چاہتے ہیں طالبان صرف سی پیک نہیں دوسرے منصوبوں میں شریک ہوں، صدر ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد (اردو/این این آئی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے افغانستان میں پرامن حکومت کے قیام کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں طالبان نہ صرف پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پیک) بلکہ دوسرے منصوبوں میں بھی شریک ہوں۔

ایک انٹرویو میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اگر افغانستان پرامن رہے اور ایک پرامن حکومت آئے جو بھارت کی مداخلت روکے تو پاکستان کے لیے بونا نزا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر پرامن زمانے میں ڈیویلپمنٹ کی اتنی زیادہ کی ضرورت ہے، یہ امریکی ڈیویلپمنٹ کی کوشش کرتے رہے، جنگ بھی چلتی رہی ڈیویلپمنٹ بھی ہوتی رہی اور پیسے بھی چوری ہوتے رہے، بہت بڑی کہانی ہے، اگر وہاں ڈیویلپمنٹ شروع ہوجائے تو پاکستان کے لیے بونانزا ہوگا۔

انہوںنے کہا کہ جنگ کے اندر سب سے زیادہ نقصان افغانستان کے لوگوں کا ہوا اور دوسرا سب سے زیادہ نقصان پاکستانیوں کا ہوا، دوسرا بدترین متاثرہ ملک پاکستان تھا۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم کہتے ہیں 150 ارب ڈالر کا ہماری معیشت پر فرق پڑا اوراس دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے تقریباً ایک لاکھ لوگ شہید ہوئے، پھر 35 یا 40 لاکھ افغان یہاں رہے تو ہماری معیشت پر اثر پڑا۔

صدرمملکت نے کہا کہ افغانستان میں امن آیا تو ہماری سب سے بڑی جیت ہوگی، سب سے زیادہ بھلا ان کا ہوگا اور دوسرا ہمارا ہوگا، سارا ری کنسٹرکشن ڈیویلپمنٹ، روڑ، بلڈنگ، بزنس انفراسٹرکچر، پھر ان کا سارا ڈائسپورا یہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی ساری آبادی پاکستان کے معاملات سے واقف ہے، پاکستان کی ٹیکنالوجی سے واقف ہے، افغانستان کے مقابلے میں پاکستان میں انفارمیشن سمیت ہر چیز کا بیس بہت بڑا ہے، کنسٹرکشن بیس بھی بہت بڑا ہے اورہمارے لوگ اس میں شامل ہوں گے۔

انہوںنے کہاکہ یہ اللہ کی طرف سے پاکستان کے لیے بڑا احسان ہوگا اور میں دعاگو ہوں کہ افغان بھائیوں کے لیے امن کی ضرورت ہے اور پھر پاکستان کے لیے بھی۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ افغانستان نے سب سے پہلے امریکا کو واضح طور پر یہ بات کہی کہ ہماری سرزمین تمہارے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، دوسری مرتبہ چین سے کہی پھر پاکستان اور اپنے پڑوسیوں کو بھی یہ بات کہی بلکہ ہندوستان کی طرف کو تنبیہ کے الفاظ استعمال کیے کہ ہماری زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کیفیت دنیا میں بھی عجیب اختیار کیا یعنی دنیا کہتی ہے، تم لوگوں کی وجہ سے جنگ ہارے، یہ بات تو بالکل غلط ہے، افغانستان کی جنگ وہ خراب فیصلہ سازی کی وجہ سے ہارے۔انہوںنے کہاکہ امریکا کو 2۔3 کھرب ڈالر خرچ کرکے عمران خان اور پاکستان کی بات آج سمجھ آئی، بڑا مہنگا، لاکھوں لوگوں کو شہید کرکے اور تباہی پھیلا کر یہ بات آج سمجھ میں آئی’۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو سیاسی پیر مان لو یا پاکستان کو مان لو، خان صاحب سے رجوع کرلینا چاہیے اور ایک ہمیں آنی چاہیے پاکستان کو کہ یہ آپ کا کیا مشورہ ہے، وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے امریکا کے کال کا کوئی انتظار نہیں ہے۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بھارت اپنے شہریوں کے اندر ایک آگ لگا رہے ہیں، شہریت کا قانون آیا، دنیا نے اتنی مذمت نہیں کی جتنی ہونی چاہیے، ان کے فیصلے مسلمان مخالف اور کشمیر مخالف ہیں اور افغانستان کے خطے کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کے اندر شرارت کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کے بس میں بھی افغانستان نہیں تھا بلکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جب یہاں پر افغان وفود اور صدر آئے تو میرے ساتھ بھی غلط بیانی ہوتی رہی ہے، ایک دن کہا کہ ہم نے پچھلے مہینے 10، 15 اور 20 ہزار طالبان مار دئیے۔افغانستان کی سابق حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا خیال یہ ہے کہ وہاں غلط بیانی، بے ایمانی یہ سارے کام چل رہے تھے اور پیسہ امریکا سے آرہا تھا اور ساری ناکامی خود نہیں لیتے تھے اور پاکستان پر ڈال دی جاتی تھی، امریکی پالیسی کی ناکامی ہوئی ہے، کسی ملک یا انسان کو اپنی لطی ماننا بڑا مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مسئلہ اب ٹی ٹی پی ہے، ٹی ٹی پی خطرہ ہے، ان کی صف اول کی قیادت نہیں بلکہ دوسری یا تیسری صف کے رہنماؤں کی طرف سے یہ بات ہوئی ہے کہ وہ کہیں گے ہمارے پاس رہیں مگر پاکستان کے خلاف کوئی حرکت نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے کہا کہ جو ہتھیار ڈال کر پاکستان کے آئین کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، ان کو تسلیم کرتے ہوئے، پاکستان بھی سوچے گا کہ ان کو ایمنسٹی دے یا نہ دیں، ایک قدم ہے، پاکستان عام معافی کا سوچے گا، اگر کوئی ہتھیار ڈالتا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لے رہا، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگ جو کریمنل سرگرمیوں میں نہیں رہے ہوں، ٹی ٹی پی والا نظریہ چھوڑ کر پاکستان کے آئین کی پابندی کرنے کے اعتبار سے آنا چاہیں تو حکومت سوچ سکتی ہے کوئی معافی کا اعلان کرے، امن کا طریقہ تو یہ بھی ہوسکتا ہے، یہ نہیں کہ پاکستانی ہیں اور جتنے ہزار بھی ہیں، وہ باہر ہیں اور ہم نے ان کو پورا ڈس اون کردیا، تو کوئی نہ کوئی طریقہ اپنانا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحد میں باڑ سے بڑا فائدہ ہوا ہے، اشرف غنی سے پوچھا کہ تمہارے ہاں پاکستان کے حوالے سے کیا مسئلہ ہے تو انہوں نے کہا آپ سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں۔سی پیک میں طالبان کی شمولیت کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں شامل کرنے کا سوچا جاسکتا ہے، افغانستان کی سرزمین کے ذریعے پاکستان کی وسطی ایشیا سے رابطہ کاری ہوسکتی ہے، صرف سی پیک نہیں بلکہ اور سارے منصوبوں میں ہم چاہتے ہیں کہ وہ شریک ہوں۔

بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت جو نسل کشی کر رہا ہے وہ اس کے لیے بھی بڑی نقصان دہ ہے، پھر کر کیوں کر رہا ہے کیونکہ آرایس ایس اور ہندو توا کا ذہنی سوچ مسلمان دشمنی ہے، مسلمان وہاں 14 ، 15 فیصد ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی قوم میں وہ آگ لگا رہا ہے، جس آگ سے ہم نکل چکے ہیں، ہم نے 30، 35 سال میں سیکھا لیکن وہ اب اس کنویں میں چھلانگ مار رہا ہے۔

کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری سمجھ نہیں آیا کہ اپوزیشن کیا کہتی ہے، ہم نے کیا دے دیا، ہم نے ان سے کہا کہ 35 اے یا 370 کر دو، سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کہہ کیا رہے ہیں، میرا خیال ہے سیاسی اکھاڑے کی مجبوری ہے کہ ہر چیز پر الزام لگا دینا۔اپوزیشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے میں یہ غیرذمہ داری والا بیان ہے، میں اپنی ذات سے تصور بھی نہیں کرسکتا کہ میں سوچوں کی کشمیر کے سلسلے میں کسی کوئی چیز دے دی جائے، جب تک کشمیر کے عوام کی رائے اس میں شامل نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ قومی معاملات ہیں جو ہماری ساخت کی وضاحت کرتے ہیں، مثال کے طور پر آئین ہماری ساخت کو ڈیفائن کرتا ہے، اسی طرح کشمیر بھی پاکستان کی ساخت کو ڈیفائن کرتا ہے، ان معاملات پر عوام کو غیرذمہ داری والے بیانات نہ بھیجیں۔گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کے وعدے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ قانون کا معاملہ کابینہ میں زیر بحث آنے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم صوبائی درجہ اس لیے دینا چاہتے ہیں ہم اپنی کشمیر کے مسئلے کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں مگر وہاں کے عوام کا مطالبہ ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ جب میں 2013 سے 2018 تک قومی اسمبلی میں تھا تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وزیر کہتے تھے کہ آپ صحت کمیٹی میں آئیں کیونکہ پی ایم ڈی سی کا قانون ٹھیک کرنا تھا لیکن وہ کر نہیں سکے، اسی طرح اس حکومت کو اپاہج بنادیا جائے کہ قانون منظور نہیں کرنا تو آئین نے ایک طریقہ دیا ہے آرڈیننس کا اور آرڈیننس نکلتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ میری پوری اسٹڈی ہے کہ ہماری حکومت کے دوران بہت کم آرڈیننس نکلے ہیں، پیپلزپارٹی نے ایک، ایک سال میں 100 آرڈیننس نکالے ہیں، حتمی اعداد و شمار میں بھیجوں گا وہ ٹی وی پر دیکھائے گا۔ ملک میں اسٹبلشمنٹ کے کردار سے متعلق سوال پر صدر مملکت نے کہا کہ امن و امان کے اعتبار سے، سیاسی معاملات میں الیکشن کے دن بہت ساری جگہوں پر ضرورت پڑتی ہے وہاں اسٹبلشمنٹ کا کردار رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے اعتبار سے اسٹبلشمنٹ کا کردار رہے گا، اسٹبلشمنٹ کا کردار رہا ہے اور ہمیشہ رہا ہے لیکن اب کم ہوا ہے مگر ہمیشہ رہا ہے۔ صدرمملکت نے کہا کہ بھٹو صاحب سے لیجیے ایوب خان کے پسندیدہ تھے، مارشل کے ذریعے آئے، اس کے بعد نواز شریف کو لیجیے، ساری پارٹیاں وہاں بنی ہیں، مگر مجھے یہ بات پسند ہے کہ اسٹبلشمنٹ کا کردار آئینی دائرے کے اندر رہے۔ انہوں نے کہاک ہماری سیاسی کی میچورٹی کو سب سے بڑا خطرہ کرپشن ہے، حکومت میں پیسہ لوٹنا اور اس پیسے کے بنیاد پر واپس آنا، اس سے پاکستان ایک دفعہ نکل گیا تو پھر ساری چیزیں کسی حد تک ٹھیک ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں