عراق: داعش نے کربلا دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی

کربلا (ڈیلی اردو) عالمی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے کربلا میں زائرین کی بس پر ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن میں 12 شیعہ زائرین شہید اور 5 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

اتوار کو داعش نے اپنی نیوز ایجنسی اعماق کے ذریعے بس پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

جمعہ کی رات کو عراق کے شہر کربلا کے قریب شیعہ زائرین سے بھری منی بس میں ایک بم دھماکے ہوا تھا جس کے نتیجے میں 12 زائرین شہید اور 5 زخمی ہوگئے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق عراقی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ منی بس میں دھماکا اس وقت ہوا جب وہ فوجی چیک پوسٹ کے قریب سے گزر رہی تھی۔

خیال رہے کہ جس جگہ دھماکہ ہوا ہے یہ کربلا سے 10 کلومیٹر دوری پر ہے جبکہ اس قصبے کو الحلہ کہا جاتا ہے۔

امریکہ کے خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق عراقی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ منی بس میں دھماکہ اس وقت ہوا جب وہ فوج کی ایک چیک پوسٹ کے قریب سے گزر رہی تھی۔

عراقی سیکیورٹی حکام کے مطابق دھماکے سے قبل ایک مسافر منی بس سے اترا۔

حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اترنے والے مسافر نے نشست کے نیچے دھماکہ خیز مواد سے بھرا ایک تھیلا رکھ دیا تھا جو بم ریموٹ کنٹرول سے منسلک تھا۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ جب منی بس فوجی چوکی کے قریب پہنچی تو ریموٹ کنٹرول سے اس دھماکہ خیز مواد کو اڑایا گیا۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز کے مطابق ایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ منی بس میں دھماکے اور آتش زدگی سے شہید ہونے والے تمام مسافر عام شہری ہیں۔

سعودی خبر رساں ادارے ‘عرب نیوز’ کے مطابق عراق کے وزیر اعظم عادل عبد المہدی المنتفکی نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکے میں ملوث شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

‘عرب نیوز’ کی رپورٹ کے مطابق عراق کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد ریکان حدید الحلبوسیی نے کہا ہے کہ دھماکہ خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی ہے۔

محمد ريكان حدید الحلبوسیی کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی کے مزید سخت انتظامات کیے جانے چاہیئں جبکہ خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے بھی اداروں کو اقدامات کی ضرورت ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شدت پسند گروہ داعش کے زیر زمین عناصر وقتاََ فوقتاََ پُرتشدد کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

مقامی میڈیا 2017 میں عراق میں داعش کی شکست کے بعد اس حملے کو سب سے بڑا دھماکا قرار دے رہا ہے۔

قطری نیوز چینل ‘الجزیرہ ‘ کی رپورٹ کے مطابق بم دھماکے بعد کربلا اور دیگر شہروں میں مذہبی مقامی پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی جبکہ اہلکاروں کی مزید نفری بھی ان مقامات پر تعینات کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں