211

خڑ قمر چیک پوسٹ حملہ: شمالی وزیرستان کے عمائدین پر مشتمل 9 رکنی جرگہ تشکیل

میران شاہ/ پشاور/ اسلام آباد/ (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان و وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل خان وزیر نے میران شاہ شمالی وزیرستان کا ہنگامی دورہ کیا جس کے دوران شمالی وزیرستان خڑ قمر واقعہ میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

صوبائی ترجمان نے خڑ قمر واقعے پر شمالی وزیرستان کے عمائدین پر مشتمل  9 رکنی جرگہ تشکیل دیا جس میں چیف آف وزیرستان ملک نصر اللہ، چیف آف داوڑ ملک خانزیب، ملک شاہ نواز مداخیل، ملک خان مرجان ، ملک حبیب اللہ درپہ خیل، ملک جان فراز، ملک میر قادر خان، ملک غلام خان اور پیر عاقل زمان تپی شامل ہیں۔

جرگہ عمائدین نے شمالی وزیرستان میں امن وامان کے قیام پر اتفاق کیا، جبکہ جرگہ خڑ قمر واقعہ کے پرآمن حل کے لیے فریقین سے مشاورت کرے گا۔

اس موقع پر مشیر قبائیلی اضلاع نے یقین دلایا کہ شمالی وزیرستان میں امن کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، قبائلی رسم و رواج سے واقف ہوں جبکہ جرگہ دیرپا امن کے قیام میں معاون ہوگا۔ خڑ قمر واقعہ کے متاثرین بارے انہوں نے کہا کہ متاثرہ چند خاندانوں میں امدادی چیکوں کی تقسیم کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

دوسری جانب مشیر ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر نے 9 رکنی جرگے کا اجلاس کل پیر کے روز پشاور میں طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا تھا کہ واقعے میں جاں بحق ہونے والے 13 افراد کے اہل خانہ کو فی کس 25 لاکھ روپے اور زخمی افراد کو فی کس 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ 26 مئی کو شمالی وزیرستان میں بویہ سیکیورٹی چیک پوسٹ پر مبینہ طور پر ایم ٹی ایم کے اراکین قومی اسمبلی محسن جاوید داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں 5 فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 8 افراد جاں بحق اور 42 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق خڑ کمر چیک پوسٹ پر حملے کا مقصد واقعے سے ایک روز گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ چیک پوسٹ میں موجود اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس پر اہلکاروں نے تحفظ کے لیے جواب دیا۔

پاک فوج کے مطابق چیک پوسٹ پر براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 10 زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ واقعے کے بعد علی وزیر سمیت 8 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ محسن جاوید داوڑ ہجوم کی آڑ میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ایک روز بعد ہی مذکورہ چیک پوسٹ کے قریب بویا کے علاقے میں نالے سے 5 افراد کی گولیاں لگی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

دو روز قبل سیکیورٹی فورسز نے محسن داوڑ کو بھی شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ سے حراست میں لے لیا تھا جنہیں بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 8 روزہ ریمانڈ پر محکمہ انسداد دہشت گردی کے حوالے کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں