پاکستانی سکیورٹی اہلکار کی اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ، 6 اہلکار ہلاک، 7 زخمی

کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی) بلوچستان کے ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار نے فائرنگ کر کے کم از کم چھ ساتھی اہلکاروں کو ہلاک اور سات کو زخمی کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’سکیورٹی فورسز کے یہ افراد اپنے ہی ایک ساتھی اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

معتبر ذرائع نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ 20 مئی کو 9 بلوچ رجمنٹ کے سپاہی شریف نے ایس ایم جی سے اپنے ساتھیوں پر اندھا دھند فائرنگ کردیا جس کے نتیجے میں 6 فوجی اہلکار ہلاک اور 7 زخمی ہوئے۔

ڈیلی اردو کے مطابق فائرنگ میں ہلاک ہونے والے اہلکارروں کی شناخت ہو چکی ہے جن میں حوالدار غلام دستگیر، سپاہی احمد نواز، نائک محمد اشرم، سپاہی بلال حسین، لانس حولدار غلام فرید، سپاہی محمد شہباز شامل ہے۔

جبکہ زخمی ہونے والے اہلکاروں میں نائک نور خان، سپاہی ریاض حسین، سپاہی مظاہر حسین، بی آر سپاہی علی رضا، سپاہی ساجد سرور، سپاہی نواز اور نان کمیشن بٹ مین ندیم عباس شامل ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والوں میں ایک اہلکار نان کمیشن بٹ مین ندیم عباس کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

ایف سی ذرائع نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے تاہم انھوں نے سکیورٹی فورس کے اہلکار کی جانب سے ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے محرکات نہیں بتائے۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ضلع کیچ میں دشت کے علاقے بل نگور میں پیش آیا۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ بل نگور میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے اندر متعدد اہلکار بیٹھے تھے کہ ان پر ان کے ایک ساتھی نے فائرنگ کر دی۔ انھوں نے بتایا کہ ’فائرنگ کی زد میں سکیورٹی فورسز کے 13 اہلکار آگئے جن میں سے چھ ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔‘

محکمہ داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

اس بارے میں مکران ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ’ہم نے اس واقعے کے متعلق سنا ہے اور ایف سی سے رپورٹ طلب کی ہے۔‘

بلوچستان میں منظر عام پر آنے والا اپنی نوعیت کا پہلا بڑا واقعہ

ماضی میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر ان کے اپنے ہی ساتھیوں کے فائرنگ کے معمولی واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

لیکن ہلاکتوں اور زخمیوں کی بڑی تعداد کے حوالے سے ضلع کیچ کے کسی علاقے سے منظر عام پر آنے والا یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

ضلع کیچ کہاں واقع ہے؟

ضلع کیچ صوبہ بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ یہ ضلع انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔

ضلع کیچ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔

بلوچستان میں امن و عامہ کے حالات کی خرابی کے بعد سے اس ضلع میں بھی سیکورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ کمی و بیشی کے ساتھ بدامنی کے دیگر واقعات رونما ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح ضلع کیچ میں بھی حالات میں بہتری آئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں