530

ایران امریکہ کشیدگی، الباکستانی منافقین کے ہر سوال کا منہ توڑ جواب (وجاہت حسین)

3 جنوری کی اعلی الصح عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکی ڈرون حملے میں ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی، عراقی شیعہ ملیشیاء کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس سمیت 9 افراد شہید ہوئے، جس کے بعد پوری دنیا میں مسلمانوں کی جانب سے امریکہ کیخلاف شدید احتجاج کیا جا رہا ہے، مزید باتیں شروع کرنے سے پہلے آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ کئی غیرملکیوں نے کئی مرتبہ قاسم سلیمانی کی مقبولیت پر سروے کئے ہیں، جبکہ ایک سروے قاسم سلیمانی کی شہادت سے صرف کچھ عرصہ قبل کیا گیا تھا، جس کے مطابق ایران، عراق، شام اور لبنان کی 90 فیصد عوام قاسم سلیمانی کو اپنا ہیرو تسلیم کرتی ہے۔ قاسم سلیمانی کی شہادت کی خبر نے جہاں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا وہی پوری دنیا کے اہل تشیع غمگین ہو گئے، لیکن آپ کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ صرف اہل تشیع کے علاوہ کئی اہلسنت بھی ان غم میں شریک ہیں، جس میں اسرائیل کیخلاف سب سے بڑی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس، قاسم سلیمانی کی شہادت کی خبر پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو بھرپور سپورٹ کرنیکا اعلان، اسی طرح فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد(القاسم بریگیڈ) نے بھی انکی شہادت کی مزمت کی اور ایران کے حمایت میں انکا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان کے صدر نے ایرانی صدر کو ٹیلیفون کیا اور انہیں اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی، اسی طرح ترکی کے صدر رجب طیب ارگان نے بھی ایرانی صدر اور ایرانی وزیرخارجہ کو ٹیلی فون کیا اور ایران کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی یہاں پر ایک بات آپکو بتانا ضروری سمجھوں گاکہ ترکی کے صدر رجب طیب ارگان کو پوری دنیا میں موجود بڑی تعداد میں مسلمان اپنا امیرالمومنین تسلیم کرتے ہیں اور انہیں امیرالمومنین کہتے اور لکھتے بھی ہیں، اس کے بعد 3 جنوری یعنی حملے کے دن ہی قطر کا ایک وفد ہنگامی طور پر ایران پہنچا اور ایران کو اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی یہاں یہ بات واضح ہو کہ ایران اور قطر کے تعلقات ایسے ہیں جیسے پاکستان اور چین، اس کے علاوہ ملیشیاء کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے بھی ایرانی صدر کو ٹیلیفون کیا اور اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی لیکن اب بات کریں پاکستان کی پاکستان نے کیا ردعمل دیا’ پاکستان نے 3 دن تک نہ تو سرکاری سطح پر ایران بارے کوئی بات کی اور نہ ہی کوئی بیان دیا اگر ہم ایک محبت وطن پاکستانی ہو کر سوچیں تو ہمیں اس بات سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہمیشہ ہر ملک اپنا ملکی اپنا مفاد پہلے دیکھتا ہے اور ہر پاکستانی یہ جانتا ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت اس وقت کیسی ہے اور اسی انداز سے دیکھا جائے تو امریکی وزیرخارجہ نے تقریباً 20 ممالک کے سربراہان یا وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی جبکہ صرف اور صرف پاکستان میں چیف آف آرمی سٹاف کو ٹیلیفون کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ بھی شیئر کی جس میں انہوں نے لکھا کہ انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف سے گفتگو کی اور قاسم سلیمانی پرہونیوالے حملے سے آگاہ کیا، جس کے بعد پاکستان کے وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ ”امریکہ پاکستان سے مدد چاہتا لیکن کس قسم کی مدد چاہتا ہے” یہ انہوں نے واضح نہیں کیا جبکہ اس کے بعد ترجمان پاک فوج نے بھی واضح کہا کہ ہم اپنی سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینگے لیکن اگر آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ تو تاریخ کچھ اور ہی بتاتی ہے۔کیونکہ جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت امریکہ نے پاکستان کو واضح الفاظ میں دھمکی دی تھی کہ ہم افغانستان پر پاکستان کے راستے سے حملہ کریںگے اور اگر پاکستان نے انکار کیا تو پاکستان کو ہم پتھر کے زمانے میں دھکیل دینگے ‘ ‘ اب یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے درخواست کی ہے یا دھمکی دی ہے لیکن باحیثیت ایک پاکستانی ہمیں اپنے ملک کی سرکاری اسٹیٹمنٹ کو تسلیم کرنا چاہئے۔ اب زرا بات کریں قاسم سلیمانی کی شہادت پر پاکستان میں اہل تشیع امریکہ کیخلاف متحد ہیں اور ساتھ ہی ایران سے اظہار یکجہتی بھی کررہے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ پاکستان کے کئی بڑے بڑے شیعہ فیس بک پیجز اور سینکڑوں کی تعداد میں اکائونٹس بلاک کیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں ایران سے اظہار یکجہتی کیلئے زیادہ تر افراد نے سوشل میڈیا کے اکائونٹس پروفائل پر شہید قاسم سلیمانی کی تصویریں بھی لگائی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ایک کچھ الباکستانیوں کی جانب سے اس اظہار یکجہتی کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے جبکہ اعتراض یہ ہے کہ کشیدگی ایران اور امریکہ کی ہے پاکستانی کیوں اظہار یکجہتی کررہے ہیں اور ساتھ ہی سوشل میڈیا پرایک منظم منصوبے کے تحت پوسٹیں چلائی جارہی ہیں کہ ”قاسم سلیمانی نے پاکستان کو دھمکی دی تھی” یہاں پر میں اپنی پڑھی لکھی عوام سے کہوں گا کہ جس حملے کے بعد قاسم سلیمانی نے پاکستان کو دھمکی دی تھی وزیراعظم عمران خان نے دورہ ایران کے دوران یہ بات تسلیم کی تھی کہ ایران پر ہونیوالے حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوتی ہے جبکہ پاکستانی شہری یہ بھول جاتے ہیں کہ گزشتہ سال پاک بھارت کشیدگی کے دوران جنرل قاسم سلیمانی نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر پاکستان پر حملہ ہوا تو ہر اپنا خون تک بہا دینگے، جبکہ ایک اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ ایران کا جنرل عراق میں کیا کر رہا تھا؟ اس کا جواب یہ خود عراق کے وزیراعظم نے دیا کہ قاسم سلیمانی سعودیہ اور ایران تعلقات کے سلسلے میں عراق آئے تھے اسکا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ آپ اگر عرب میڈیا کو دیکھیں تو انہوں نے واضح کہا ہے کہ سعودی عرب سخت ناراض ہے امریکہ کے اس اقدام سے اور امریکہ نے حملے سے قبل سعودی عرب کو آگاہ بھی نہیں کیا، ساتھ ہی زیادہ تر تنز کیا جارہاہے کہ ایسے لوگ ایران چلے جائیں اس اعتراض کا ایک بہت ہی بہترین جواب یہ ہے کہ پاکستانی لوگ برما’ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیوں کرتے ہیں کیا انکا تعلق برما ‘ کشمیر یا فلسطین سے ہے؟برما پر مظالم انکی حکومت کررہی ہے۔ کشمیر پر مظالم بھارت کررہا ہے۔ فلسطین پر مظالم اسرائیل کر رہا ہے اگر اسی طرح اعتراض کیا جائے کہ پاکستانی کیوں ان سے ہمدردی کر رہے ہیں تو آپکا جواب یہ ہوگا کہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمانوں سے اظہار یکجہتی ہمارا فرض ہے لیکن اگر آپ سے یہ پوچھ لیا جائے کہ برما کے مسلمانوں کی قومیت کیا ہے وہ کس امام کو ماننے والے ہیں کیا وہ امام اعظم ابوحنیفہؓ کے پیروکار ہیں یا امام شافیؓ کے پیروکارہیں یا کسی اور امام کے پیروکار ہیں تو آپ کے پاس اسکا جواب نہیں ہوگا کیونکہ آپ جانتے ہی نہیں ہونگے کہ برما کے مسلمانوں کا مسلک کیا ہے اسی طرح فلسطین کے مسلمانوں کا بھی آپکو علم نہیں ہوگا کہ وہ کس امام کے پیروکار ہیں لیکن اس کے باجود بھی آپ انسے اظہار یکجہتی کرتے ہیں لیکن اب قاسم سلیمانی کی شہادت پر لوگ اظہار یکجہتی کرنیوالوں پر اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ ایران سے اظہار یکجہتی کیوں کی جارہی ہے جو لوگ ایران سے اظہار یکجہتی پر انگلی اٹھا رہے ہیں ان سے ایک سوال اب ہمارا ہے کہ اگر آپ ہم سے زیادہ محب وطن ہیں تو پاکستان میں‌ ہونے والی دہشتگردی پر آپ لوگوں نے کتنے احتجاج کئے جب پاکستان میں شہری مر رہے تھے اس وقت آپ کی حب الوطنی کہاں مر گئی تھی؟ اب ایک سوال یہ ہے کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کے فوجی اڈے زیادہ تر عرب ممالک میں ہیں اور پوری دنیا جانتی ہے کہ ایران ہر صورت میں بدلہ لے گا لیکن یہ بھی پوری دنیا جانتی ہے کہ ایران امریکہ کے اندر کچھ نہیں کرسکتا اس لئے مشرقی وسطیٰ میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ یہاں پر آپ فرض کریں کہ ایران سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں موجود کسی امریکی فوجی اڈے پر حملہ کرتا ہے تو آپ یہ بات لکھ لیں کہ سعودیہ اُس حملے کو خانہ کعبہ پر حملہ کہہ کر امت مسلمہ کو دھوکہ دیگا تو آپ بتائیں کیا پاکستان میں ایران کیخلاف مظاہرے ہوں گے یا نہیں؟؟؟ جب حوثی ملیشیاء جو کہ صرف اور صرف سعودی بادشاہت ختم کرنا چاہتی ہے جب سعودیہ نے 41 اسلامی ممالک کا اتحاد بنایا تو وہ لوگ جو آج اعتراض کررہے ہیں تب سعودیہ کی حمایت کر رہے تھے اسی دوران حوثی ملیشیاء نے سعودیہ کی شاہی محل پر مزائلوں سے حملہ کیا۔ جس پر آل سعود یا آل یہود نے کہہ دیا کہ یہ مزائل خانہ کعبہ پر داغے گئے تھے جس پر پورے پاکستان میں یمنی حوثیوں کیخلاف مظاہرے شروع ہوگئے جبکہ عالمی میڈیا اور حوثی یہ کہہ رہے تھے کہ حملہ خانہ کعبہ پر نہیں بلکہ سعودی شاہی محل پر کیا گیا اب چونکہ پاکستانی ایران سے اظہار یکجہتی کررہے ہیں اس لئے ہر شخص اپنا اعتراض لے کر پہنچ جاتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی سوشل میڈیا پر منظم سازش کے ساتھ کچھ من گھڑت پوسٹیں بھی چل پڑی ہیں جن میں سے ایک بیان کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی سے جوڑا جا رہا ہے (جس دن ایران امریکہ پر ایک گولی بھی چلائے تو میری قبر پر آکر پیشاب کردینا) یہ بیان جنرل حمیدگل کا نہیں بلکہ ایک فرقہ پرست ملا کا تھا ‘ دوسرا اعتراض کہ 1965 کی جنگ میں ایران نے بھارت کی کھل کر حمایت کی ‘ اس سوال کا جواب آپکو تاریخ میں مل جائیگا اور ساتھ ساتھ ہی پاکستان کے تعلیمی نصاب میں مطالعہ پاکستان میں بھی یہ واضح لکھا ہوا ہے کہ جب بھارت نے رات کے وقت پاکستان پر حملہ کیا تو ایران نے اپنے 90 جنگی طیارے Sabre Jet Fighter پاکستان کو فراہم کیے اور انکو بھارت کیخلاف استعمال کیا ‘اگر آپ منافقت اور تعصب کی عینک اتار کر تحقیق کریں تو آپ کو خود پتہ چل جائے گا کہ 1965 کی جنگ کے دوران پاکستانی جنگی طیاروں نے فیول کہاں سے بھروائے ‘تیسرا اعتراض 1971 کی جنگ میں ایران نے بھارت کی حمایت کی’ اسکا جواب بھی بڑا صاف اور واضح ہے جوکہ آپ خود بھی ڈھونڈ لیں گے’ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ 1971 کی جنگ میں پاکستان کو جو نقصان ہوا تو ہسپتالوں میں دوائیں ختم ہو گئی تھیں آپ جہالت سے نکلیں اور تاریخ اٹھا کردیکھیں کہ پاکستانی فوجیوں کو دوائیں کس نے فراہم کی تھیں؟ اس کے علاوہ 1971 کی جنگ میں ایران نے پاکستان کو 30 جنگی ہیلی کاپٹر بطور مدد فراہم کیے جوکہ پاکستان کی فوج نے خود بھارتی فوجوں کیخلاف استعمال کئے۔ چوتھا اعتراض ایران نے 2002 میں بھارت کیساتھ ایٹمی معاہدہ کیا۔ اب چونکہ پاکستانی بڑھے لکھے کچھ زیادہ ہیں اس لئے انہیں معلوم ہی نہیں کہ ایران کو ایٹمی فارمولا بھارت نے نہیں بلکہ پاکستان نے دیا تھا، جس کی واضح‌تصدیق پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں