گھوٹکی: مندر میں توڑ پھوڑ، 50 افراد کیخلاف مقدمہ درج، حالات کشیدہ

گھوٹکی (ڈیلی اردو) صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی کے مندر میں توڑ پھوڑ کے الزام میں 50 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ شہر میں معمولات زندگی بحال بازار اور دکانیں کھل گئی ہیں۔

گزشتہ روز گھوٹکی میں مبینہ طور پر توہین مذہب کے واقعے کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ پولیس نے ایک طالب علم کے والد عبدالعزیز راجپوت کی شکایت پر ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے اسکول پرنسپل نوتن مل کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

مقدمے کے اندراج کے بعد علاقے میں احتجاج کیا گیا اور حالات خراب ہوگئے تھے، مظاہرین نے ایک مندر پر چڑھائی کی کوشش کی اور اسکول کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا یا تھا۔

نوتن مل نامی استاد پر ان کے ایک شاگرد نے ہفتے کو پیغمبر اسلامؐ کی توہین کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد گھوٹکی شہر میں ہنگامہ آرائی کے دوران مشتعل افراد نے مقامی سائیں سادرام داس مندر میں توڑ پھوڑ کی تھی جبکہ شاہی بازار میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی دکانوں کو لوٹا گیا تھا۔

سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر جمیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کے خلاف توہینِ مذہب، نقصِ امن عامہ اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلا مقدمہ دفعہ 295 اے کے تحت مندر کو نقصان پہنچانے کے الزام میں درج کیا گیا ہے جس میں 22 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 23 نامعلوم ملزمان ہیں۔

ان کے مطابق اس کے علاوہ شاہی بازار میں ہندو برادری کی دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرنے پر بھی 12 نامزد اور 11 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 28 افراد کو سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور راستہ روکنے کے مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کےساتھ مل کر مندر کا دورہ کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ایس ایس پی ڈاکٹر فرخ احمد نے بتایا کہ شہر میں سیکیورٹی سخت ہے اور پولیس کامختلف علاقوں میں گشت جاری ہے۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ پولیس نے نجی اسکول کے پرنسپل کے خلاف نازیبا کلمات کی ادائیگی کے الزام پر مقدمہ درج کرکے گزشتہ روز پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ گھوٹکی اور میاں مٹھو ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی اس واقعے پر لوگ تبصرے کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پیغامات میں ایسی ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں جن میں گھوٹکی کے مندر میں ہونے والی توڑ پھوڑ اور لاٹھیاں اٹھائے مشتعل ہجوم دیکھا جا سکتا ہے۔

مکیش میگوار نامی ایک پاکستانی ہندو نے پوچھا، ”ایک بات پوچھوں مارو گے تو نہیں؟ مندر توڑنے والوں، مذہبی کتابوں کی بے حرمتی کرنے والوں پر بھی توہین (مذہب) کا مقدمہ ہو گا؟‘‘

ندیم بزدار نے پوچھا، ”اگر خادم رضوی گرفتار ہوسکتا ہے تو گھوٹکی کا امن خراب کرنے والے میاں مٹھو اور ان کے بیٹے کیوں نہیں؟‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں