بلوچستان: کوئٹہ میں غیرقانونی طور پر چلنے والے 8 ایرانی اسکولوں کو سیل کردیا گیا

کوئٹہ (ڈیلی اردو) ضلعی انتظامیہ نے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت میں ایرانی فنڈنگ سے اور غیرقانونی طور پر چلنے والے 8 اسکولز سیل کردیے۔

رپورٹس کے مطابق یہ اسکولز متعلقہ محکمے سے منظوری لیے بغیر قائم کیے گئے تھے اور یہاں طالبعلموں کو ایرانی نصاب پڑھایا جارہا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کا کوئی تعلیمی بورڈ ایرانی نصاب کو تسلیم نہیں کرتا جس کے نتیجے میں ان اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کو مزید تعلیم کے لیے ایران جانا پڑتا تھا۔

اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ زوہیب الحق کے مطابق ’سیل کردہ سکولوں کے نصاب میں وہ کتابیں شامل ہیں جو فارسی زبان میں ہیں۔ ان میں پاکستان کے حوالے سے کوئی بھی کتاب موجود نہیں ہے۔‘

ذرائع کے مطابق چند ماہ قبل پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے ایرانی سکولوں کے حوالے سے تحقیقات شروع کی تھیں۔ جن کی رپورٹس کی بنیاد پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ کا کہنا ہے کہ ’ان سکولوں میں ایرانی تاریخ اور ثقافت کو فروغ دیا جا رہا تھا۔‘

دوسری جانب ان سکولوں میں ملنے والے مذہبی نصابی کتب کا متعلقہ ادارے جائزہ لے رہے ہیں کہ ان میں کس قسم کا مواد شامل کیا گیا ہے۔

محمد ذوہیب الحق نے مزید کہا کہ ‘ہم نے مکمل تحقیقات کر کے 8 اسکولوں کو سیل کردیا ہے، یہ اسکولز کرانی روڈ اور ہزارہ ٹاؤن کے علاقوں میں قائم تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2 مزید اسکولوں کی نشاندہی ہوئی ہے اور ان کے خلاف انکوائری جاری ہے، تحقیقات میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ اسکولوں کو ایرانی انتظامیہ اور ایرانی اساتذہ چلا رہے تھے۔

عہدیدار نے بتایا کہ یہ اسکولز 1991 میں صوبائی محکمہ تعلیم اور اسکول انتظامیہ کے درمیان طے ہونے والے مفاہمتی یادداشت کے تحت قائم کیے گئے تھے۔

تاہم اسکول انتظامیہ نے 30 برسوں سے مفاہمتی یادداشت کی تجدید نہیں کرائی اور نہ ہی اس سلسلے میں محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران نے اپنی ذمہ داری پوری کی۔

بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر شبیر احمد نے کہا کہ ان اسکولز کے عہدیداران نے اپنے تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے لیے درخواست نہیں دی۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ رجسٹریشن ایکٹ کے تحت اسکولوں کے لیے متعلقہ سرکاری محکمے سے رجسٹریشن کروانا لازمی ہے۔

واضح رہے کہ یہ سکول کوئٹہ میں مقیم ہزارہ برادری کے اکثریتی علاقوں ہزارہ ٹاؤن اور مری آباد میں واقع تھے۔ یہ برادری بھی فارسی زبان بولتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں