248

ایران: مظاہرین کو تشدد پر اکسانے کا الزام، برطانوی سفیر تہران میں گرفتار

تہران (ڈیلی اردو) تہران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران حکام نے ایران میں برطانیہ کے سفیر کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران میں تعینات برطانیہ کے سفیر “راب مک ایر” (Rob Macaire) کل رات تہران کی امیر کبیر یونیورسٹی کے سامنے مشکوک سرگرمیوں اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور ورغلانے کی وجہ سے حراست میں لئے گئے تاہم تھوڑی دیر بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ برطانوی سفیر تہران میں احتجاج کرنے والوں سے گفتگو کر رہے تھے اور ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنا رہے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق تہران میں برطانیہ کے سفیر روب میکایئر کو تین گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ برطانیہ نے اپنے سفیر کی گرفتاری کے اقدام کو ’بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

برطانوی سفیر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ یوکرینی جہاز میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب میں شامل تھے، یہ تقریب بعد ازاں مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی تھی۔

تقریب میں شمولیت کے بعد وہ برطانیہ کے سفارت خانے کے لیے روانہ ہوئے مگر راستے میں حجامت بنوانے کے لیے ایک حجام کی دوکان پر رکے جہاں ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تہران میں بغیر وجہ اور بغیر وضاحت ہمارے سفیر کی گرفتاری بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘

روب مکیئر کو امیر کبیر یونیورسٹی کے باہر ایک مظاہرے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران ’اپنی الگ تھلگ حیثیت برقرار رکھ سکتا ہے۔ یا تناؤ کم کرنے کے اقدام اور سفارتی راستے اپنا سکتا ہے۔

ایرانی دارالحکومت میں نئے مظاہرے اس حکومتی اعتراف کے بعد شروع ہوئے کہ یوکرائنی مسافر بردار جہاز غلطی سے میزائل کا نشانہ بنا۔ تہران میں ایک ہزار کے قریب عام لوگ یوکرائنی طیارہ مار گرانے کے حکومتی اعتراف کے بعد احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔

یوکرین کا بوئنگ 737 طیارہ 8 جنوری کو ایران کے امام خمینی ائیرپورٹ سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد تباہ ہو گیا تھا جس میں عملے کے افراد سمیت 176 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بعدازاں ایران نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ طیارے کو غلطی سے نشانہ بنایا گیا جس پر حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے لواحقین سے معذرت کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں