کراچی: بحریہ ٹاؤن کے باہر احتجاجی مظاہرے میں ہنگامہ آرائی، عمارتیں اور گاڑیاں نذرِ آتش

کراچی (ڈیلی اردو/وی او اے/بی بی سی) پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نجی ہاؤسنگ اسکیم بحریہ ٹاؤن کی جانب سے قریبی دیہات کے مکینوں کو مبینہ طور بے دخل کرنے کے خلاف متاثرین اور قوم پرست سیاسی جماعتوں نے اتوار کو احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران مشتعل افراد نے ہاؤسنگ اسکیم کے داخلی دروازے پر آگ لگا دی جب کہ مختلف دکانوں اور دفاتر کے شیشے بھی توڑ دیے۔

مظاہرین نے گاڑیوں سمیت شوروم اور دیگر املاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا، مظاہرین نے اس دوران جلاؤ گھیراؤ کر کے بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے کو بھی آگ لگا دی۔

اس احتجاج کی کال سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے دی تھی۔ ان جماعتوں میں ’قومی عوامی تحریک‘، ’جئے سندھ محاذ‘، ’سندھ مزاحمتی تحریک‘، ’سندھ یونائیٹڈ پارٹی‘ کے علاوہ ’سندھ انڈیجنس رائٹس آرگنائزیشن‘ نامی تنظیم اور عوامی ورکرز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں بھی شامل ہیں۔

احتجاج کے باعث کراچی سے صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد آنے اور جانے والے ٹریک پر گاڑیوں کی آمد مکمل طور پر بند رہی۔ کشیدگی بڑھنے پر پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

احتجاج کی کال پر مظاہرین کی بڑی تعداد صبح ہی سے بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے کے باہر پہنچنا شروع ہو گئی تھی۔

یہ مظاہرین کراچی کے علاوہ ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد اور ٹنڈو محمد خان سے بسوں، ویگنوں اور نجی گاڑیوں پر پہنچے تھے۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے احتجاجی قافلوں کو کئی مقامات پر روکا۔ تاہم صوبائی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے جب کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج مظاہرین کا حق ہے۔

احتجاج میں شریک سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی مدد سے بحریہ ٹاؤن کے قبضے کے خلاف پر امن احتجاج کی کال دی گئی تھی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پرتشدد احتجاج کی مذمت کی اور اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے پہلے تو لوگوں کو اس احتجاج میں شرکت سے روکنے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں ناکامی کی صورت میں سازش کے تحت احتجاج کو پرتشدد بنایا گیا۔

جلال محمود شاہ کا کہنا تھا کہ وہ صوبۂ سندھ میں برسراقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے زمینوں پر مبینہ قبضے میں برابر کا شریک سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف وہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر آواز اٹھاتے رہیں گے۔

دوسری جانب اس صورتِ حال پر اب تک سندھ حکومت کا مؤقف سامنے نہیں آیا ہے. تاہم ضلع ملیر کی پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صورت حال کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور مظاہرین کو بحریہ ٹاؤن سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ جب کہ سڑک کو کھولنے کے لیے بھی اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔

ہنگامہ آرائی کے دوران ایک بینک کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور اے ٹی ایم کو لوٹ لیا گیا۔ ادھر اس ہنگامہ آرائی پر بحریہ ٹاؤن انتطامیہ کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

وائس آف امریکہ کی سے جانب سے ان کے ترجمان سے رابطہ کرنے پر بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ادھر ایس ایس پی ضلع ملیر عرفان بہادر کا کہنا ہے کہ ایم نائن موٹر وے کو عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ تاہم ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہے گی۔

ایس ایس پی ملیر کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی میں ملوث بعض افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ تاہم ابھی اس بارے میں کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔

احتجاج کیوں کیا جارہا ہے؟

مظاہرین کے بقول نجی ہاؤسنگ اسکیم نے اپنی حدود سے باہر ہزاروں ایکڑ پر قدیم دیہات کی زمینوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ متصل کئی دیہات کے لوگوں کا الزام ہے کہ سرکاری سرپرستی میں ان کی زمینوں پر مسلسل قبضہ کیا جا رہا ہے۔ بحریہ کا اصل رقبہ 16 ہزار ایکڑ سے تجاوز کرکے 45 ہزار ایکڑ تک جا پہنچا ہے۔

چند ہفتے قبل بھی ان دیہات کے رہنے والوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور حکومت سے مطالبہ کیا تھاکہ اُن کی زمینوں پر قبضے کو روکا جائے۔

احتجاج کا سلسلہ گزشتہ پانچ برس سے وقتاً فوقتاً جاری ہے اور یہاں کی مقامی دیہی آبادی کے مطابق عدالتی فیصلہ آنے کے بعد بھی ان کی زمینوں پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے۔

بحریہ ٹاؤن کراچی کے اردگرد دیہات میں رہنے والے ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں سے ان کارروائیوں کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

مقامی دیہاتیوں کے احتجاج میں گزشتہ ہفتے اس وقت شدت آ گئی تھی جب نجی ہاؤسنگ اسکیم نے مبینہ طور پر اپنی ملکیت کے دعوے کے تحت دیہات کی زمینوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی۔

ان دیہات میں مقیم رہائشیوں کا کہنا ہے کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ان کے راستے بند کر رہی ہے جب کہ کئی دیہات پہلے ہی بحریہ ٹاؤن کی حدود میں شامل کیے جا چکے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کے قریب جن دیہات پر قبضے کی شکایات کی جارہی ہیں ان میں نور محمد گبول گوٹھ، عبداللہ گبول گوٹھ، ہادی بخش گبول گوٹھ اور کمال خان جوکھیا اور داد کریم بلوچ کی زمینیں شامل ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی ہی اختیار کی جاتی رہی ہے تاہم نو مئی کو سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کبھی کسی زیادتی یا غیر قانونی سرگرمی کا حصہ بنا ہے اور نہ مستقبل میں ایسی کسی سرگرمی میں شامل ہو گا۔

انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ بعض مقامی سیاسی افراد بحریہ ٹاؤن کو بلیک میل کر رہے ہیں جن کا مقصد سیاسی اور مالی مفادات حاصل کرنا ہے۔

بحریہ ٹاؤن اور کراچی کے دیہات میں بسنے والوں کے درمیان اس تنازع سے متعلق سندھ میں برسر اقتدار جماعت پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی صوبائی حکومت کو تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی تاحال اس بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کیے جانے والے احتجاج پر سوشل میڈیا پر صارفین گرما گرم بحث میں حصہ لے رہے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کراچی کے باہر ہونے والے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا صارف سعد تمیمی کا کہنا تھا کہ ’جہاں اس وقت سندھ کے عوام بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے خلاف زمینوں پر قبضے کے لیے مقامی افراد پر فائرنگ اور زبردستی زمین ہتھیانے کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں وہیں ہمارے ’آزاد میڈیا‘ پر بھی سوالیہ نشان ہے، میں مختلف ٹی وی چینلز دیکھ رہا ہوں لیکن کوئی چینل اس مظاہرے کو نہیں دکھا رہا۔‘

صحافی و تجزیہ نگار مبشر زیدی نے بھی سندھ قوم پرست جماعتوں اور مقامی افراد کی جانب سے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ سندھ کے عوام بحریہ ٹاؤن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔‘

جبکہ جواد خان نامی صارف نے مشتعل مظاہرین کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بحریہ ٹاؤن میں آگ لگی ہوئی ہے، بہت سی عمارات کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور ہوائی فائرنگ کے واقعات بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ بھاری نفری بحریہ ٹاؤن کراچی کے باہر تعینات ہے۔ عوام محتاط رہے۔‘

صحافی و اینکر محمد مالک نے بھی بحریہ ٹاؤن کراچی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی ایک ویڈیو پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بحریہ ٹاؤن کراچی میں آج کے بہت سے مناظر میں سے ایک، مشتعل مظاہرین کا پاگل پن۔‘

بحریہ ٹاؤن کراچی کیخلاف عدالتوں میں ماضی کے مقدمات

سنہ 2019 میں سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کی طرف سے زمین کی خریداری میں مبینہ بدعنوانی کا معاملہ سامنے آنے پر اس کی انتظامیہ کو 460 ارب روپے قسط وار سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

اہم بعد میں بحریہ ٹاؤن نے عدالت سے درخواست کی کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث انھیں ادائیگی میں مہلت دی جائے لیکن عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ حکومت کا ماننا ہے کہ معشیت میں بہتری آ رہی ہے اور بحریہ ہاؤسنگ میں پلاٹوں اور مکانات کی پہلے سے بکنگ ہوچکی ہے۔

اسی طرح سندھ ہائی کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف ایک مدعی فیض محد گبول کے حق میں فیصلہ دیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں