غزہ: حماس کے راکٹ حملے، اسرائیلی حملوں میں 9 بچوں سمیت 20 افراد ہلاک، 500 سے زائد زخمی

یروشلم (ڈیلی اردو/بی بی سی) بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس سے جھڑپوں میں پیر کو تین سو سے زیادہ فلسطینیوں کے زخمی ہونے کے بعد غزہ سے اسرائیلی علاقے میں متعدد راکٹ داغے گئے ہیں جبکہ اسرائیل کے جوابی فضائی حملوں میں 9 بچوں سمیت 20 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اسرائیلی پولیس کی جانب سے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ نہیں رکا تو وہ راکٹ حملے کر سکتی ہے۔

پیر کی شب اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ حماس نے غزہ سے ایشکیلون کے قصبے کو درجنوں راکٹوں سے نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے جواب میں جنگی طیاروں نے غزہ میں حماس کی ایک سرنگ کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل کے اس تازہ حملے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

اس سے قبل پیر کی شام اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم نے غزہ میں عسکری اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔’

اسرائیلی حکام کے مطابق پیر کی شام راکٹ گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اسرائیل نے جوابی کارروائی میں حماس کے تین شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

حماس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عزالدین قسام بریگیڈ کے ایک کمانڈر محمد عبداللہ فائد اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی وزارتِ صحت کا کہنا ہے اسرائیلی حملوں میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس نے ’سرخ لکیر عبور کر لی ہے اور یہ تنازع کچھ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔‘

حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقے پر راکٹ داغنے کا سلسلہ پیر کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں تازہ جھڑپوں میں پولیس کے ہاتھوں 300 سے زیادہ فلسطینیوں کے زخمی ہونے کے بعد شروع ہوا ہے۔

پیر کو جھڑپوں کے دوران اسرائیلی پولیس نے ایک بار پھر مظاہرین پر سٹن گرینیڈ داغے جبکہ فلسطینیوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا۔

کشیدہ حالات کی وجہ سے اسرائیلی حکام نے سالانہ ’یروشلم ڈے فلیگ مارچ‘ بھی منسوخ کر دیا کیونکہ اس موقع پر مزید پرتشدد جھڑپوں کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

یہ تقریب سنہ 1967 میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل کے مشرقی یروشلم پر قبضے کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ اس دن عموماً پرچم لہراتے اور ملی نغمے گاتے سینکڑوں اسرائیلی نوجوان بیت المقدس کے قدیمی مسلم اکثریتی کا رخ کرتے ہیں جبکہ بہت سے فلسطینی اسے دانستہ اشتعال انگیزی قرار دیتے ہیں۔

فلسطینی ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ پیر کو جو 305 فلسطینی زخمی ہوئے، ان میں سے 228 کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا اور ان میں سے سات کی حالت نازک ہے۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے 21 اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔

‘پاؤڈر کیگ جل رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے’

بی بی سی عربی کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع کے ایک سابق عہدیدار اموس گیلڈ نے بھی مارچ کو منسوخ کرنے یا اس کا رخ تبدیل کرنے پر زور دیا اور انھوں نے آرمی ریڈیو کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ‘پاؤڈر کیگ جل رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔’

مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام مسجدِ اقصیٰ اور اس کا قریبی علاقہ رمضان کے مہینے میں پرتشدد جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں سنہ 2017 کے بعد سے بدترین تشدد دیکھا گیا ہے۔ ہلال احمر کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب یہاں 300 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے تھے

پیر کو ہونے والی جھڑپیں اس تشدد کا تسلسل ہے جو مشرقی بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح میں کئی دن سے جاری ہے۔ شیخ جراح میں آباد فلسطینی خاندانوں کو یہودی آبادکاروں کی جانب سے جبری بےدخلی کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے علاقے میں حالات کشیدہ ہیں۔

اسرائیل کی عدالت عظمیٰ شیخ جراح میں ایک یہودی آباد کار تنظیم کے حق میں بےدخلی کے حکم کے خلاف 70 سے زیادہ افراد کی اپیل پر پیر کے روز سماعت کرنے والی تھی لیکن تازہ جھڑپ کی وجہ سے یہ سماعت بھی ملتوی کر دی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل بھی اس صورتحال پر پیر کو اپنے اجلاس میں بحث کر رہی ہے۔

تازہ جھڑپوں میں کیا ہوا؟

اسرائیلی پولیس نے نے کہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں نے رات عمارت میں گزاری تھی اور اگلی دن (پیر دس مئی) کو ’یوم یروشلم مارچ‘ کے موقع پر ہونے والی متوقع جھڑپ کے باعث خود کو اینٹوں، پتھروں اور مالوٹو کاکٹیل سے لیس کر لیا تھا، جو کہ مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے شروع ہوگا۔

پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ پیر کی صبح پولیس چوکی پر پتھراؤ کیے جانے کے بعد انھیں احکامات دیے گئے کہ وہ مسجد کے احاطے میں داخل ہو کر ’ہنگامہ کرنے والوں کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے طریقے استعمال کر کے‘ منتشر کر دیں۔

تقریباً ایک گھنٹے تک پولیس نے فلسطینیوں پر سٹن گرینیڈ پھینکے جو اُن پر پتھراؤ کر رہے تھے۔

بعد ازاں انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کی جانب سے پھینک گئے سٹن گرینیڈز مسجد الاقصی کے اندر جا گرے۔

اسرائیل کے شمالی شہر حیفہ اور مغربی کنارے کے شہر رملّہ کے قریب بھی فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے مابین تصادم کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اتوار کے روز فلسطینی مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ‘کسی بھی بنیاد پرست عنصر کو شہر کا سکون کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔’

مشرقی یروشلم میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے متولی اور پڑوسی ملک اردن نے اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔

مشرق وسطی کے مذاکرات کروانے والے امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ نے بھی ان پُرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام فریقوں کی جانب سے تحمل کے مظاہرے پر زور دیا ہے۔

تشدد کو کون سی چیز ہوا دے رہی ہے؟

اپریل کے وسط میں رمضان المبارک کے آغاز کے بعد سے تناؤ بڑھتا چلا گیا ہے اور اس سلسلے میں سلسلہ وار طور پر کئی واقعات ہوئے جسے بدامنی پھیلتی رہی۔

رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی دمشق گیٹ کے باہر کھڑی کی جانے والی سکیورٹی رکاوٹوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں اور پولیس کے درمیان رات کے وقت جھڑپیں ہونے لگیں کیونکہ ان رکاوٹوں کی وجہ سے وہ شام کے وقت وہاں یکجا نہیں ہو پا رہے تھے۔

اسی علاقے کے قریب انتہاپسند قوم پرست یہودی کے مارچ سے غصے میں مزید اضافہ ہوا۔

یہ مظاہرہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کے نتیجے میں ہوا تھا جس میں فلسطینیوں نے شہر میں قدامت پسند یہودیوں پر حملے اور پھر یہودی انتہا پسندوں کے ذریعہ فلسطینیوں پر حملے کو دکھایا گیا تھا۔

مشرقی یروشلم کی تقدیر اسرائیل اور فلسطین تنازع کے قلب میں ہے۔ دونوں فریقوں نے اس پر اپنے حق کا دعوی کیا ہے۔

اسرائیل نے سنہ 1967 میں ہونے والی چھ روزہ جنگ کے بعد سے مشرقی یروشلم پر قبضہ حاصل کر لیا ہے اور تاہم اسرائیل کے اس اقدام کو عالمی برادری کی اکثریت نے تسلیم نہیں کیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی اس عمل کو غیر قانونی قرار دیتی ہیں تاہم اسرائیل پورے شہر کو اپنا دارالحکومت کہتا ہے۔

دوسری جانب فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ مشرقی یروشلم ان کی ایک ‘متوقع آزاد ریاست’ کا مستقبل کا دارالحکومت ہے۔

اسرائیل کا ‘اندرونی سیاسی بحران’

اسرائیل میں بن یامن نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حکومت سازی میں ناکامی سے ملک میں اندرونی سیاسی تعطل طول پکڑ گیا ہے اور اب دو برسوں میں پانچویں عام انتخابات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیل میں سیاسی تجزیہ کار بیت المقدس کے علاقے میں حالیہ کشیدگی کو اسرائیل کے اندر موجود سیاسی تعطل سے جوڑ رہے ہیں۔

بیت المقدس میں موجود صحافی ہریندرا مشرا کے مطابق سیاسی تجزیہ کاروں کی نظر میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کشیدگی کی بڑی وجہ حکام کی طرف سے مسلمانوں کی طرف ‘غیر لچکدارانہ رویہ’ ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اسرائیلی پولیس کا یہ غیر لچکدارنہ رویے مسجدِ اقصیٰ میں رمضان کے آخری عشرے میں مسلمانوں کی عبادت کے موقع پر بھی نظر آیا۔ ان کے مطابق اسرائیلی پولیس نے اس سال مسجدِ اقصیٰ کو جانے والے راستوں کو ناکے لگا کر بند کر دیا جس کے بعد عبادت گاہ کے احاطے میں مسلمانوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔

اسی دوران اسرائیلی آباد کاروں نے مسلمانوں کے قدیمی محلے شیخ جراح سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی۔ یہ علاقہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے ذاتی معالج کے نام سے منسوب ہے جو اُس دور میں بیت المقدس میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔

فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے خلاف انھوں نے عدالت میں درخواستیں دے رکھی ہیں۔ عدالت نے حالیہ کشیدگی کے باعث ان درخواستوں پر سماعت کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔

ہریندر مشرا کے مطابق بیت المقدس میں نتن یاہو کے غیر لچکدارنہ رویے کی وجہ سے صرف شہر ہی میں نہیں بلکہ اسرائیل میں بسنے والے 20 فیصد عرب فلسطینیوں کے تمام علاقوں، غرب اردن اور غزا میں بھی شدید بے چینی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں نتن یاہو کی حکومت مسلمانوں پر سختیاں کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ ملک میں گذشتہ دو برس میں پانچویں مرتبہ عام انتخاب ہونے کی صورت میں انھیں اکثریت حاصل ہو سکے۔

گذشتہ دو برسوں میں اسرائیل میں چار عام انتخابات کرائے جا چکے ہیں لیکن ان انتخابات کے نتیجے میں کوئی بھی جماعت نہ صرف کہ 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان کنسٹ میں واضح اکثریت لینے میں ناکام رہی بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں پر مشمل کوئی پائیدار اتحاد بھی نہ بن سکا جو حکومت چلا سکے۔

گذشتہ عام انتخابات کے بعد اسرائیل کے صدر نے اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم اور 30 نشستیں حاصل کرنے والی لیکود پارٹی کے سربراہ نتن یاہو کو حکومت سازی کے لیے اسرائیلی آئین کے تحت 28 دن کی مہلت دی جس دوران وہ مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

نتن یاہو کو 28 دن کی مہلت گذشتہ ہفتے بدھ کے روز ختم ہونے کے بعد حزب اختلاف کی جماعت کے سربراہ آئر لپد کو 28 دن کا وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی کوشش کر کے دیکھ لیں۔

ان کی ناکامی کی صورت میں آئین کے مطابق کنیسٹ کو 21 دن کا وقت ملے گا کہ اس کا کوئی رکن 61 ارکان کی حمایت ثابت کر دے بصورت دیگر ملک میں ایک مرتبہ پھر 90 دن میں انتخابات منعقد کرانے پڑیں گے۔

اس سارے سیاسی منظر نامے میں عرب فلسطینیوں کے دو سیاسی دھڑوں یونائٹد عرب لسٹ اور جوائنٹ عرب لسٹ کا کردار بھی کافی اہم ہو گیا ہے۔ ان دونوں دھڑوں نے گذشتہ انتخابات میں مجموعی طور پر دس نشستیں حاصل کی تھیں۔

یونائنڈ عرب لسٹ یا رام کھلائے جانے والے دھڑے کے رہمنا منصور عباس نے کہا ہے کہ وہ ہر اس جماعت کے ساتھ حکومت سازی کے عمل میں تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں جو ان کی شرائط تسلیم کر لے۔ لیکن قدامت پسند یہودی جماعتیں ان شرائط کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور کسی ایسے اتحاد کی تشکیل ممکن نہیں ہے جو ان کی حمایت کے بغیر مطلوبہ تعداد پوری کر سکے۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

ان واقعات کے آغاز کے بعد سے سوشل میڈیا پر مسلسل تبصرہ کیے جا رہے ہیں اور ہیش ٹیگ ٹرینڈز میں انھی واقعات کا ذکر نظر آ رہا ہے۔

معتبر میڈیا اداروں کے نمائندگان جو اس وقت یروشلم میں موجود ہیں، وہ بھی ساتھ ساتھ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔

الجزیرہ چینل سے منسلک رانیہ زبانہہ نے ویڈیو شئیر کی جس کے مطابق وہ کہتی ہیں کہ مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے آنسو گیس اور سٹن گرنیڈز کی فائرنگ کے باعث مسجد اقصیٰ میں موجود درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

انسانی حقوق پر کام کرنے والی الزابتھ سرکوو نے بھی اسی ویڈیو کو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘اسرائیلی فوسز ال اقصی مسجد کے اندر گرنیڈ پھینک رہی ہیں۔ خدشہ ہے کہ تشدد میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ اسرائیل نے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلیوں کو پرانے شہر میں مارچ کرنے کی اجازت دے دی ہے جو کہ سنہ 1967 میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کرنے کی یاد میں کیا جاتا ہے۔

اسی طرح برطانوی اخبار دا انڈیپنڈنٹ کی نامہ نگار برائے مشرق وسطی بیل ٹریو نے ٹویٹ کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک گاڑی نے بے قابو ہو کر سڑک پر موجود شخص کو ٹکر مار دی۔

بیل ٹریو کا اس ویڈیو پر تبصرہ تھا کہ ‘یروشلم میں حالات انتہائی گھمبیر نظر آ رہے ہیں۔’

اس ویڈیو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ گاڑی ایک یہودی شخص چلا رہا تھا اور گاڑی پر پتھراؤ کے باعث وہ قابو نہ رکھ سکا اور مظاہرین سے جا ٹکرایا۔

امریکی خبر رساں ادارے سی بی ایس نیوز کے نمائندے امتیاز طیب نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’آج صبح ال اقصیٰ مسجد کے اندر کے افسوسناک مناظر، جہاں اسرائیلی حکام اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام میں گھس گئے۔‘

اسرائیلی اخبار ہارٹز کے صحافی اوی شارف نے بھی ٹویٹ میں تبصرہ کیا کہ آج انتہائی دائیں بازو کے یہودیوں کی جانب سے ‘یومِ یروشلم’ منانے کے لیے مارچ والے دن، امریکی صدر جو بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوون نے اسرائیلی اقدامات کی حمایت کی ہے جس کی مدد سے ‘وہ تمام ضروری اور مناسب اقدامات لیں تاکہ یروشلم دن کی تقریبات سکون سے ہو سکیں۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں