معاشی بحران کا خاتمہ ناؤ آر نیور (انشال راؤ)

دنیا کا کوئی بهی ملک یا قوم دفاعی طور پر خواہ کتنا ہی مظبوط ہو جدید اسلحہ میزائل یا ایٹمی طاقت سےلیس ہو جب تک وہ معاشی اقتصادی مظبوط نہ ہو  وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا سعودیت یونین فوجی قوت کے طورپر اتنا طاقتور تها کہ پوری دنیا کو متعدد بار تباہ کر سکتا تها لیکن کمزور معیشت کے سیلاب کا سامنا نہ کر سکا اور دنیا نے اس کے حصے بکھرے ہوئے دیکهے جاپان ملائشیا، سوئزر لینڈ، قطر وغیرہ مظبوط معیشت کی بنا پر دنیا میں چھا ئے ہوئے ہیں یہ قطر ہی تها جس نے امریکی سازش کو ناکام بنانے میں ترکی کی مدد کی اور اب پاکستان میں بهی دلچسپی لیتا نظر آ رہا ہے۔

دشمنان وطن کی سا زش اہم ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جو در حقیقت پاکستان کی بقا، دفاع، سلامتی کے خلاف ہے اور ایک مخصوص گروہ کے بیانات، سر گرمیاں سب کے سامنے ہیں موجود معاشی بہران گزشتہ دس سا لوں کی سر گر میوں کے پس منظر  ہی کا نتیجہ ہے GDP گروتھ بجائے سنبهلنے کے مسلسل ڈاؤن رہی یا مصنوعی طور پر کنٹرول ر کھی گئی لیکن قرضوں کےانبار لگائے جاتے رہے قرض جو  بھی لیا گیا یا تو غیر ضروری جگہوں پرخرچ کیا گیا یا پهر پتہ ہی نہیں چلا کہاں سے آیا کہاں گیا وہ منظم تخریب کاری کو بطور مہم چلایا گیا،منی لانڈرنگ کے اگلے پچهلے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ ہر قسم کے قومی مفاد کے پروجیکٹ کو متنازعہ بنایا گیا یابناے کی کوشش کی گئی دنیا میں پاکستان کو غیر محفوظ ریاست کے طورپر پیش کیا جاتا رہا یہ تو ٹہرے چند موٹے موٹے اسباب جن کا تصفیہ بهی ضروری ہے اس میں کوئی دورائے نہیں کہ سی پیک منصوبہ دشمن قوتوں کو ہضم نہیں ہوا جس کے ردعمل میں اپنے اندرونی الہ کاروں کے ذریعے سازشیں شروع کردیں۔

جس طرح ترقی نے مقید پادری کی رہائی کے امریکی مطالبے کو مسترد کرکے معاشی حملے کا سامنا کیا اسی طرح پاکستان کو “ڈو مور” کے جواب میں” نومور” کہنے کی سزا کے طور پر سنگین معاشی حملے کا سامنا ہے اور ڈرامائی انداز میں دنوں میں ہی پاکستانی روپیہ کی قدروقیمت میں ستر فیصد تک کمی ہوئی جو اس بات کی روشن دلیل ہے  کہ یہ گر نہیں رہی بلکہ گرائی جارہی ہے۔ ترقی اور پاکستان کے بحران کا موازنہ کیا جائے تو ترقش لیرا بمشکل 15 فیصد گرایا جاسکا لیکن روپیہ کی قدر میں اتنی جلدی بڑے پیمانے پہ کمی سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ ملکی خزانہ چند افراد کے ہاتھ میں ہے جو ریاست سے زیادہ مستحکم ہوگئے ہیں ناپسندیدگی کی صورت میں یا بیرونی آقاوں کے اشاروں پہ ملک کی بنیادوں کو ہلاسکتے ہیں۔ کالاباغ ڈیم کی طرح سی پیک منصوبے کو صوبائیت کا رنگ دیکر متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی اسی طرح چیف جسٹس کی ڈیم بناو مہم کو متنازعہ بنایا گیا تمسخر اڑایا گیا اور اب آرمی چیف کی معاشی بحران پہ کی گئی تقریر کو منفی رنگ دیکر قوم کو یکجا ہونے سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے کسی بھی مرض کے علاج کے لئے تشخیص ہونا ضروری ہے پاکستان کے معاشی بحران کی وجوہات اور اس کے حل سے سب واقف ہیں ایسے میں کرپشن پہ کنٹرول، منی لانڈرنگ کی روک تھام، غیرضروری اخراجات میں کمی، لوٹی ہوئی دولت کی ریکوری، ٹیکس وصولی کو یقینی بنانا اولین اور اہم حل ہیں۔

حکومت و فوج قوم کی طرف دیکھ رہے ہیں جبکہ قوم حکومت اور فوج سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ کب کوئی سولڈ قدم اٹھایا جائیگا مگر ابتک کی کارروائی کچھوے کی چال کی طرح ہے جس سے عوام کی مایوسی میں اضافہ ہوتا ہے حکومت و ادارے اگر بڑے مگرمچھوں پہ ایکدم گرفت میں نہیں لے سکتے تو ان کے سہولتکاروں اور فرنٹ مینوں سے آغاز کرے بجائے وعدہ معاف گواہ بنانے کے ان کی جائیداد مل ضبط کرکے نشان عبرت بنائے تاکہ عوام میں اعتماد کی فضا بنے اور کرپٹ مافیا میں خوف پیدا ہو اس کے علاوہ بیوروکریٹس و دیگر سرکاری ملازم طبقے سے بھی سہولتکاروں و فرنٹ مینوں کو نشان عبرت بنائے تاکہ کوئی بھی فرد خیانت و غیرزمہ داری کرنے سے ڈرے اور اگر روایتی انداز میں اصلاحات اصلاحات کی رٹ لگائے رکھی یا میڈیا پہ احتساب پیشی پہ پیشی چلتی رہی تو عوام بالکل مایوس ہوجائیگی اب فیصلے کا ہی نہیں عمل کرنے کا بھی وقت ہے اگر اب بھی ایسے عناصر پہ کڑا ہاتھ نہ ڈالا گیا تو پاکستان کا اللہ ہی حافظ۔ 

مفہوم حدیث ہے “مومن ایک سوراخ سے ایک ہی بار ڈسا جاسکتا ہے” کے تحت اب پاکستان میثاق جمہوریت کے بعد کسی دوسرے NRO کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا۔ بحران سے ہمیشہ کے لیے نکلنے کا واحد حل صرف فوری کڑا احتساب ہے نہ کہ میثاق معیشت۔ موجودہ بحران سازش اور مصنوعی ہے جس سے نکلنا مشکل نہیں، قوم ساتھ کھڑی ہوگی مگر حکومت وہ کام تو کرے جو عوام چاہتی ہے یعنی لگڑ بھگڑوں کا صفایا۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں