داعش دنیا کیلئے تیزی سے خطرہ بن رہی ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ (ڈیلی اردو/شِنہوا) اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی دفتر کے سربراہ نے کہا ہے کہ داعش کی جانب سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو اب بھی سنگین خطرہ لاحق ہے اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس میں تیزی سے اضافہ ہوا جس سے عالمی سطح پرسنجیدہ خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انڈرسیکرٹری جنرل ولادیمیر ورونکوف نے سلامتی کونسل کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ داعش کوویڈ-19 کی وبا کی وجہ سے پیداشدہ رکاوٹوں، ناانصافیوں اور ترقیاتی مسائل کوخود کو دوبارہ منظم کرنے، نئے پیروکاروں کی بھرتی اور اپنی سرگرمیوں کوآن لائن اور زمین پر تیز کرنے کے لیے مسلسل استعمال کررہی ہے۔

ورونکوف جو اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی دفتر کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ عراق اور شام میں داعش کے مرکز کو اب بھی اہم اور پوشیدہ مالیاتی ذخائر تک رسائی حاصل ہے، جن کا تخمینہ 2 کروڑ 50 لاکھ سے 5 کروڑ امریکی ڈالر ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش نے اپنی گورننس میں عدم مرکزیت کو فروغ دیا ہے اور اس کی علاقائی شاخوں کو ملنے والی اضافی خود مختاری، صلاحیت اور اعتماد اس کو نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں