شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانے والا کویتی شاعر جمال السائر گرفتار

کویت سٹی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے/روئٹرز/اے پی) کویت کے ایک شاعر نے حکومت پر آئین کی خلاف ورزی کرنے اور پارلیمان کی خلاف بات کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کویت میں شاہی خاندان پر نکتہ چینی ایک مجرمانہ فعل مانا جاتا ہے۔

کویت کے ایک معروف شاعر اور سیاسی کارکن جمال السائر کے اہل خانہ نے بتایا کہ حکومت نے ٹویٹر پر، ”جعلی خبریں پھیلانے” کے الزام میں انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ 70 سالہ عربی شاعر کو ملک میں بڑی مقبولیت حاصل ہے اور ان کی گرفتاری پر لوگوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

جمال السائر ایک کاروباری شخصیت بھی ہیں۔ ان پر کویتی امارت کی توہین کرنے، ”ایسی جعلی خبریں پھیلانے جس سے ملک کی شبیہ خراب ہو سکتی ہو اور موبائل فون کا بے جا استعمال کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔”

السائر نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے جزوی جمہوری سیاسی نظام سے متعلق متعدد تنقیدی تحریریں ٹویٹ کی تھیں۔ انہوں نے کویتی حکومت سے پارلیمان کی جانب سے پوچھ گچھ کرنے سے انکار کرنے کے مسئلے کو خصوصی طور پر اجاگر گیا تھا۔

شاعر کو گرفتار کیوں کیا گیا؟

جمال السائر نے 28 جون کو اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا، ”عزت ماب (امیر) اور ولی عہد شہزادہ، صورتحال ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ آپ نے پارلیمنٹ اور عوام کی مرضی کو پامال کرتے ہوئے حکومت کو آئین خراب کرنے اور اس کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔”

اطلاعات کے مطابق پولیس نے انہیں پیر کے روز گرفتار کر لیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ‘دی گلف سینٹر فار ہیومن رائٹس’ نے خبر دی ہے کہ نصف شب کے دوران حکام نے ان کے گھر کی تلاشی لی۔ ان کے بھتیجے مہنّد السائر نے بدھ کے روز اس بارے میں اطلاعات فراہم کیں جس پر ارکان پارلیمان نے بھی غم و غصے کا اظہار کیا۔

کویت کی پارلیمنٹ بدعنوانی کے ایک معاملے میں حکومت سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے۔ کویت کی حکومت یا پھر وزارت داخلہ کی جانب سے

اس گرفتاری کے سلسلے میں ابھی تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

السائر کیا کہنا چاہتے تھے؟

کویت میں شاہی حکومت کے ساتھ ساتھ انتخابی پارلیمانی نظام بھی موجود ہے جسے شیخ نوفل الاحمد الصباح کی حکومت سے مختلف امور پر سوال و جواب کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے تاہم تمام امور میں نوفل اور ان کی قائم کردہ حکومت کو ہی حتمی اختیارات حاصل ہیں اور پارلیمان کو وہ طاقت حاصل نہیں جو کسی بھی جمہوری نظام میں عموماً ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے متنازعہ معاملات پر کئی بار پارلیمنٹ اور حکومت کے درمیان ٹھن جاتی ہے۔

حالیہ تنازعہ اس بات پر ہے کہ پارلیمان بدعنوانی اور بعض دیگر مسائل کے حوالے سے وزیر اعظم شیخ صباح الخالد الصباح سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے۔ شیخ صباح کا تعلق کویت کے شاہی خاندان سے ہے اور حکومت پارلیمان کی جانب سے تفتیش کے عمل کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سیاسی رہنماؤں کا رد عمل

کویت میں کئی سیاسی، سماجی، قانونی ماہرین اور بعض اہم شخصیات نے 70 سالہ شاعر جمال السائر کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان افراد نے بھی ان کی حمایت کی ہے جو حکومت کے حامی ہے۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان عبد العزیز السابقی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا، ” ہم ایک ایسی پولیس ریاست ہونا قبول نہیں کریں گے جہاں حقوق کی خلاف ورزیاں ہوں۔ مافیا گروہوں کے طرز پر آزادی کی ہیکنگ، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے خلاف جرائم ہیں۔”

ایک اور اپوزیشن رہنما خالد القطیبی نے کہا، ”کویت ایک آئینی ریاست ہے۔ ہم اس طرح کے جابرانہ طریقوں، غاصب ریاستوں کی حکمت عملی اور درندگی کی ثقافت کو قطعی قبول نہیں کریں گے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں