ترکیہ میں افغان پناہ گزینوں کو ملک بدری کا خوف

انقرہ (ڈیلی اردو/وی او اے) “میں ہر گز افغانستان واپس نہیں جاؤں گا، وہاں میری زندگی کو خطرہ ہے۔میں قانونی یا غیر قانونی کسی بھی طریقے سے کسی تیسرے ملک جاؤں گا۔” یہ الفاظ ہیں ترکی میں مقیم ایک ا افغان پناہ گزیں ادریس نیازی کے جو کابل میں ایک سرکاری ملازم تھے اور اب ترکیہ کے صوبے کیسری میں ایک ویلڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

33 سالہ ادریس کی زندگی 2021 میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد درہم برہم ہو کر رہ گئی۔ وہ بہت سے دوسرے تعلیم یافتہ افغان شہریوں کی طرح ملک چھوڑ نے پر مجبور ہوئے تھے۔ اور اب انہیں اپنا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے خاص طور پر اس خوف سے کہ کہیں انہیں ترکیہ سے افغانستان واپس نہ بھیج دیا جائے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اگست2021 سے سولہ لاکھ افغان شہری ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں جس کے نتیجے میں پڑوسی ملکوں میں افغان پناہ گزینوں کی کل تعداد 82 لاکھ ہو چکی ہے۔

ان میں سے تین لاکھ سے زیادہ ترکی میں رہ رہے ہیں۔ جن میں سے بہت سوں کو امید ہے کہ وہ پھرکسی تیسرے ملک میں چلے جائیں گے۔ ایسے ہی ایک افغان پناہ گزیں ادریس نیازی ہیں۔

ادریس نیازی کہتے ہیں کہ” ترکی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی مستقل طو ر پر رہنا چاہے گا۔ ترکی یورپ جانے کی امید رکھنے والے پناہ گزینوں کے لیے ایک پل کا کام کرتا ہے۔”

از سر نو متنقلی کے منتظر افغان خاندان

ترکیہ میں بہت سے افغان خاندان کئی سال سے کسی تیسرے ملک میں منتقلی کا انتظار کر رہے ہیں۔ منیر منصوری، جو 2016 میں افغانستان سے فرار ہو کر ترکیہ آئے تھے، تا حال کسی تیسرے ملک منتقلی کا انتظار کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے نئے سرے سے کسی تیسرے ملک میں منتقلی کےلیے ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔

منصور جو افغانستان میں آریانا ٹی وی میں ایک صحافی کے طور پر کام کرتے تھے، کہا کہ “یہاں ترکیہ میں ہم اپنے پیشہ ورانہ شعبے میں کام نہیں کر سکتے۔ ہم یہاں کام نہیں کر سکتے۔ یہ ایک مختلف ثقافت اور مختلف زبان کا حامل ایک مختلف ملک ہے۔”

افغانستان ڈیپورٹیشن کا خوف

منیر منصوری نے کہا کہ وہ افغانستان واپس بھیجے جانے سے خوفزدہ ہیں کیوں کہ وہاں ان کی زندگی کو خطرہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “مجھے ڈر ہے کہ مجھے واپس بھیج دیا جائے گا۔ مجھے دھمکیاں ملی ہیں کیوں کہ میں ترکیہ آنے سے پہلے افغانستان میں ایک میوزک شو کی میزبانی کررہا تھا۔ ”

علی حکمت نے ،جو افغان ریفیوجی سولیڈیریٹی ایسو سی ایشن کے شریک بانی ہیں، وی و اے کو بتایا کہ نومبر کے صرف پہلے ہفتے میں ترکیہ نے ملک کے مشرقی حصے میں 820 افغان شہریوں کو گرفتار کیا اور انہیں بائی ائیر افغانستان واپس بھیج دیا۔

افغان پناہ گزینوں کی ایران یا افغانستان منتقلی

حکمت نے مزید بتایا کہ افغان شہریوں کو زمینی سرحد سے بھی زبردستی ایران بھیجا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ دی تھی کہ” ترکیہ ہزاروں افغان پناہ گزینوں کو با قاعدگی سے ایران یا واپس افغانستان بھیج رہا ہے جب کہ بین الاقوامی تحفظ کے لیے ان کے دعووں پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔”

ترکیہ حکام کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہیومن رائٹس واچ نے رپورٹ دی کہ ترکی نے 2022 کے پہلے آٹھ ماہ میں 44768 افغان شہریوں کو فضائی ذریعے سے افغانستان واپس بھیجا تھا۔

تعلیم کے بارے میں تفکرات

شبنم محمدی 2021 میں افغانستان پر طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد جب مغربی صوبے ہرات سے ترکیہ آئی تھیں تو وہ ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھیں۔

انہوں نے طالبان کے اقتدار پر قبضے کے دو ماہ بعد اپنے والدین اور تین بھائیوں کے ساتھ افغانستان چھوڑا تھا اور سرحد عبور کر کے پہلے ایران اور پھر ترکیہ منتقل ہوئی تھیں۔

شبنم نے وی او اے کو بتایا کہ،” ان کے خاندان نےترکیہ آتے ہیں کسی تیسرے ملک میں منتقلی کی درخواست دی لیکن ابھی تک انہیں کوئی جواب نہیں ملا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ،” یہاں بہت مشکل ہے۔ ہم اپنا سب کچھ پیچھےچھوڑ کر آئے ہیں اور بالکل شروع سے زندگی شروع کرنا پڑی ہے۔ ہم اسکول نہیں جا سکتے، ہمارا یہاں کوئی مستقبل نہیں ہے اور نہ ہی ہم افغانستان جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خاندان کو ابھی تک امید ہے کہ وہ کسی تیسرے ملک میں از سر نو آباد ہو سکیں گے جہاں وہ اور ان کے بھائی اسکول جا سکیں گے۔

لیکن شبنم نے کہا، ” اب جب ہم ترکیہ میں ہیں، تو یہ واضح نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ” انہوں نے کہاکہ اگر وہ افغانستان واپس گئیں تو وہ نہ تو اسکول جا سکیں گی اور نہ ہی ملازمت کر سکیں گی۔

2021 میں افغانستان میں اقتدار پر قبضے کے بعد طالبان نے لڑکیوں کی سیکنڈری اور یونیورسٹی کی تعلیم پر پابندی لگا دی ہے۔ خواتین کو این جی اوز کے ساتھ کام کرنے، پارکس اور جمز جانے اور اور کسی مرد کے بغیر طویل سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ہر ایک کی طرح ادریس نیازی نے کہا، ” میں ایسی جگہ جانا پسند کروں گا جہاں میری بیٹی تعلیم حاصل کر سکے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ ایک بہتر مستقبل حاصل کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں