سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر کے باہر زخمی ہونے والا ہتھیار بردار شخص ہلاک

واشنگٹن (ڈیلی اردو/وی او اے) امریکہ کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف بی آئی) نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں واقع سی آئی اے کے صدر دفتر کے باہر ایک مسلح شخص ایف بی آئی کے ایک ایجنٹ کی گولی سے ہلاک ہو گیا ہے۔ اسے پیر کو اس وقت گولی ماری گئی تھی، جب وہ سی آئی کے دفتر کے باہر ایک ہتھیار لے کر اپنی گاڑی سے نکلا تھا۔

ایف بی آئی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمی حملہ آور کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعہ کی چھان بین کر رہی ہے۔

منگل کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی فائرنگ کے ہر اس واقعہ کی چھان بین کرتی ہے جس میں اس کا کوئی سپیشل ایجنٹ ملوث ہو۔ اس چھان بین کے دوران اُن حالات کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیا جائے گا جن کی وجہ سے فائرنگ تک بات پہنچی، اور جائے وقوعہ سے تمام متعلقہ شواہد اکٹھے کئے جائیں گے۔ تاہم، ایف بی آئی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

فرانس کے خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس (اے ایف پی) کے مطابق، ایف بی آئی نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں واقع سی آئی اے کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے شخص کو پیر کے روز گولی مار دی تھی۔

نامعلوم حملہ آور کو سی آئی اے کے دفتر کو جانے والے پہلے گیٹ پر روکا گیا تھا۔ ایف بی آئی کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ سی آئی اے کے دفتر کے داخلی گیٹ پر یہ تعطل کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

سیکیورٹی پر مامور عملے نے مبینہ طور پر کئی گھنٹے تک مذاکرات کے ذریعے یہ کوشش کی کہ حملہ آور ہتھیار ڈال دے۔

قبل ازیں، سی آئی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ادارہ، احاطے سے باہر پیش آنے والی صورتحال سے باخبر ہے۔ سی آئی اے کے دفتر کی مرکزی عمارت داخلی گیٹ سے سینکڑوں میٹر دور ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارا کمپاؤنڈ بالکل محفوظ ہے، اور ادارے کے صرف سیکیورٹی پر مامور عملے کا اس واقعہ سے براہ راست سر و کار تھا۔

حالیہ برسوں میں ریاست ورجینیا کے علاقے لینگلی میں قائم سی آئی اے کے دفتر کے باہر سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

1993 میں ایک پاکستانی شہری ایمل کانسی نے کار میں بیٹھے سی آئی اے ملازمین پر فائرنگ کر کے 2 اشخاص کو ہلاک اور 3 کو اس وقت زخمی کر دیا تھا، جب وہ ایجنسی کے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کے لیے ایک سپاٹ لائٹ پر رکے ہوئے تھے۔

اے ایف پی کے مطابق، کانسی فرار ہو کر واپس پاکستان چلا گیا تھا، جہاں سے 4 سال بعد اسے تلاش کر کے گرفتار اور پھر امریکہ لایا گیا تھا ۔ اس پر قتل کا مقدمہ چلایا گیا اور اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ کانسی کی سزائے موت پر عمل در آمد 2002 میں کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں