کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حملوں میں تیزی

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان میں سکیورٹی حکام کے خلاف پُرتشدد واقعات میں اضافے کے بعد کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کے سلسلے میں کوئی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔

حکومت یا طالبان کی جانب سے قیامِ امن کے مذاکرات کے خاتمے کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان ’بداعتمادی‘ پائی جاتی ہے۔

ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے والے حکومتی وفد کے ایک اہم رکن بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ ’مذاکرات کا سلسلہ بحال ہے۔‘

اُن کی معلومات کے مطابق ’تحریک طالبان نے اب تک مذاکرات سے انکار یا مذاکرات سے نکلنے کا کوئی ذکر نہیں کیا جس سے ایسا لگتا ہے کہ طالبان اب بھی مذاکرات جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک بات ہے جنگ بندی کی تو یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔‘

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ ایک مہینے سے ایسے واقعات پیش آئے ہیں جس سے مشکل صورتحال پیدا ہوئی ہے حالانکہ اب تک ٹی ٹی پی نے مذاکرات کے خاتمے کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا لیکن ان کے رویے سے لگتا ہے کہ جیسے جنگ بندی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ٹی ٹی پی کی جانب سے جو حملے ہو رہے ہیں۔۔۔ اور اُن کے رویے سے ایسا لگتا ہے کہ طالبان اب جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔‘

بیرسٹر سیف اس وقت خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان ہیں لیکن انھوں نے بتایا کہ وہ ریاست پاکستان کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں 2021 سے شامل ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اور اس بارے میں پیدا ہونے والے مسائل سے صوبے کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ ریاست پاکستان کی جانب سے ان مذاکرات کا حصہ رہے ہیں اور طالبان کے ساتھ ان مذاکرات کے مختلف دور ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں گذشتہ ایک ماہ سے تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گذشتہ ماہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کے علاقے مٹہ کے پہاڑوں پر طالبان کی موجودگی پر سوالات اٹھائے گئے تھے جب طالبان نے ایک ڈی ایس پی کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا اور دیگر کو یرغمال بنا کر ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی۔

اس کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں سے طالبان کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔ ان میں مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں کے علاوہ اورکزئی، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب کلاچی اور ہتھالہ کے علاقے اہم بتائے گئے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں طالبان کی موجودگی کی اطلاعات پہلے سے تھیں جن میں ٹی ٹی پی کے علاوہ شدت پسندوں کے دیگر گروہ بھی شامل ہیں۔

کیا پاکستان میں پُرتشدد واقعات کے پیچھے ٹی ٹی پی ہے؟

یکم ستمبر کے بعد سے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے تشدد کے کچھ واقعات جن میں زیادہ تر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات شامل ہیں کی ذمہ دریاں اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہیں۔

دو ستمبر کو خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے سیلاب سے متاثرہ علاقے چودھوان میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کے ترجمان نے ایک بیان میں قبول کی تھی اور کہا تھا کہ اس اہلکار کو انھوں نے اپنے دفاع میں مارا ہے۔

اس کے بعد تین ستمبر کو پشاور میں ایک ناکے پر موجود اہلکار کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ پولیس کی جانب سے اچانک یا بغیر اطلاع دیے یہ ناکہ لگایا گیا تھا۔

اس کے بعد چار ستمبر کو ضلع لکی مروت میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کی ذمہ داری بھی ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی اور کہا تھا کہ طالبان پر چھاپے کی نیت سے آنے والے اہلکاروں پر اپنے دفاع میں فائرنگ کی گئی ہے۔

اسی روز ضلع خیبر کے علاقے بر قمبر خیل میں ایف سی کی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ اہلکار چھاپے کی نیت سے آ رہے تھے۔

اس طرح چھ ستمبر کو شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری بھی ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی اور کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کے مرکز پر چھاپہ مارا تھا جس پر طالبان نے جوابی کارروائی کی تھی اور اس میں پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جن میں کیپٹن ولی وزیر بھی شامل تھے۔

یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا جہاں ضلع اورکزئی، مہمند، کرم، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، ضلع خیبر اور مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کی ذمہ داریاں قبول کی ہیں اور یہی کہا ہے کہ انھوں نے یہ حملے اپنے دفاع میں اور جوابی کارروائیوں کے طور پر کیے ہیں۔

انھوں نے ان ذمہ داریوں میں سوات میں سابق امن کمیٹی کے رکن ادریس خان اور ایک دوسرے واقعے میں محمد شیرین کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ادریس خان طالبان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث تھے جبکہ محمد شیرین لوگوں کو طالبان کے خلاف بھڑکانے کا کام کر رہے تھے۔

اس ایک ماہ میں ٹی ٹی پی نے اب تک ایک درجن سے زیادہ واقعات کی ذمہ داریاں قبول کی ہیں۔

حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے یہ پیچیدگی پائی جاتی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

’ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں‘

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس سال جون کے مہینے میں غیر معینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا اور یہ اعلان پاکستان حکومت کے جرگے اور ٹی ٹی پی کی قیادت کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں کیا گیا تھا۔

اس اعلان سے پہلے ٹی ٹی پی کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے کیے گئے تھے۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے حوالے سے ٹی ٹی پی کے قائدین نے کہا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف جوابی کارروائی کا حق رکھتے ہیں اور یہ کہا تھا کہ اگر حکومت کی فورسز کی جانب سے طالبان پر حملہ ہوگا تو ٹی ٹی پی جوابی کارروائی کا حق رکھے گی۔

ان کے مطابق اس بارے میں حکومتی وفد نے کہا تھا کہ اگر طالبان کوئی مسلح کارروائی کریں گے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھرپور جوابی کارروائی کریں اور اگر دیکھا جائے تو اب تک حکومت کی جانب سے یہی ہو رہا ہے کہ اگر مسلح طالبان کوئی کارروائی کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، مقابلہ کیا جاتا ہے اور کارروائی روکنے کی کوشش ہوتی ہے۔ ’اگر کوئی کارروائی ہو جاتی ہے تو ایف آئی آر درج ہوتی ہے، پولیس اپنی قانونی کارروائی کرتی ہے۔‘

کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے بھی ایسے بیانات سامنے آئے تھے کہ حکومتی اہلکاروں کی جانب سے جب ان پر حملہ ہوتا ہے یا ایسی کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو طالبان جوابی کارروائی کرتے ہیں۔

بظاہر اب تک ایک دو ماہ میں جو صورتحال سامنے آئی ہے اس کو دیکھ کر تجزیہ کار یہی کہہ رہے ہیں کہ دونوں جانب سے بد اعتمادی کی فضا پائی جاتی ہے، جس کے نتائج کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔

شدت پسندی کے واقعات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار عقیل یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ ’طالبان کے ساتھ مذاکرات اگرچہ باقاعدہ ختم تو نہیں ہوئے لیکن اس میں کوئی پیشرفت بھی نہیں ہے اور اس بارے دونوں فریقین کے درمیان غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں گذشتہ ماہ ٹی ٹی پی کے اہم رہنما جو مذاکرات میں بھی شامل تھے، عمر خالد خراسانی، کو ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی افغانستان میں طالبان کے رہنماؤں پر حملے ہوئے جس سے مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا اور اس پر طالبان کے اندر بھی شدید غصہ پایا جاتا ہے۔‘

’ان رہنماؤں کے قتل کی ذمہ داری کسی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔ یہ واقعات بھی ایسے تھے جن کی بنیاد پر پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان بد اعتمادی پید ہوئی ہے۔‘

پاکستان میں طالبان پھر کیسے؟

پاکستان حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات اگرچہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں شروع ہوئے اور یہ سلسلہ موجودہ حکومت کے دور میں بھی کچھ عرصے تک جاری رہا لیکن اس کے بعد یہ تعلطل کا شکار ہیں۔ لیکن اس عرصے کے دوران طالبان، چاہے وہ کسی دوسرے گروپ سے بھی تعلق رکھتے ہوں، کے تیز رفتاری سے اہم شہروں کے قریب پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

یہ بات منظر عام پر سوات کے قریب مٹہ کے علاقے سے سامنے آئی جب گذشتہ ماہ ایک ڈی ایس پی کو فائرنگ سے زخمی کر دیا گیا تھا اور دیگر کو یرغمال بنایا گیا تھا جنھیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔

اس کی ویڈیو اور تصاویر بھی جاری ہوئی تھیں اور اس مقام سے ایک طالب کی مقامی صحافی سے بات چیت بھی ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے خلاف دیر اور سوات کے مختلف علاقوں میں سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے جو اب تک جاری ہیں۔

تجزیہ کار عقیل یوسفزئی نے چند روز پہلے سوات کے قریبی علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں ان کی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق سوات اور اس کے قریبی علاقوں میں بھی 70 کے لگ بھگ ایسے شدت پسند موجود ہیں اور ان کی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں جا رہی۔

انھوں نے بتایا کہ عسکری حکام نے بھی سوات کے دورے کے دوران یقین دہانی کرائی ہے کہ علاقے میں امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔

پاکستان میں دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیر ریٹائرڈ محمود شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر صوبے میں کوئی زیادہ خوف کی فضا نہیں ہے بلکہ ’سیاسی طور پر پوائنٹ سکورنگ کے لیے کہا جا رہا ہے کہ طالبان آ گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی ایسے عناصر ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے کیونکہ اگر کوئی ہے تو ان کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔‘

متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوات اور اس کے کچھ قریبی علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے لیکن اب تک کسی کارروائی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

کیا مذاکرات ہو رہے ہیں اور رابطے بحال ہیں؟

اس وقت حکومت اور طالبان کے درمیان رابطوں کی اطلاعات نہیں ہیں اور ان مذاکرات میں جو قبائلی رہنما متحرک تھے وہ بھی خاموش ہیں۔

اس بارے میں بیرسٹر سیف نے بتایا کہ معاملات چل رہے تھے تو ایسے میں سوات اور مٹہ میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس سے کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ افغانستان میں ایمن الظواہری پر حملہ ہوا اور مُلا یعقوب نے ڈرون حملے کے حوالے سے فضائی حدود فراہم کرنے کے الزامات پاکستان پر عائد کیے گئے تھے۔ ’اس سے تھوڑی ایسی صورتحال پیدا ہوئی جس سے طالبان کے ساتھ جو ملاقاتیں ہونی تھیں ان میں تاخیر ہوئی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ رُک گئے ہیں۔ یہ افغانستان کے اندر ان کے اپنے اندرونی مسائل کی وجہ سے ہے اور افغانستان میں امارت اسلامی چونکہ ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی اپنی اہمیت ہے اور جمیعت امارت اسلامی کے حکام کے پاس وقت ہو گا تو مذاکرات کا عمل پھر شروع ہو گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ طالبان کے ساتھ غیر رسمی رابطے رہتے ہیں اور حالیہ دنوں میں بھتے کے حوالے سے جو باتیں سامنے آئی ہیں، اس بارے میں انھوں نے خود رابطہ کیا اور انھیں بتایا گیا کہ بھتے کےحوالے سے ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں