا قیام

ریاض (ڈیلی اردو/بی بی سی) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون اور تعلقات کو منظم اور مربوط کرنے کے لیے ‘سعودی-پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل’ قائم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان کی کابینہ دو روز پہلے ہی اس کونسل کے قیام کی منظوری دے چکی ہے۔ اس کونسل کا مقصد دونوں ممالک کے دو طرفہ تعاون کو بہتر اور ہموار کرنا ہے تاکہ فروری سنہ 2019 کے سعودی ولی عہد کے پاکستان کے دورے کے دوران جو سرمایہ کاری کے معاہدے طے پائے تھے ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر راساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق، دونوں ملکوں کے نمائیندوں نے غیر قانونی منشیات، جدید نشہ آور ادویات اور ان کے کیمیائی عناصر کی سمگلنگ روکنے کے لیے ایک یاد داشت پر دستخط کیے ہیں۔

ایس پی اے کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کے دوران انہوں نے دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کی گہرائی کا اعادہ کیا اور دوطرفہ تعاون اور کوآرڈینیشن کے پہلوؤں کو وسعت دینے اور تیز کرنے اور مختلف شعبوں میں ان کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

اس کے علاوہ فریقین نے علاقائی اور بین الاقوامی میدانوں میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دلچسپی کے امور پر ایک ایسے انداز میں تبادلہ خیال کیا جس سے سلامتی اور استحکام کی تائید اور توسیع میں مدد مل سکے۔

اپنی جانب سے پاکستانی وزیر اعظم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی اسلامی اتحاد کو فروغ دینے اور اسلامی اقوام کو درپیش مسائل کے حل میں سعودی عرب مملکت کے مثبت کردار کی تعریف کی۔ انھوں نے سعودی عرب کی علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے کوششوں کو بھی سراہا۔

فریقین نے سعودی عرب کے وژن 2030 اور پاکستان میں ترقی کی ترجیحات کی روشنی میں سرمایہ کاری کے مواقع اور ان کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین معاشی اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے اور مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے دو طرفہ فوجی اور سیکیورٹی تعلقات کی مضبوطی پر اپنے اطمینان کی تصدیق کی اور دونوں ممالک کے مابین مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے مزید تعاون پر اتفاق کیا۔

فریقین نے عالم اسلام کی طرف سے انتہا پسندی اور تشدد کا مقابلہ کرنے اور فرقہ واریت کو مسترد کرنے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے حصول کے لئے بھرپور کوششوں پر زور دیا۔

پاکستان اور سعودی عرب نے دہشت گردی کے اس رجحان سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کوششوں کو جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا جس کا کسی مذہب، نسل یا رنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور اس کی تمام ’شکلوں اور تصویروں‘ کا مقابلہ کریں، چاہے اس کا کوئی بھی ذریعہ ہو۔

ایک سعودی ویب سائیٹ العربیہ کے مطابق، ‘سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیاان توانائی کے شعبے، انفرسٹرکچر، ٹرنسپورٹ، پانی اور کمیونیکیشن کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ایک اور مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کا تین روزہ دورہ جمعۃ الوادع کے دن سے شروع ہوا ہے جو نو مئی تک جاری رہے گا، جبکہ اِس دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ اُسی روز شہزادے سے ملاقات کر چکے ہیں۔

سعودی عرب کے نجی شعبے کہ انگریزی اخبار عرب نیوز کے مطابق گزشتہ شب وزیر اعظم عمران خان کا استقبال ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے وزیر اطلاعات اور وزیر تجارت اور دیگر حکام کے ہمراہ کیا جدہ میں کیا تھا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے رہنماؤں کی ملاقات کیسی رہی؟

اس دوران پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس دورے کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی جن میں اقتصادی، امور، باہمی تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیات، توانائی، پاکستانیوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع، پاکستانیوں کی فلاح و بہبود جیسے معاملات شامل ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کی طرف سے اعلامیے جاری کیے گئے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ہر شعبے میں مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ سعودی عرب پر پاکستان میں سرمایہ کاری پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی اپنے اعلامیے میں اس کی تصدیق کی ہے۔

کشمیر کے پرامن حل پر زور

پاکستانی اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے قومی معاشی ترقی کے لیے پرامن ہمسائیگی سے متعلق بات کی۔ پاکستان اور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نےجموں اور کشمیر تنازع کے پرامن حل پر زور دیا ہے۔

وزیر اعظم نے خطے میں امن اور سیکورٹی کے فروغ کے لیے سعودی ولی عہد کی کوششوں کی تعریف بھی کی ہے۔

اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے افغانستان میں بھی امن اور مصالحت میں پاکستان کی مستقل کوششوں کا ذکر کیا ہے۔ دونوں ممالک نے فلسطینیوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے شام اور لیبیا میں تنازعات کے سیاسی حل سے متعلق اپنی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی طرف سے جاری کردہ بیان میں یمن کے تنازع پر بھی تفصیلات شامل ہیں اور سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرونز حملے کی مذمت بھی شامل ہے۔

اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے ولی عہد کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

وزیر اعظم اور آرمی چیف بیک وقت سعودی عرب میں

پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فوج کے سربراہ کا بیک وقت سعودی عرب کا دورہ کرنا خطے میں بدلتی ہوئی حالت میں زیادہ اہمیت کا حامل بن گیا ہے، لیکن ماہرین کا خـیال ہے کہ سٹریٹیجک معاملات میں دونوں کی پالیسیوں میں شاید ہی تبدیلی آئے، البتہ دونوں اب اپنے تعلقات کو ‘ری سیٹ’ (دوبارہ سے ترتیب) دینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔

وزیرِ اعظم کے وفد میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے بارے میں کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس نہ بلانے پر کافی سخت باتیں کی تھیں۔ پھر قریشی نے متحدہ عرب امارات میں انڈیا کی اُس وقت کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو بلائے جانے پر اسلامی ممالک کے وزاراءِ خارجہ کے اجلاس کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔

اس کے بعد جب پاکستان نے ملائیشیا میں انڈونیشیا، ترکی، بنگلہ دیش اور ایران کی قیادت میں معقد ہونے والے اسلامی بلاک میں شرکت کا اشارہ دیا تھا تو سعودی عرب نے پاکستان سے سخت نارضی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم جلد ہی پاکستان نے کوالالمپور جانے کا اعلان کرنے کے بعد مبینہ طور پر سعودی دباؤ میں آکر فیصلہ تبدیل کرلیا تھا۔

سعودی عرب نے، جو پاکستان کے یمن کی جنگ میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سے ناراض تھا، سنہ 2018 میں پاکستان کو ادائیگیوں کا توازن بہتر کرنے کے لیے تین برسوں کے لیے تین ارب ڈالرز کے قرضوں کی جو سہولت دی تھی، اُسے بھی اچانک تبدیل کردیا تھا۔

سعودی عرب نے پاکستان سے گزشتہ برس جولائی میں اچانک مطالبہ کیا تھا کہ وہ تین ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر فوراً واپس کرے۔ سخت مالیاتی تنگی کے باوجود، پاکستان نے چین کی امداد سے یہ قسط فوراً ادا کردی۔ دسمبر میں پاکستان نے چین کی مدد سے سعودی عرب کو مزید ایک ارب ڈالر واپس کردیے۔

اس طرح پاکستان کے اپنے ‘برادر اسلامی ملک’ سے تعلقات کمزور ترین سطح پر آگئے تھے۔ سعودی عرب کے سابق انٹیلیجینس چیف ترکی بن فیصل نے کبھی کہا تھا تھا کہ دونوں ممالک کی دوستی دنیا کی وہ واحد مثال ہے جو بغیر کسی معاہدے کے سب سے زیادہ مضبوط ہے۔

اب جبک عمران خان سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں اور جنرل قمر باجوہ وہاں پہلے ہی سے موجود ہیں تو شہزادہ محمد بن سلمان سے دونوں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ماہرین اس بات پر متفق نظر آرہے ہیں کہ اب دونوں ممالک اپنی نئی پالیسیوں کو چھوڑے بغیر نئے انداز سے دوستی کو ترتیب دے رہے ہیں۔

خطے کے امور سے واقف تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکہ میں جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ کا ایران سے جوہری منصوبے پر کیے گئے معاہدے کی کسی نئی صورت میں بحالی پر بات چیت اور چین کی ایران میں چار سو ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ سعودی پالیسی میں تبدیلی کا سبب بنا ہے۔

پاکستان میں سرکاری حلقوں کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے اس دورے میں وہ سعودی عرب کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شمولیت کے حوالے سے بات کریں گے، سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے مدد کی پیشکش کریں گے، گوادر میں آئل ریفائنری پر پیش رفت پر بات ہوگی اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی پر ٹھوس بات ہوگی۔

سعودی صحافی اور تجزیہ کار خالد المعینہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کے سعودی عرب کے دورے کو دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی تاریخ کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

‘آپ جانتے ہیں کہ یہ بہت ہی سٹریٹیجک اتحاد ہے جس کی کئی برسوں کی ایک تاریخ ہے۔ اور ساتھ ساتھ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان سعودی عرب کی فوج کو تربیت دیتا رہا ہے، بہت سارے پاکستانی سعودی عرب میں ملازت کرتے ہیں۔’

’حالیہ کچھ عرصے میں تعلقات میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں، لیکن اختلافات تو دو بھائیوں کے درمیان بھی ہو سکتے ہیں۔ البتہ بعض اوقات میڈیا کے کچھ گروپس سیاق و سباق سے جدا کر کے انھیں (اختلافات کو) نمایاں کرتے ہیں اور بعض اوقات تو انھیں ضرورت سے بھی زیادہ نمایاں کرتے ہیں۔’

خالد المعینہ کہتے ہیں کہ ‘اس کے علاوہ جنرل ضیاالحق کے زمانے سے پاکستان کے کئی سربراہوں کی روایت رہی ہے کہ وہ 26 یا 27 رمضان کو سعودی عرب آتے ہیں۔ اس لیے میرے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فوج کے سربراہ سعودی عرب آئے ہوئے ہیں۔’

اس وقت پاکستان سے سعودی عرب آنے والے مہمان اپنے میزبان سے اہم معاملات پر گفتگو کر رہے ہیں، لیکن سرکاری طور پر اس بارے میں فی الحال دونوں خاموش ہیں۔

خالد المعینہ کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ ہم ایک سیاسی اور جغرافیائی طور پر ایک بدلتی ہوئی دنیا سے گزر رہے ہیں۔

‘تاہم میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک بہت اچھا دورہ ہے۔ اسے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ حال ہی میں تعلقات میں تلخی کے عرصے میں بھی پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔’

امریکی تبدیلی کا اثر

پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فوج کے سربراہ یہ دورہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر کر رہے ہیں۔ یہ دورہ سعودی عرب کی ماضی قریب میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بہت زیادہ انحصار کرنے کے بعد روایتی سعودی پالیسی کی طرف واپسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ محمد بن سلمان اپنے آپ کو نظرانداز ہوتا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور ان کو اپنے آپ کو اہم بنانے کے لیے اس خطے کے اہم کرداروں سے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اس دوران سعودی عرب کے لیے افغانستان میں امریکہ کی فوجوں کے انخلا کے بعد جو نظام قائم ہوتا نظر آرہا ہے اُس میں بھی اپنے ایک کردار کا تعین کروانا ہے، یعنی سعودی عرب افغانستان کی تعمیرِ نو میں کس طرح کی اور کس طرح اقتصادی تعاون کرے گا۔

نئی سعودی پالیسی

اس لحاظ سے سعودی عرب جو محمد سلمان کی حالیہ پالیسیوں کی وجہ سے اب اپنے آپ کو غیر متعلقہ محسوس کر رہا ہے، وہ واپس کس طرح اس خطے میں جنگوں کی قیادت کرنے کے بجائے ایک ‘پیس میکر’ کے طور پر مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش میں پاکستان کے تعاون کا خواہاں ہے۔

اس وقت خطے میں چار ممالک نمایاں کردار یا حیثیت کے خواہاں ہیں۔

سب سے پہلے ہے ترکی، مگر اُس کے سعودی بلاک سے تعلقات بہتر نہیں ہیں۔ دوسرا سعودی عرب خود، جس کے ترکی اور قطر سے حلیفانہ تعلقات نہیں ہیں۔ تیسرا ہے ایران، جس کی سعودی عرب سے مخالفت ہے۔ اور چوتھا ہے پاکستان، جس کے صرف سعودی عرب سے کمزور تعلقات رہے ہیں۔

اس پس منظر میں سعودی عرب کے لیے ایک یہ بھی مسئلہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کے پس منظر میں اب ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں مثبت تبدیلی آتی ہے تو سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات کیا صورت اختیار کریں گے۔

مصالحت کاری

امریکی تحقیقی ادارے، ایسٹ ویسٹ انسٹیٹیوٹ کے سینیئر فیلو ڈاکٹر نجم عباس کا خیال ہے کہ اگرچہ سعودی عرب مسقط اور دوحہ کے ذریعے بھی ایران اور افغانستان میں کوئی کردار حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے لیکن پاکستان کا ان امور میں فعال کردار اُسے زیادہ نمایاں بنا دیتا ہے۔

اُن سے جب پاکستان کے کردار کے بارے میں پاکستان کی اہمیت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا ‘دوحہ اور مسقط بھی سعودی عرب کی ایران سے بات چیت میں سہولت کاری مہیا کرسکتے ہیں، تاہم اسلام آباد کا اس بارے میں پہل کاری کرچکا ہے۔’

ڈاکٹر نجم عباس کے مطابق، ‘پاکستان کی پہل کاری اور فعالیت تین سطحوں پر کام کرسکتی ہے:

1- ایران کے ساتھ سعودی عرب کی ٹریک ٹو سفارت کاری میں سہولت۔ 2- افغانستان میں ریاض کے کردار کے تعین میں سہولت۔ اور 3- مشرقِ وُسطیٰ میں استحکام پیدا کرنے میں باہمی تعاون جس کی مدد سے محمد بن سلمان اور عمران خان دونوں کی جو بائیڈن کے سامنے پوزیشن بہتر بنے گی۔

معیشت، معیشت، معیشت

انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کی مشرقِ وسطیٰ کے امور کی محقق ارحمہ صدیقہ کہتی ہیں کہ پاکستانی ریاست نے اپنی اقتصادی ضروریات کو قومی سلامتی کا اہم پہلو قرار دیتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کو از سرِ نو ترتیب دینا شروع کردیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے سربراہ نے فوج کے خطے کی سلامتی میں سٹریٹیجک رول کا استفادہ کرتے ہوئے قطر کے دورے میں پاکستان کے لیے گیس کی قیمتوں میں نظرثانی کے پر مذاکرات کیے اور بالآخر قطر سے پہلے کی نسبت ایل این جی کے بہت کم نرخ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

‘پاکستان نے ایک اسلامک سکیورٹی مذاکرات کا بھی اہتمام کیا تھا جس میں جنرل باجوہ نے کہا تھا ماضی کے برعکس اب ریاست اقتصادی ترقی کو سب سے زیادہ ترجیح دے رہی ہے۔ پاکستان نہ صرف سعودی عرب، بلکہ خلیج کی دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی نئے حالات میں اپنے تعلقات کو نئے انداز سے ترتیب دے رہا ہے۔’

آئی ایس ایس آئی کی ارحمہ صدیقہ کہتی ہیں کہ ‘پاکستان اور سعودی عرب ایک ایسے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں جس میں طلاق نہیں ہوسکتی ہے۔ ایک طرف اگر پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں مقیم اپنے ڈائیسپورا (پاکستانیوں کی بیرون ملک قیام پذیر برادری) کے لیے کچھ کرنا ہے تو دوسری طرف سعودی عرب کو بھی خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے لیے پاکستان کی ضرورت ہے۔’

وہ کہتی ہیں کہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کی تیزی میں ‘ایک وجہ کووڈ-19 کی وبا سے سے پیدا ہونے والے اثرات بھی ہیں۔ غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کا اپنے ملک کی سیکنڈری انکم بیلینس میں 86 فیصد حصہ ہے۔ جس میں سے زیادہ تر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے آتا ہے۔’

‘کووڈ کی وجہ سے اور تیل کی قیمتیں گرنے اور ان ممالک میں اقتصادی ترقی کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے بہت سارے پاکستانی ملازمتوں سے محروم ہو رہے ہیں اور یہ واپس آرہے ہیں۔ پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ سعودی عرب اپنے ویژن 2030 کے منصوبوں میں پاکستانی ماہرین اور ورکروں کو جائز موقع دے۔’

ارحمہ صدیقہ کہتی ہیں کہ ‘ویژن 2030 میں پاکستانیوں کو مواقع دینا کوئی خصوصی سہولت نہیں ہوگی، بلکہ یہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں کی ایک اقتصادی ضرورت ہے۔ سعودی عرب پاکستان کو نظرانداز نہیں کرسکتا ہے اس لیے پاکستانی وزیرِ اعظم اس موضوع پر بھی ولی عہد سے بات کریں گے۔’

‘اس کے علاوہ سعودی عرب یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ ’چین-ایران ڈیل‘ کا اس کے مفادات پر گہرا اثر پڑے گا، وہ اس سلسلے میں پاکستان کا تعاون چاہتا ہے۔ پاکستان یہ بھی جانتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سابق امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کی وجہ سے چند ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا، لیکن پاکستان ایسا نہیں کرے گا۔’

دونوں ملکوں کے لیے سبق

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی تاریخ تو پرانی ہے جس میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں۔ لیکن سنہ 2019 میں جب انڈیا نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کی تھی تو اُس وقت سعودی عرب نے پاکستان کا اُس طرح ساتھ نہیں دیا جس طرح روایتی طور پر توقع کی جاتی تھی۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور ‘مڈل انسٹیٹیوٹ سے وابستہ خطے کے امور کے ماہر عارف رفیق اپنے ایک مقالے میں لکھتے ہیں کہ تعلقات کی اس تاریخ میں دونوں کو کچھ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

‘دو طرفہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سعودی عرب کے انٹیلیجینس کے سابق سربراہ تُرکی بن فیصل جو کبھی پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو دنیا میں کسی بھی دو ملکوں کے سب سے زیادہ قریبی تعلقات قرار دیتے تھے، وہ دور اب ختم ہو چکا تھا۔’

عارف رفیق کے مطابق، ‘اول یہ کہ سعودی شاہی خاندان میں پاکستان کے حامی سمجھے جانے والے شہزادے، جن میں سابق ولی عہد شہزادہ مُقرِن بن عبدالعزیز اس وقت کسی موثر حیثیت میں نہیں ہیں۔ محمد بن سلمان کے دور میں ریاض میں ایک ایسا ماحول ہے جس میں پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا ہے۔’

‘دوسرا سبق یہ کہ اب پاکستان کو یہ جان لینا چاہیے کہ اب سعودی امداد کی ایک قیمت بھی ادا کرنا ہوگی۔ اور اگر پاکستان یہ قیمت ادا نہیں کرنا چاہتا ہے۔ یعنی سعودی عرب کے مخالفین کے خلاف جنگوں میں کودنا نہیں چاہتا ہے، تو پھر پاکستان کے بہترین مفاد میں یہ ہوگا کہ وہ سعودی عرب کی اقتصادی مدد لینے سے گریز کرے۔’

عارف رفیق کے مطابق، تیسرا سبق یہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب جیسے ملکوں کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے اُسے جو اصلاحات متعارف کرانی ہیں ان میں تیزی دکھائے۔ سنہ 2019 میں سعودی عرب پاکستان میں بڑی صنعتوں میں ایک بڑی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار تھا، لیکن پاکستانی حکومت ان منصوبوں پر تکینیکی وجوہات کی وجہ سے کارروائی کے لیے تیار ہی نہیں تھی۔

اور عارف رفیق کے مطابق آخری سبق یہ ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوج کا کردار زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان دونوں ملکوں میں فوجی تربیت اور تعیناتیوں میں دفاعی تعاون جاری رہے گا، لیکن ضروری نہیں کہ اس تعاون کو دونوں میں ایک اقتصادی تعاون کی شکل میں بھی تبدیل کیا جا سکے۔

‘پاکستان کے لیے زیادہ مناسب یہ ہو گا کہ وہ سعودیوں کے ساتھ اپنے عمومی تعلقات مثبت رکھے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھیں، اور سٹریٹیجک شراکت داری کے لیے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بنائے۔

سعودی امداد کی ضرورت

کیوٹو انسٹیٹیوٹ واشنگٹن سے وابستہ بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار ہیں سحر خان کہتی ہیں کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کے لحاظ دو باتیں اہم ہیں:

ایک یہ کہ ان تعلقات کو ‘ری سیٹ’ (دوبارہ سے ترتیب) دینا ہے کیونکہ ابھی تک دونوں کے تعلقات میں گرم جوشی کم سے کم ہو رہی تھی۔ پچھلے سال او آئی سی کی میٹنگ میں جو ہوا، اس کے بعد سے سعودی عرب کے بارے میں عمران خان کافی زیادہ کھل کر بات کرنے لگے تھے، خاص کر کشمیر کے مسئلے میں سعودی کردار پر۔

سحر خان کہتی ہیں ‘سب سے پہلے تو یہ کہ تعلقات دوبارہ سے ترتیب دیے جائیں۔ تعلقات بہتری کی طرف لائیں۔ آرمی چیف جنرل باجوہ ان سے پہلے وہاں گئے کیونکہ پاکستان میں ایسے اہم امور پر فوج کا زیادہ اختیار ہے۔’

اس کے علاوہ جو دوسری اہم بات ہے وہ اقتصادی تعلقات پر اصرار۔ ظاہر ہے کہ پاکستان کی معیشت بہت کمزور ہے اس لیے پاکستان کا ریاض کی مدد کے بغیر چلنا ممکن نہیں ہے۔ تو اب کوشش یہی ہونی چاہیے کہ سعودی عرب کے ساتھ جو قرضوں کے بارے میں ادائیگی کا معاملہ ہے اُس میں کچھ تاخیر ہو اور سعودی عرب کو سی پیک میں شامل کیا جائے۔

کشمیر

سعودی کشمیر پالیسی کو پاکستان تسلیم کر رہا ہے
تاہم اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی مشرقِ وُسطیٰ کے امور کی آزاد تجزیہ کار فاطمہ رضا کہتی ہیں کہ آرمی چیف کا بذاتِ خود وزیرِ اعظم عمران خان سے پہلے سعودی عرب پہنچنا اس دورے کی اہمیت کا اشارہ ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ اگرچہ یہ تعلقات کو ری سیٹ کرنے کی کوشش ہے لیکن دونوں ہی اب اپنے نئے موقف میں تبدیلی نہیں لائیں گے۔

ان کے مطابق، اس دورے سے پیغام یہ ملتا ہے کہ سعودی عرب نے تعلقات میں بہتری کی پاکستان کی کوششوں کو پذیرائی دے دی ہے، لیکن ایک بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ سعودی عرب نے کشمیر کے بارے میں جو موقف بدلا اُس میں وہ تبدیلی نہیں لائے گا یعنی سعودی عرب نے انڈیا کے 5 اگست کے اقدام پر جو پالیسی اپنائی ہے وہ اُس میں وہ تبدیلی نہیں لائے گا۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی کوشش ہے کہ پاکستان کے ایک پرانے اتحادی اور فائدہ مند دوست کو راضی کیا جائے۔ جبکہ امریکہ میں بائیڈن کی انتظامیہ کے بعد سعودی عرب اپنی پالیسی میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ امریکہ سے نئے انداز میں تعلقات بنانا چاہتا اور اس لیے وہ چاہتا ہے کہ خطے میں زیادہ سے زیادہ ممالک اُس کے دوست بنیں۔

سعودی عرب کی پاکستان سے تعلقات میں ری سیٹ کی ایک اور اہم وجہ چین اور ایران کے درمیان طے پانے والا سینکڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا معاہدہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے پاکستان کے لیے ایران کا تیل خریدنا آسان ہو جائے گا۔

تاہم پاکستان سعودی عرب سے تیل خریدتا رہے گا کیونکہ اُسے وہاں سے موخر ادائیگی کی سہولت کے ساتھ تیل مل رہا ہے اور پاکستان اس سہولت کو ختم نہیں کرنا چاہے گا۔ ان حالات میں پاکستان کے لیے بہتر ہے کہ وہ سعودی عرب سے تعلقات میں تنوّع پیدا کرے اور کثیرالسمتی (ملٹی ویکٹورل) حکمتِ عملی اپنائے۔

فاطمہ رضا کا خیال ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے سہولت کار کا کردار عراق پہلے ہی سے ادا کر رہا ہے۔

لیکن آئی ایس ایس آئی کی ارحمہ صدیقہ کہتی ہیں کہ موجودہ حالات میں پاکستان کا ایران سے تعلقات بہتر بنوانے میں کوئی کردار نظر نہیں آرہا ہے اور نہ وزیرِ اعظم نے اس موضوع پر اب کوئی بات کی ہے۔ ‘اس لیے پاکستان کے لیے بہتر ہے کہ وہ سعودی عرب سے صرف اقتصادی معاملات طے کرنے پر توجہ دے۔’

سیکیورٹی کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے

تاہم سعودی عرب کے امور پر گہری نظر رکھنے والے صحافی سید راشد حسین کا خیال ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اب دوبارہ سے سیکیورٹی کے خطوط پر استوار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اور ایسا سوچنے کے کئی اسباب ہیں جن میں اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اب اس خطے میں عملی طور پر اپنے ہاتھ اُٹھا رہا ہے۔

راشد حسین کہتے ہیں کہ امریکہ کی موجودہ انتظامیہ کے لیے اب مشرقِ وُسطیٰ اُس کے ایجنڈے کی فہرست میں نیچے جا چکا ہے۔ اس وجہ سے محمد بن سلمان بھی مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی پر آمادہ ہوں۔ اب ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہ راست بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے، ٹرمپ کے دور میں ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

‘ان بدلتے ہوئے حالات میں اس خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کے لیے پاکستان کا ایک کردار ابھر رہا ہے۔ کوشش کر لینے کے باوجود سعودیوں کو احساس ہو گیا ہے کہ انڈیا کسی بھی صورت میں خطے کی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کا متبادل نہیں بن سکتا ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس وقت دہلی امریکہ کے کیمپ میں جا چکا ہے۔’

اس پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں برف پگھل رہی ہے اور اس بڑھتی ہوئی گرمجوشی میں کیونکہ سیکیورٹی ایک کلیدی معاملہ بن چکا ہے، اس لیے جنرل قمر باجوہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور اب سعودیوں کو احساس ہو گیا ہے کہ انھیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

’تاہم پہلے جیسی سطح پر تعلقات کی بحالی میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ فریفین اپنے اپنے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ریاض میں پاکستان کے سفیر ایک ریٹائرڈ جنرل ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ سیکیورٹی اب دونوں ملکوں کے درمیان کے ایجنڈے پر سرِ فہرست ہے۔

راشد حسین کے خیال میں دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں جن کے بیان کی وجہ سے تعلقات میں سردمہری اور تلخی پیدا ہوئی تھی۔ ’تاہم اُسی کی وجہ سے سعودی عرب کو یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ پاکستان کو ایک زرخرید ملازم نہیں سمجھا جاسکتا ہے، اور انھیں بھی پاکستان کی ضرورت ہے، اس لیے یہ یکطرفہ رشتہ نہیں ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں