63

ہمارا دشمن…ہمارا شفیق استاد (ساجد خان)

امریکہ کے گزشتہ انتخابات میں امریکی یہودی کمیونٹی نے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی ہر ممکن حمایت کی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ان کے لئے،اس سے زیادہ فائدہ مند شخص کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان کی امیدوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی اور اس کے دور حکومت میں یہودی ریاست اسرائیل کو جتنے فائدے حاصل ہوئے شاید ہی تاریخ میں کسی امریکی صدر نے دیئے ہوں۔

اسرائیل کا حسب منشاء دارالحکومت سرکاری طور پر منظور کیا،عرب ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کئے، ایران کو کمزور کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا،یہاں تک کہ اسرائیل کے لئے سر درد بننے والی شخصیت قاسم سلیمانی کو راستے سے ہٹایا لیکن موجودہ الیکشن مہم میں امریکی یہودی کمیونٹی ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالف کھڑی نظر آ رہی ہے۔

ان کے زیر اثر امریکی میڈیا ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت مخالفت کرتا نظر آ رہا ہے حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی ان کے لئے اتنا ہی فائدہ مند اور مخلص ہے جتنا کہ ماضی میں تھا۔

اس سب کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ امریکی یہودی کمیونٹی ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت نہیں کر رہی ؟

یہودیت کی کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ وہ مستقبل کو اپنے شعور سے پہلے ہی بھانپ لیتے ہیں،اس لئے وقت سے پہلے ہی بچاؤ کے انتظامات شروع کر دیتے ہیں۔

ان چار سالوں میں امریکہ میں مقیم یہودی کمیونٹی نے محسوس کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بیشک اسرائیل کے لئے فائدہ مند ہے لیکن اتنا ہی امریکہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے اور ملک میں جتنی افراتفری اور نفرت پھیل رہی ہے،وہ امریکی جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے اور جمہوریت کے کمزور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں کے لئے رہنا مشکل ہوتا جائے گا خواہ وہ مذہبی اقلیت یہودی ہوں یا مسلمان،خواہ وہ نسلی اقلیت سیاہ فام ہوں یا دنیا بھر سے آئی اقوام لہذا ان وجوہات کی بنا پر یہودی کمیونٹی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے وجود کے لئے خطرہ محسوس کیا ہے گو کہ وہ اسرائیل کے لئے مزید فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے لیکن وہ جانتے ہیں کہ وہ خود محفوظ ہوں گے تب ہی اسرائیل کا تحفظ بھی کر سکیں گے۔طیہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی یہودی کمیونٹی نے مسلمان کمیونٹی پر کوئی احسان کیا ہے بلکہ امریکہ میں بچوں کے ختنہ پر کب کی پابندی عائد ہو جاتی اگر یہودی مذہب میں بھی یہ جائز نا ہوتا۔

آپ کا عقلمند دشمن جہاں خطرناک ہوتا ہے وہیں آپ کا استاد بھی ہوتا ہے،جس سے آپ بہت سی باتیں سیکھ سکتے ہیں بشرطیکہ آپ بھی عقل استعمال کرنا جانتے ہوں۔

آج ہمارے ملک میں قوم اپنے وطن سے زیادہ امریکہ، سعودی عرب، ایران اور افغانستان سے محبت کرتی نظر آ رہی ہے خواہ وہ مذہب کی بنیاد پر ہو،نسل کی بنیاد ہو یا ذاتی مفادات کی بنیاد ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہم ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔

ہمیں دشمن سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں پہلے خود کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہم دوسروں کے مفادات کا خیال رکھ سکتے ہیں۔

یہ ناممکن ہے کہ ہم دوسروں کے مفادات کی خاطر اپنے وطن کو آگ اور تباہی کی طرف دھکیل دیں اور خود اس تباہی سے محفوظ رہیں۔

ہم نے دوسروں کو خوش کرنے کی جستجو میں کبھی اپنے دشمن کی طرح سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ ہم اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں، جس پر ہمارا اپنا بسیرا ہے۔ غیروں کا کیا جاتا ہے۔ کل تک سب شامی عوام کے ہمدرد نظر آ رہے تھے، ہزاروں نام نہاد مجاہدین بھجوائے جا رہے تھے۔اربوں ڈالر کا اسلحہ مفت تقسیم کیا جا رہا تھا لیکن آج وہی ہمدرد کہاں غائب ہو گئے۔ لاکھوں شامی ترکی، لبنان اور اردن کے پناہ گزین کیمپوں میں عبرت ناک زندگی گزار رہے ہیں جو کبھی سکون سے گھروں میں سویا کرتے تھے۔ کل جو مرنے مارنے کے لئے اربوں ڈالر کا اسلحہ دیتے نظر آتے تھے،آج وہی ہمدرد ان کو ایک وقت کی روٹی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ ان کو عوام سے محبت نہیں تھی بلکہ حکومت سے نفرت تھی اور وہ حکومت کو کمزور کرنا چاہتے تھے، جس کے لئے عوام سے محبت کا ڈھونگ رچایا گیا۔

ہمارے ملک میں بھی یہی سب چل رہا ہے،کسی کو ہم سے محبت نہیں ہے بس اپنے مفادات کی جنگ میں ہمیں استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہمارے اکابرین تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیئے گئے کیونکہ ان پر ریال کی بارش کی جا رہی ہے اور جو سوچتے ہیں وہ کافر اور غدار قرار پائے لہذا اب عام پاکستانی کو ہی دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ورنہ ہمیں نا ہی سعودی عرب نے پناہ دینی ہے اور نا ہی ایران نے بلکہ لٹے پٹے کے لئے افغانستان بھی سرحد بند کر دے گا جس طرح ماضی میں ہم اس کا تجربہ دیکھ چکے ہیں۔

آپ کا وطن ہے تو آپ کی عزت بھی ہے ورنہ آج کے دوست کل آپ کے دشمن نظر آئیں گے جو آپ کو شہریت تو دور،پناہ دینا بھی گوارہ نہیں کریں گے،زیادہ سے زیادہ پچاس ٹن کھجور اور پانچ ہزار ٹینٹ امداد کر دیں گے۔

گھر اور ملک اپنا ہی اچھا ہوتا ہے خواہ جیسا بھی ہو،اس لئے دوسرے کی خوشنودی کے لئے اپنے گھر کو تباہ کرنے سے پرہیز کریں۔

آپ ذرا کوشش کریں کہ سعودی عرب یا ایران میں پاکستانی پالیسی پر عمل ہو یا پاکستانی سفیر سعودی عرب میں حکومت مخالف افراد کے ساتھ ملاقاتیں کرنے کی کوشش کرے یا ہمارا وزیراعظم امریکہ پر دباؤ ڈالے کہ فلاں قانون تبدیل کرو۔
جب وہ ہمیں اتنی اہمیت نہیں دیتے تو ہم نے کیوں ان کو خدا بنا رکھا ہے۔


نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں