ماضی کی منفی سوچ آپکے مستقبل کو برباد کرسکتی ہے! (میر افضل خان طوری)

ہماری اکثریت حال کی بجاۓ ماضی اور میں زندگی بسر کر رہی ہے۔ ماضی کا ہماری زندگی پر صرف اتنا ہی اختیار ہوتا ہے کہ وہ ہمیں مستقبل کیلئے ایک سبق اور تجربہ دیتی ہے۔ جو لوگ ماضی کی سوچ کو لے کر چلتے ہیں وہ اپنے آپنے حال مستقبل کے ساتھ کبھی بھی نہیں جوڑ سکتے۔ ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کو والدین، اساتذہ اور دوسرے لوگوں نے احساس کمتری کا شکار کیا ہوتا ہے۔ ان کو یہ بات بار بار بتائی گئی ہوتی ہے کہ آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ آپ تو ایک بے کار انسان ہو۔ آپ کبھی کوئی کام ٹھیک طرح سے کر ہی نہیں سکتے۔ آپ بیوقوف ہو۔ آپ کام چور ہو۔ آپ میں قوت برداشت ہے ہی نہیں وغیرہ۔

یہ وہ جملے ہیں جو بچپن سے ہمارے اذہان عالیہ کے ساتھ چپک جاتے ہیں اور ہمارے لاشعور کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اور آگے زندگی میں ہم انہی کو لے کر چلتے ہیں۔ ہم آپنے حال میں نا چاہتے ہوئے بھی انہی سے رہنمائی لیتے ہیں۔ہمیں اپنے آپ کے بارے میں نامناسب خیالات گھیر لیتے ہیں۔ ماضی کے منفی خیالات ہماری سوچ پر مکمل طور پر اثر انداز ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنے بارے میں منفی سوچتے ہیں اور وہ منفی سوچ ہمارے احساسات کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہوتی ہے کہ ہمارا اپنے بارے میں کامیابی کا تصور ماند پڑ جاتا ہے۔

ہمارے منفی احساسات ہمارے مستقبل پر بری طرح اثر انداز ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنی قدر و قیمت کھو دیتے ہیں۔ ہمارے جذبات جمود کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہماری ہمت اور حوصلے فوت ہو جاتے ہیں۔ ہم خود کو کسی عہدے یا بڑے کام کے قابل ہی نہیں سمجھتے۔

یہ بات یقینی ہے کہ ماضی ہمارے اوپر کوئی اختیار نہیں رکھتی۔ لیکن یہ اختیار تب ختم ہوسکتا ہے جب ہم اس بات کا یقین کر لیتے ہیں کہ ماضی کا ہمارے حال پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ ماضی ہمارے لئے ایک آئینہ ہوتا ہے جس میں ہم آپنے آپ کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے اوپر اگر اختیار ہے تو وہ صرف موجودہ لمحے کا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جس میں ہمیں مکمل طور پر آزادی حاصل ہوتی ہے۔ موجودہ لمحہ ہی وہ قیمتی جوہر ہے جو ہمارے حال اور مستقبل دونوں کو بدل سکتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ لمحہ مکمل طور پر ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔

ہم اپنی سوچ کا خود انتخاب کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے اور لوگوں کے بارے میں ماضی کے منفی سوچ کو بدل سکتے ہیں۔جب ہم ماضی کی اس منفی سوچ سے آزادی حاصل کرلیتے ہیں تو ہمارے احساسات اسی لمحے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح سب سے پہلے ہمارا اپنے ساتھ رویہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہم دوسرے لوگوں کے بارے میں اپنے روئے کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ موجودہ لمحے کا انحصار ہمارے خیالات پر ہوتا ہے۔ ہم چاہیں تو مثبت سوچ کو منفی بنا دیں اور اگر چاہیں تو منفی سوچ کو مثبت بنا دیں۔ لیکن اس دوران ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حقیقت کو دریافت کرکے عقل کے استعمال کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں۔ ہماری عقل ہمیں درست رہنمائی فراہم کرسکتی ہے۔

ہم اپنے خیالات کو خود کیسے منتخب کرتے رہتے ہیں؟ ہم کیسے خیالات کا انتخاب خود کر سکتے ہیں؟ اکثر ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا مگر ہم خیالات کا انتخاب کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلا ہم جب بار بار کسی چیز کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں تو وہ سوچ ہمارے خیالات کا حصہ بن جاتی ہے اور لاشعوری طور پر ہم اس خیال کو منتخب کر رہے ہوتے ہیں۔ اب ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم کس چیز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سوچ رہے ہیں؟ آیا وہ سوچ منفی ہے یا مثبت؟ جب ہمیں اپنے خیالات کو سمجھنے اور ان میں فرق کرنے کا سلیقہ آجاتا ہے تو پھر ہم اپنے خیالات کے انتخاب پر قادر ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ہم کسی خیال کو اپنی سوچ کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ اگر وہ خیال مثبت ہوگا تو ہمارے احساسات بھی مثبت ہونگے۔ اگر وہ خیال منفی ہوگا تو ہمارے احساسات بھی منفی ہونگے۔

اس طرح ہم مثبت کاموں کو کرنے کی طاقت حاصل کر لیتے ہیں کیونکہ ہمارے احساسات ہمارے افعال کو تشکیل دیتے ہیں۔
اب ہم ماضی کے ان تمام منفی سوچوں اور خیالات سے نجات حاصل کر سکتے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے زندگی جہنم بنی ہوئی ہوتی ہے۔ خیالات کی تجدید سے ہی زندگی کی تجدید مکمن ہو جاتی ہے کیونکہ اندرونی خیالات ہی ہمارے افعال کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔
 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں