رواں سال ڈھائی ہزار سے زائد تارکین وطن بحیرہ روم میں ہلاک اور لاپتہ ہوئے، اقوامِ متحدہ

نیو یارک (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) رواں سال اب تک دس لاکھ سے زائد افراد نے تیونس سے بحیرہ روم کو عبور کرنے کی کوشش کی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے غیر معمولی طور پر 260 فیصد زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں سے متعلق ایجنسی (یو این ایچ سی آر) نے جمعرات کے روز نیویارک میں بتایا کہ سال 2023 میں یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے اب تک 2500 سے زائد افراد بحیرہ روم میں غرقاب یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

یہ گذشتہ سال اسی مدت کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہونے والے 1680 تارکین وطن کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر بہت زیادہ ہے۔

یو این ایچ سی آر کی ڈائریکٹر رووین مینیک ڈی ویلا نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ” تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو ہر قدم پر موت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔”

انہوں نے یہ بات اسی دن کہی جب یورپی یونین کے وزرائے خارجہ برسلز میں اس بات پر غور و خوض کررہے تھے کہ سمندر کے راستے یورپ جانے والے لوگوں کی وجہ سے پیدا شدہ مسائل سے اٹلی اورجرمنی جیسے رکن ملکوں کی بڑھتی ہوئی تشویش کو کیسے دو ر کیا جاسکتا ہے۔

رکن ممالک اور یورپی پارلیمان یورپی یونین کے مشترکہ سیاسی پناہ کے متعلق دو ررس اصلاحات پر پچھلے کئی سالوں سے بات چیت کررہے ہیں لیکن اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔

اقوام متحدہ نے کیا کہا؟

یو این ایچ سی آر کے مطابق اس سال جنوری سے 24ستمبر کے درمیان تقریباً ایک لاکھ چھیاسی ہزار افراد بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچ چکے ہیں۔

ان میں سے ایک لاکھ تیس ہزار اٹلی پہنچے ہیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے 83 فیصد اضافہ ہے۔ دیگر افراد یونان، اسپین، قبرص اور مالٹا پہنچے۔

جہاں تک تارکین وطن کی روانگی کا تعلق ہے تو ان میں سے دس لاکھ دو ہزار تیونس سے اور پینتالیس ہزارنے لیبیا سے بحیرہ روم کو عبور کیا۔

مینیک ڈی ویلا نے بتایا کہ تقریباً اکتیس ہزار افراد کوتیونس میں سمندر میں بچایا گیا جب کہ دس ہزار چھ سو کو لیبیا میں جہاز سے اتارا گیا۔

مینیک ڈی ویلا نے سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ سب صحارا افریقی ممالک، جہاں سے بیشتر تارکین وطن کا تعلق ہے، لیبیا اور تیونس کے ساحل پر روانگی کے مقامات تک پہنچنے کا زمینی سفر”دنیا کے انتہائی خطرناک سفر میں سے ایک ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ صرف سمندر ہی نہیں بلکہ “زمین پر بھی جانیں ضائع ہورہی ہیں لیکن لوگوں کی نگاہیں اس طرف نہیں جارہی ہیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں