افغان فورسز کی کارروائیوں میں 385 طالبان ہلاک، 210 زخمی

کابل (بیورو رپورٹ) افغانستان کی سرکاری فورسز کی جانب سے شروع کی گئی ایک روزہ کارروائیوں اور فضائی حملوں میں تقریباً 385 طالبان دہشت گرد ہلاک اور 210 زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ہفتہ کے اوائل میں متعدد شہروں میں جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔

فوج کی 215 ویں میوند کور نے ایک بیان میں کہا کہ افغان فضائیہ کی حمایت یافتہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے جنوبی صوبہ ہلمند اور مغربی صوبہ نمروز میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملوں میں کم از کم 276 طالبان عسکریت پسند ہلاک اور 47 عسکریت پسند زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں نمروز کیلئے طالبان کا فرضی گورنر عبدالخالق عرف آقا عابد بھی شامل ہے۔ طالبان دہشت گردوں نے جمعہ کے روز حملہ کر کے نمروز کے دارالحکومت زرنج پر قبضہ کر لیا ہے۔

بیان کے مطابق مذکورہ صوبوں میں عسکریت پسندوں کی 8 گاڑیاں، 5 موٹر سائیکلیں اورایک ہیوی گن تباہ کر دی گئی ہے۔

مئی میں امریکہ کی زیرقیادت فوجیوں کا انخلاء شروع ہونے کے بعد سے اب تک طالبان دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھی ہوئی ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران افغانستان کے متعدد شہر اور ملک کے 34 صوبوں میں سے تقریباً نصف صوبوں میں شدید لڑائیاں جاری ہیں اور سڑکیں میدان جنگ بنی ہوئی ہیں۔

فوج کی 209 ویں شاہین کور نے بتایا کہ عوامی مزاحمتی قوتوں کی حمایت سے سیکورٹی فورسز نے شمالی صوبہ جوزجان کے دارالحکومت شبرغان شہر سے طالبان کو بے دخل کر دیا ہے اور تقریباً 40 دہشت گرد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ شہر حالیہ دنوں میں سڑکوں پر شدید جھڑپوں اور لڑائیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہفتہ کے اوائل میں شہر میں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور طالبان دہشت گردوں نے متعدد سڑکوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

آرمی کور کے بیان کے مطابق اسی عرصہ کے دوران ہمسایہ صوبہ سمنگان میں 19 طالبان ہلاک اور 13 زخمی جبکہ شمالی صوبہ تخار میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کے دوران 13 طالبان ہلاک اور 8 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

طالبان نے ابھی تک ان خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں