44

پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین ڈیرہ جیل سے رہا

ڈیرہ اسماعیل خان (ڈیلی اردو/بی بی سی) پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کو عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے بعد سنٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان جیل سے آج رہا کر دیا گیا ہے۔

منظور پشتین نے ڈیرہ اسماعیل خان سے رہائی کے بعد بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سنٹرل جیل میں انھیں علیحدہ چکی میں رکھا گیا تھا اور جیل میں وہ کسی سے مل نہیں سکتے تھے لیکن پھر بھی انھیں جیل کے حالات ان حالات سے بہتر لگے جو انھوں نے پچپن میں اپنے علاقوں میں تباہی کے دیکھے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’جیل قائم تھی، دیواریں اپی جگہ پر تھیں جبکہ ان کے علاقوں میں باہر کے حالات جیلوں سے بد تر ہیں جہاں مکان تباہ کر دیے گئے ہیں اور جہاں لوگ محفوظ نہیں ہیں۔‘

منظور پشتین نے بتایا کہ 2017 میں پہلی مرتبہ احتجاج کرنے پر وزیرستان میں دو دن کے لیے کال کوٹھڑی میں قید کیا تھا یہاں ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں پہلی مرتبہ وہ گئے ہیں اور ان جیلوں سے انھیں ڈرایا نہیں جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اپنی تقریروں میں صرف آئین کی بالادستی کی بات کی تھی جس میں انھوں نے مظلوم اور محکوم عوام کے لیے آواز اٹھائی تھی اور وہ یہ کرتے رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ کسی جبر یا ظلم سے ان کی آواز بند نہیں کرائی جا سکتی اور یہ آواز صرف ان کی نہیں ہے بلکہ یہ آواز پی ٹی ایم کے ہر کارکن کی ہے ۔

منظور پشتین کے وکیل اسد عزیز ایڈووکیٹ نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ منظور پشتین کے خلاًاف ڈیرہ اسماعیل خان ، پہاڑپور اور ٹانک میں نو ایف آئی آر درج کی گئی تھیں اور ان میں آّٹھ میں ان کی ضمانت منظور کی گئی ہے جبکہ ایک ایف آئی آر میں درج دفعات کو عدالت منظوری کے قابل نہیں سمجھا ۔

عدالت نے تمام مقدمات میں ضمانت گزشتہ روز یعنی پیر کے دن منظور کر لی تھیں لیکن آج تمام ضروری کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد انھیں ضمانت پر جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

اسد عزیز ایڈووکیٹ کے مطابق منظور پشتین کے خلاف تین ایف آئی آر ڈیرہ اسماعیل خان، ایک ایف آئی آر پہاڑپور اور دو ایف آئی آر ٹانک میں درج کی گئی تھیں۔ ان مقدمات میں ضمانت کے بعد تین مذید مقدمات میں گرفتاری کے لیے ایف آئی آر پیش کی گئیں جن میں دو میں عدالت نے ضمانت منظور کر لی جبکہ ایک ایف آئی آر میں درج دفعات کو عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔

منظور پشتین کو گزشتہ ماہ پشاور کے علاقے تہکال سے حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا تھا کہ منظور پشتین ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے جس وجہ سے انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

آج سنٹرل جیل ڈیرہ اسماعیل خان کے باہر بڑی تعداد میں پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکن موجود تھے جہاں سے منظور پشتین کو ایک جلوس کی شکل میں لے جایا گیا ہے۔ اس موقع پر سوشل میڈیا پر جلوس کی کوریج کی گئی اور اس موقع پر کارکنوں نے نعرہ بازی کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں