غزہ پر مسلسل ساتویں روز اسرائیلی بمباری، 174 فلسطینی ہلاک

غزہ + یروشلم (ڈیلی اردو رپورٹ) غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی بمباری کا سلسلہ ساتویں روز میں داخل ہوگیا اور اتوار کو کیے گئے فضائی حملوں میں مزید 26 فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ مزید 2 رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔

خبررساں اداروں رائٹرز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز فضائی حملوں میں اسرائیلی فوج نے خان یونس کے مغربی غزہ سٹی کے علاقے خان یونس میں غزہ میں حماس کے سیاسی و عسکری ونگ کے سربراہ یحیٰ السنور کے گھر کو نشانہ بنایا، مذکورہ رہنما کو سال 2011 میں اسرئیل کی جیل سے رہائی ملی تھی۔

علاوہ ازیں اسرائیلی میزائلوں نے پناہ گزینوں کے ایک کیمپ کو بھی نشانہ بنایا جس میں 8 بچوں سمیت 10 فلسطینی ہلاک ہوئے۔

قبل ازیں ایک حملے میں ایک 12 منزلہ الجلا نامی رہائشی عمارت کو مسمار کردیا گیا تھا جہاں الجزیرہ، امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پرین (اے پی) سمیت میڈیا کے دیگر اداروں کے دفاتر موجود تھے، عمارت کے مالک کو پیشگی حملے کے اطلاع دینے کے بعد تباہ کیا گیا تھا۔

غزہ میں پیر کے روز سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 47 بچوں اور 29 عورتوں سمیت 174 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ دو ملین آبادی والی غزہ پٹی میں جمعے کو ایک ہی خاندان کے دس اور ایک ہی خاندان کے چھ افراد اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہوئے۔

دوسری جانب حماس کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں 2 بچوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت ہوئی۔

حماس اور اسلامی جہاد کے شدت پسند گروپوں نے تصدیق کی ہے کہ ان کے 20 اراکین ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ اسرائیل نے بتایا ہے کہ، مرنے والے “دہشت گردوں” کی کل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

الجلا عمارت کی تباہی کے ردِ عمل میں حماس نے رات بھر میں اسرائیل میں 120 راکٹ داغے جس میں اکثر کو اسرائیلی دفاعی نظام نے راستے میں ہی تباہ کردیا جبکہ درجنوں غزہ میں ہی جا گرے۔

دوسری جانب مغربی کنارے میں بھی ہلاکت خیز جھڑپیں جاری جس میں اب تک اسرائیلی فوجیوں کے حملوں میں 12 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔

جب تک ضرورت ہے حملے جاری رہیں گے، اسرائیلی وزیراعظم

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمنت نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جب تک ضرورت ہے غزہ کی پٹی میں حملے جاری رہیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس عمارت میں متعدد میڈیا ہاؤسز تھے اسے حماس سمیت مختلف فلسطینی گروہ استعمال کررہے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ پر کیے جانے والے حملوں میں بچوں اور شہریوں کی ہلاکت سے بچاؤ کے لیے ‘خصوصی کیئر’ کررہا ہے۔

اسرائیلی بمباری سے غیر ملکی میڈیا ہاؤس تباہ

یاد رہے کہ سنیچر کے روز اسرائیل نے غزہ میں ایک کثیر المنزلہ عمارت کو فضائی حملے میں تباہ کر دیا جس میں بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ اور امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے دفاتر قائم تھے جبکہ سنیچر کو ہی ایک پناہ گزین کیمپ پر اسرائیل کے حملے میں آٹھ بچے اور دو خواتین ہلاک ہوئیں۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سنہ 2014 سے اب تک کا یہ سب سے پرتشدد تنازع رہا ہے۔

جس کثیر المنزلہ عمارت کو سنیچر کو نشانہ بنایا گیا اس میں الجزیرہ کے دفتر کے علاوہ کئی دیگر مقامی اور بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے دفاتر کے ساتھ کئی رہائشی اپارٹمنٹس بھی تھے۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس عمارت میں حماس کے ’عسکری اثاثے‘ موجود تھے۔

عمارت کے مالک نے حماس کی موجودگی کے اسرائیلی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمارت میں صرف میڈیا سمیت دیگر اداروں کے دفاتر تھے اور 60 کے قریب اپارٹمنٹس تھے۔

بی بی سی کے غزہ میں نمائندے رشدی ابوالوف کے مطابق یہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں تباہ کی گئی سب سے بڑی عمارت ہے۔

الجزیرہ ٹی وی کے مطابق اس عمارت کو نشانہ بنانے سے ایک گھنٹے قبل اسرائیلی حکام نے خبردار کیا تھا کہ عمارت کو خالی کر دیا جائے۔

اس کے اگلے ایک گھنٹے بعد وہ عمارت ایک فضائی حملے کے کچھ ہی لمحوں میں زمین بوس ہوگئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق الجلا ٹاور کے مالک جواد مہدی نے بتایا کہ ایک اسرائیلی انٹیلیجنس عہدیدار نے اُنھیں فون کر کے کہا کہ اُن کے پاس عمارت خالی کروانے کے لیے صرف ایک گھنٹہ ہے۔

اے ایف پی نے اُنھیں عہدیدار کے ساتھ فون پر مزید 10 منٹ کے لیے گڑگڑاتے ہوئے سنا تاکہ صحافی نکلتے ہوئے اپنے آلات ساتھ لے جائیں۔ لائن پر موجود عہدیدار نے انکار کر دیا۔

الجزیرہ کے نمائندے صفوت الکہلوت یہاں پر 11 سال سے کام کر رہے تھے۔ اُنھوں نے کہا: ‘میں نے اس عمارت سے کئی واقعات کور کیے، ہم نے یہاں پر کئی ذاتی اور پروفیشنل لمحات گزارے ہیں۔ اب سب کچھ صرف دو سیکنڈ میں ختم ہوگیا۔’

اس سے قبل غزہ میں ایسوسی ایٹڈ پریس کے نمائندے فارس اکرم نے ٹویٹ کی تھی کہ اب بم ہمارے دفاتر پر بھی گر سکتے ہیں۔ ‘ہم 11 ویں منزل سے سیڑھیوں سے بھاگتے ہوئے نیچے آئے اور اب دور سے عمارت کو دیکھ رہے ہیں اور دعا کر رہے ہیں کہ اسرائیلی فوج ارادہ بدل لے۔‘

اقوام متحدہ کا میڈیا دفاتر پر اسرائیلی حملے پر مایوسی کا اظہار

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سنیچر کے روز غزہ میں شہریوں کی ہلاکت اور بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر پر حملے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

انتونیو گوتریس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے الشاتی کیمپ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے دس افراد کی ہلاکت سمیت شہری ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سیکریٹری جنرل نے شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتونیو گوتریس غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے بہت پریشان ہوئے ہیں جس میں متعدد بین الاقوامی میڈیا کے دفتروں کے علاوہ رہائشی اپارٹمنٹس بھی موجود تھے۔

بیان کے مطابق سکریٹری جنرل نے تمام فریقوں کو یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ عام شہریوں اور میڈیا کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ہر قیمت پر اس سے گریز کرنا چاہیے۔

مصالحتی کوششوں کیلئے مصر کا وفد اسرائیل پہنچ گیا

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، مشرق وسطی میں مصالحتی کوششوں کو آگے بڑھانے اور جنگ بندی کے لیے مصر کا ایک وفد اسرائیل پہنچ چکا ہے۔ مصر کے علاوہ، قطر اور اقوام متحدہ نے بھی اس ضمن میں اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

غزہ پر اسرائیلی حملے

خیال رہے کہ رمضان المبارک کے آغاز سے ہی مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں اسرائیلیوں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں اور دیگر پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جبکہ اس دوران دنیا کے 3 بڑے مذاہب کے لیے انتہائی مقدس شہر میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس پر پاکستان نے شدید مذمت بھی کی ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں جمعہ (7 مئی) سے جاری پرتشدد کارروائیاں سال 2017 کے بعد بدترین ہیں جس میں یہودی آبادکاروں کی جانب سے مشرقی یروشلم میں شیخ جراح کے علاقے سے متعدد فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کرنے کی طویل عرصے سے جاری کوششوں نے مزید کشیدگی پیدا کی۔

یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے جاری قانونی کیس میں متعدد فلسطینی خاندان کو بے دخل کیا گیا ہے، اس کیس میں فلسطینیوں کی جانب سے دائر اپیل پر پیر (10 مئی) کو سماعت ہونی تھی جسے وزارت انصاف نے کشیدگی کے باعث مؤخر کردیا تھا۔

اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر حالیہ حملے 7 مئی کی شب سے جاری ہیں جب فلسطینی شہری مسجد الاقصیٰ میں رمضان المبارک کے آخری جمعے کی عبادات میں مصروف تھے اور اسرائیلی فورسز کے حملے میں 205 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔

جس کے اگلے روز 8 مئی کو مسجدالاقصیٰ میں دوبارہ عبادت کی گئی لیکن فلسطینی ہلالِ احمر کے مطابق بیت المقدس کے مشرقی علاقے میں اسرائیلی فورسز نے پرتشدد کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں مزید 121 فلسطینی زخمی ہوئے، ان میں سے اکثر پر ربڑ کی گولیاں اور گرنیڈز برسائے گئے تھے جبکہ اسرائیلی فورسز کے مطابق ان کے 17 اہلکار زخمی ہوئے۔

بعدازاں 9 مئی کو بھی بیت المقدس میں مسجد الاقصٰی کے قریب ایک مرتبہ پھر اسرائیلی فورسز کی پُرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہوئے۔

10 مئی کی صبح اسرائیلی فورسز نے ایک مرتبہ پھر مسجد الاقصیٰ کے قریب پرتشدد کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں مزید 395 فلسطینی زخمی ہوئے تھے جن میں سے 200 سے زائد کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں 300 فلسطینی شہریوں کے زخمی ہونے کے بعد حماس نے اسرائیل میں درجنوں راکٹس فائر کیے تھے جس میں ایک بیرج بھی شامل تھا جس نے بیت المقدس سے کہیں دور فضائی حملوں کے سائرن بند کردیے تھے۔

اسرائیل نے راکٹ حملوں کو جواز بنا کر جنگی طیاروں سے غزہ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں حماس کے کمانڈر سمیت 25 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

بعد ازاں 11 مئی کی شب بھی اسرائیلی فضائیہ نے ایک مرتبہ پھر راکٹ حملوں کو جواز بنا کر غزہ میں بمباری کی جس کے نتیجے میں 13 بچوں سمیت ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 43 تک پہنچ گئی، یہ راکٹ حملے بھی حماس کی جانب سے کیے گئے تھے جس میں 5 اسرائیلیوں کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

غزہ کی وزارت صحت نے 12 مئی کو صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں میں ہلاک افراد کی تعداد 48 ہوگئی ہے جن میں 14 بچے شامل ہیں اور زخمیوں کی تعداد 300 سے زائد ہوگئی ہے۔

دوسری جانب 6 اسرائیلی بھی ہلاک ہوئے تھے جبکہ غزہ سے تقریباً 1500 راکٹ فائر کیے گئے اور اسرائیل میں مختلف مقامات نشانہ بنائے گئے۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے مطابق 7 سے 10 مئی تک مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز کی پُرتشدد کارروائیوں میں ایک ہزار فلسطینی زخمی ہوچکے تھے۔

اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے عید الفطر کے روز بھی غزہ میں بلند و بالا عمارتوں اور دیگر مقامات پر مزید فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں پیر سے اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 103 تک پہنچ گئی جس میں 24 بچے بھی شامل ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں اور حماس کے راکٹ کی وجہ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال ‘وسیع پیمانے پر جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے’۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر پرتشدد کارروائیوں کے بعد عالمی برداری کی جانب سے ان حملوں کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔

مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ حساس تصور کیے جانے والی مسجد الاقصیٰ اس وقت سے تنازع کی زد میں ہے جب 1967 میں اسرائیل نے بیت المقدس کے مشرقی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اسے بعد میں اسرائیل کا حصہ بنا لیا تھا، اسرائیلی پورے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت اور یہودیوں کے عقائد کا مرکز قرار دیتے ہیں لیکن فلسطینی اسے اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔

اسرائیل کیخلاف مزاحمتی تحریک کا آغاز

اب حالیہ پر تشدد کارروائیوں کے باعث خدشہ ہے کہ غزہ میں تیسرے انتفادہ یا فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف مزاحمتی تحریک کا آغاز ہو سکتا ہے۔ پہلی تحریک سن 1987 سے 1993 تک جاری رہی جبکہ دوسری مزاحمتی تحریک یا انتفادہ کا آغاز سن 2000 میں ہوا اور یہ قریب پانچ سال تک جاری رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں