رحیم یار خان: توہین رسالت کیس میں رہائی پانے والے نوجوان کو پولیس کانسٹیبل نے قتل کر دیا

رحیم یار خان (ڈیلی اردو) صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں حال ہی میں توہین رسالت کیس میں رہائی پانے والے وقاص نامی نوجوان کو پولیس کانسٹیبل نے بے دردی سے قتل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق وقاص نامی نوجوان کو پولیس کانسٹیبل حافظ عبد القادر نے اڈا روشن بھیٹ چوک بہادر پور میں ٹوکے کے وار کے قتل کر دیا ہے۔ مقتول کی عمر 24 سال بتائی جا رہی ہے۔ پولیس اہلکار نے مقتول وقاص کے بھائی کو بھی زخمی کر دیا۔

پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم پولیس اہلکار حال ہی میں میں بھرتی ہوا تھا۔ ملزم اور مقتول نوجوان کا تعلق ایک ہی گاؤں سے بتایا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق اس نے پولیس کے بتایا کہ وہ سنہ 2016 سے محمد وقاص کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا تاہم اس وقت وہ جیل چلے گئے تھے۔

سنہ 2016 میں محمد وقاص کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر گستاخانہ خاکے شیئر کرنے پر توہینِ رسالت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق سنہ 2017 میں صادق آباد کی ایک عدالت نے انھیں سزا سناتے ہوئے جیل بھیج دیا تھا۔

تاہم انھوں نے ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔ حال ہی میں ہائی کورٹ نے انھیں توہینِ رسالت کے الزام سے بری کر دیا تھا اور وہ جیل سے رہا ہو گئے تھے۔ پولیس کے مطابق جیل سے رہا ہونے کے بعد محمد وقاص اپنے گھر لوٹنے سے پہلے کچھ عرصہ کہیں اور قیام کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں