بنوں: جانی خیل قبائل کا اسلام آباد کی طرف مارچ، پولیس سے جھڑپوں میں ایک نوجوان ہلاک

پشاور (ڈیلی اردو) خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں سے ملحقہ نیم قبائلی علاقے جانی خیل سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بدھ کو تین ہفتے سے جاری احتجاجی دھرنے کو لاش سمیت اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے لانگ مارچ شروع کیا تھا البتہ پولیس نے ان کو آگے بڑھنے سے روک دیا اور جھڑپوں میں ایک شہری ہلاک ہوا ہے۔

متعدد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل قافلہ بنوں کی حدود میں داخل ہوا تو مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ جھڑپوں میں ایک قبائلی نوجوان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے نوجوان کا نام واحد وزیر بتایا گیا ہے۔ یہ نوجوان بکاخیل کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔

بنوں میں قبائلی رہنما ملک گل نصیب خان کو 30 مئی کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔ ان کے لواحقین نے پوسٹ مارٹم کے بعد تدفین کے بجائے لاش سمیت دھرنا دے دیا تھا۔ البتہ ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوئے جس کے بعد قبائلی جرگے میں وفاقی دارالحکومت صبح اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کر دیا۔

خیال رہے کہ مقامی انتظامیہ نے قبائلیوں سے معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ان علاقوں میں قیامِ امن ممکن بنانا اور نقاب پوشوں کی گرفتاری شامل تھی۔

احتجاجی دھرنے کے 24 روز مکمل ہونے کے بعد روایتی جرگے نے لاش سمیت اسلام آباد مارچ کا فیصلہ کیا تو اس دھرنے کے شرکا نے جانی خیل سے وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ شروع کیا گیا۔

جانی خیل قبائل کے قومی جرگے کے رکن ملک حبیب خان نے وائس آف امریکہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قافلے میں شامل چند نوجوان بنوں کی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔ البتہ پولیس نے لاٹھی چارج اور تشدد شروع کر دیا جس کے باعث پیش قدمی رک گئی۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرین بنوں کے قریب علاقے بکاخیل کی ایک مسجد میں رک گئے ہیں اور مارچ کے حوالے سے صلاح و مشورے کیے جا رہے ہیں۔

ملک حبیب خان نے دعویٰ کیا کہ کہ پولیس کے تشدد سے ایک نوجوان ہلاک جب کہ 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت یا انتظامیہ نے تاحال مذاکرات کے لیے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا۔

بنوں سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد وسیم خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب مظاہرین کا قافلہ ٹوچی پل کے قریب پہنچا تو اُنہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے فائر کیے اور لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ دوسری جانب احتجاج میں شامل بیشتر نوجوانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کئی ایک رکاوٹیں عبور کرکے بنوں پہنچ چکے ہیں۔

وسیم خان کے مطابق پولیس اہلکاروں کے لاٹھی چارج اور مظاہرین کے پتھراؤ سے دونوں جانب متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے بقول بکاخیل سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان ہلاک بھی ہوا ہے۔

بنوں کی انتظامیہ اور پولیس حکام نے ہلاک ہونے والے نوجوان کے بارے میں کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا۔

رپورٹس کے مطابق بنوں شہر کے حالات کشیدہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں