کولمبیا میں فوجی اڈے پر ٹرک بم دھماکا

بوگوتا (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے/روئٹرز/اے پی) کولمبیا کے شورش زدہ شمالی سینٹینڈر ریاست میں ایک فوجی اڈے پر ہونے والے کار بم دھماکے میں کم ازکم 36 افراد زخمی ہو گئے۔ کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ مشرقی کولمبیا میں ایک فوجی اڈے پر منگل کے روز ہونے والے کار بم دھماکے میں دو سویلین سمیت کم از کم 36 افراد زخمی ہو گئے۔

وینزویلا کی سرحد سے ملحق شورش زدہ علاقے شمالی سینٹینڈر ریاست کے دارالحکومت کیوکتا میں واقع یہ فوجی اڈہ تیسویں آرمی بریگیڈ کے زیر استعمال ہے۔

کولمبیا کے وزیر دفاع ڈیئگومولانا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ زخمی ہونے والے 36 افراد میں سے تین کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خود کو فوجی افسر ظاہر کر کے دو افراد اپنی ٹوئیوٹا ٹرک لے کر فوجی اڈے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد میں دونوں نے ٹرک کو دھماکے سے اڑا دیا۔

سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فوجی اڈے پر ایک زور دار دھماکہ ہوا اس کے بعد دھوئیں کے بادل پھیل گئے۔ دھماکے کی وجہ سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دفاتر تباہ ہو گئے۔

وزیر دفاع نے کہا”ہماری سکیورٹی فورسز کو نہ تو کوئی خوف زدہ کرسکتا ہے او رنہ ہی یہ کسی چیز سے ڈرنے والی ہے … ہم تمام کولمبیائی شہریوں کی سلامتی اور دفاع کی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔”

کولمبیا کے صدر ایوان ڈیوک نے ایک ٹوئٹ کرکے بتایا کہ وہ شہر کے قائدین اور حکام سے ملاقات کرنے کے لیے کیو کتا جا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ ڈینیئل پلاسیوس نے بھی فوجی اڈے پر ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ‘بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائی‘ قرار دیا۔

حملہ کس نے کیا ہوگا؟
کولمبیا کے وزیر دفاع نے کہا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق اس حملے کے پیچھے باغی گروپ نیشنل لبریشن آرمی (ای ایل این) کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے اپنے دعوے کی تائید میں کوئی ثبو ت پیش نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کولمبیا کی سب سے بڑی سابق گوریلا تنظیم فارک (ایف اے آر سی) کے ایک علیحدہ ہوجانے والے گروپ کے سلسلے میں بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

ملک میں پانچ دہائیوں سے جاری مسلح تصادم کو ختم کرنے کے مقصد سے کولمبیا کی حکومت اور بائیں بازو کے فارک باغیوں کے درمیان سن 2016 میں ہونے والے امن معاہدے کے باوجود کولمبیا کی حکومت سابق فارک کے اراکین اور ای ایل این کے جنگجووں، جنہوں نے معاہدے کو مسترد کردیا تھا، کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

کیوکتا میں واقع آرمی کی تیسویں بریگیڈ ای ایل این اور فارک کے ایک گروپ کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو منظم کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں