افغانستان میں افغان اور امریکی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 3 شیڈو گورنرز سمیت 131 طالبان ہلاک

کابل (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) امریکا کے فضائی حملے کی مدد سے افغان سیکیورٹی فورسز نے طالبان کے 3 صوبائی شیڈو گورنر ہلاک کردئیے۔ ادھر پکتیکا صوبے کے جنوبی علاقے میں مشترکہ زمینی و فضائی آپریشن کے درمیان تقریباً 85 جنگجو ہلاک ہوگئے۔

دوسری جانب شمالی صوبے سمنگان میں مسلح گروہ اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپ میں ہوئی، جہاں ضلع درہ صوف پائیں میں فضائی حملے کے دوران طالبان کے شیڈو صوبائی گورنر مولوی نور الدین کو دیگر 4 جنگجوؤں سمیت ہلاک کردیا گیا، ایک علیحدہ واقعے میں مغربی صوبے فراہ کے ضلع انار درہ میں افغانستان اور بیرون ممالک کی سیکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن کے دوران صوبائی گورنر ملا سید عظیم ہلاک ہوگئے۔ سید عظیم کو دیگر 34 جنگجوؤں کے ہمراہ انار درہ میں ہلاک کیا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کابل کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا کے فضائی حملے کی مدد سے افغان سیکیورٹی فورسز نے طالبان کے دو صوبائی خودساختہ گورنر ہلاک کردئیے۔ آپریشن کا مقصد افغان فورسز پر طالبان کے حملے کے منصوبے کو ناکام بنانا تھا۔

علاوہ ازیں وزارت دفاع نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پکتیکا صوبے کے جنوبی علاقے میں مشترکہ زمینی و فضائی آپریشن کے درمیان تقریباً 90 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ تاہم طالبان کی جانب سے یہ اعداد و شمار مسترد کردیے گئے اور کہا گیاکہ ان کے 7 جنگجو ہلاک ہوئے اور 77 زخمی ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 20 اہلکار شہید ہوئے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ دیگر دعوے بے بنیاد ہیں۔

ادھر مقامی حکام کا کہنا تھا کہ شمالی صوبے سمنگان میں مسلح گروہ اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپ میں ہوئی، جہاں ضلع درہ صوف پائیں میں فضائی حملے کے دوران طالبان کے شیڈو (خود ساختہ) صوبائی گورنر مولوی نورالدین کو دیگر 4 جنگجوؤں سمیت ہلاک کردیا گیا۔

طالبان جنہوں نے افغان حکومت سے علیحدہ متوازی صوبائی گورننس نظام قائم کیا ہوا ہے، انہوں نے گورنر کی ہلاکت کی تردید کی تھی اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ نورالدین زندہ ہیں۔

ایک علیحدہ واقعے میں مغربی صوبے فراہ کے ضلع انار درہ میں افغانستان اور بیرون ممالک کی سیکیورٹی فورسز کے مشترکہ آپریشن کے دوران صوبائی گورنر ملا سید عظیم ہلاک ہوگئے۔

صوبائی پولیس ترجمان محب اللہ محب کا کہنا تھا کہ سید عظیم کو دیگر 34 جنگجوؤں کے ہمراہ انار درہ میں ہلاک کیا گیا۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے طالبان کے ساتھ امریکی فوجیوں کے افغانستان کے انخلا سے متعلق مذاکرات کو منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد سے جھڑپ میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان جو زیادہ تر افغانستان کی زمین پر کنٹرول رکھتے ہیں افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان میں تقریباً 14 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جو نیٹو کی قیادت میں رزولٹ سپورٹ مشن کے تحت افغان فورسز کی تربیت کر رہے ہیں جبکہ ان کی جانب سے بغاوت کے خلاف آپریشنز بھی کیے جارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں