افغان نائب صدر نے ٹویٹر پر پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کی پرانی تصویر شیئر کردی

کابل + اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) ’ہماری تاریخ میں ایسی کوئی تصویر نہیں اور نہ ہی ہو گی۔ ہاں کل جب ایک راکٹ نے اُوپر اڑان بھری اور کچھ میٹر کے فاصلے پر گِرا تو میں ایک لمحے کے لیے سہم گیا تھا۔‘

اپنی اس ٹویٹ میں دراصل افغان نائب صدر امراللہ صالح ان راکٹ حملوں کا ذکر کر رہے ہیں جو نماز عید کے دوران کابل میں صدارتی محل کے قریب ہوئے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ‘پاکستانی ٹوئٹر کے معزز حملہ آورو، طالبان اور دہشتگردی اس تصویر کا صدمہ مٹا نہیں سکیں گے۔ دوسرے طریقے ڈھونڈو۔‘

ساتھ ہی افغان نائب صدر نے وہ تصویر شیئر کی جو سنہ 1971 کی پاکستان، انڈیا جنگ کے بعد پاکستانی جنرل کی جانب سے سرینڈر ڈاکومنٹ پر دستخط کرنے کے موقع پر لی گئی تھی۔

یاد رہے کہ افغان صدارتی محل کے قریب عید کے روز ہونے والے حملوں کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر اشرف غنی اور نائب صدر امراللہ صالح سمیت افغان حکومت کے اعلیٰ عہدیدار نمازِ عید ادا کر رہے ہیں جس کے دوران راکٹ فائر گرنے کی آوازیں آتی ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اشرف غنی اور دیگر رہنما اس کے باوجود نماز جاری رکھتے ہیں۔

اس ویڈیو میں امر اللہ صالح بھی ہیں جو راکٹ کی خوفناک آواز سُن کر ایک لمحے کے لیے نماز کے دوران ’سہم‘ جاتے ہیں تاہم وہ بھی نماز جاری رکھتے ہیں۔

چونکہ امراللہ کئی دن سے طالبان کی افغانستان میں پیش قدمی پر اسلام آباد اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کو ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں، اسی لیے اس ویڈیو میں انھیں ’ڈرا ہوا‘ دیکھ کر بعض پاکستانی صارفین ٹوئٹر پر اُن کا مذاق اڑا رہے تھے۔

ٹوئٹر پر پاکستانی صارفین کی جانب سے اس نوعیت کی ٹویٹس کے بعد افغان نائب صدر نے سنہ 1971 کی سرینڈر کے موقع پر لی گئی تصویر شیئر کی اور اس کے ساتھ اوپر بیان کردہ کیپشن لکھ کر اپنے ’دل کی بھڑاس‘ نکالی۔

اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے امِ رباب نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’(یہ ہیں) انڈین فوج کے مشہور کپتان۔‘ جبکہ سحر شنواری نے کہا کہ ’ہم نے بھی تاریخ میں ایسا بہادر نائب صدر نہیں دیکھا جو (دھماکے کی) آواز سے ڈر گئے مگر پھر شرمندہ ہو کر نماز پڑھتے رہے۔‘

دوسری جانب فرخندہ اکبری سمجھتی ہیں کہ اس واقعے پر افغان نائب صدر کا مذاق اڑانا نامناسب اس لیے بھی ہے کیونکہ اُن پر ماضی میں کئی بار قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ ’بطور انسان وہ آج بھی ان صدمات سے گزر رہے ہوں گے لیکن پھر بھی ثابت قدم ہیں۔‘

پاکستانی امراللہ صالح سے نالاں کیوں؟

گذشتہ ہفتے کے دوران افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے سابق سربراہ اور ملک کے نائب صدر امراللہ صالح نے پاکستان پر متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔

اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’اس (پاکستان) کی فضائیہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر چمن بارڈر کے قریب أفغانستان کی حدود میں اُن طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی جنھوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا ہے تو اس کا پاکستان کی جانب سے جواب دیا جائے گا۔‘

تاہم پاکستان کی دفتر خارجہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کے بعض حکام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے جھوٹ پر مبنی بیانات جاری کر رہے ہیں حالانکہ پاکستان نے کل ہی سپین بولدک پر طالبان کے حملے کے دوران وہاں سے فرار ہو کر پاکستان پہنچنے والے چالیس افسروں اور اہلکاروں کو واپس افغانستان پہنچایا ہے۔‘

بات صرف یہاں تک محدود نہیں رہی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے یہ بیان جاری ہونے کے بعد انھوں نے جواباً لکھا کہ ’بیس سال تک پاکستان کوئٹہ شوریٰ یا طالبان دہشتگرد رہنماؤں کی اپنی سرزمین پر موجودگی سے انکار کرتا رہا ہے۔‘

ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’(ہمارے) لوگ راولپنڈی جی ایچ کیو کی حمایت یافتہ علما کی آمریت کے خلاف متحد ہیں۔‘

یاد رہے کہ پاکستانی حکام نے بارہا اس نوعیت کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہےاور یہ کہ پاکستان افغان حکومت کے خلاف طالبان کی پشت پناہی نہیں کر رہا۔

مگر عید کے روز حملے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ بیشتر پاکستانی صارفین اسی موقع کے انتظار میں تھے۔

عرفان نامی نے لکھا کہ ’مفتیان کرام رہنمائی فرمائیں کہ اگرعید کی نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو کیا کرنا چاہیے۔ کم ازکم امراللہ صالح کا وضو تو ضرور ٹوٹ گیا ہو گا۔‘

مگر بعض صارفین افغان نائب صدر کی حمایت میں بھی آگے بڑھے اور انھوں نے ان سنگین حالات میں کسی کے خوفزدہ ہونے کا مذاق اڑانا ’غیر اخلاقی‘ قرار دیا۔

امراللہ کے دفاع میں پاکستان کی سابق رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر کہتی ہیں کہ ’راکٹ کی آواز پر آپ کا ردعمل فطری تھا۔ وہ لوگ جو اسے استعمال کر کے آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ بیوقوف ہیں۔

صحافی حسن عبداللہ کہتے ہیں کہ ’جناب نائب صدر، ایسے حالات میں سہم جانا انسانی فطرت ہے۔ (مگر) دونوں طرف سیاستدانوں کو ٹرولنگ کی وجہ سے اشتعال میں نہیں آنا چاہیے۔‘

رنچھوڑ داسن نامی صارف کی رائے میں ’جو لوگ ان پر ہنس رہے ہیں اگر ان پر راکٹ داغا جائے تو شاید پانچ سیکنڈ کے لیے بھی وہاں موجود نہ رہ پائیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں