بھارت میں کورونا سے 47 لاکھ ہلاکتیں، امریکی تحقیقاتی ادارے کا دعویٰ

واشنگٹن (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) مودی حکومت نے امریکی ادارے کی اس رپورٹ کو ‘بے بنیاد اور یکسر غلط‘ قرار دیا ہے، جس میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 47 لاکھ بتائی گئی ہے۔ حکومتی اعداد شمار کے مطابق ان ہلاکتوں کی تعداد تقریبا چار لاکھ ہے۔

ایک امریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ بھارت میں کورونا کے نتیجے میں 47 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف ملکی اپوزیشن کانگریس نے ان ہلاکتوں کی تعداد 52 لاکھ بتائی ہے تاہم مودی حکومت نے انہیں ‘بے بنیاد اور یکسرغلط‘ قرار دیا ہے۔

امریکی تحقیقاتی ادارے سینٹر فار گلوبل ڈویلپمنٹ نے منگل 20 جولائی کو شائع کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتیں سرکاری اعدادشمار سے دس گنا سے بھی زیادہ ہوسکتی ہیں۔

بھارت کے سابق چیف اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم کے تعاون سے تیار کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری سن 2020 سے جون سن 2021 کے درمیان بھارت میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 34 سے 47 لاکھ کے درمیان ہو سکتی ہے جو کہ حکومت کی طرف سے بتائی جانے والی ہلاکتوں کے مقابلے دس گنا سے بھی زیادہ ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے اب تک صرف چار لاکھ چودہ ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ان سرکاری اعدادشمار پر ہمیشہ شبہ کیا جاتا رہا ہے اور عام تاثر یہی ہے کہ حکومت ہلاکتوں کی اصل تعداد بہت کم کرکے بتا رہی ہے۔

سبرامنیم کا کہنا تھا، ”ہلاکتوں کی اصل تعداد ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہو گی۔ یہ تقسیم ہند اور آزادی کے بعد بھارت میں بدترین انسانی المیہ ہے۔”

47 لاکھ ہلاکتیں کیسے؟

سینٹر فار گلوبل ڈویلپمنٹ کے محققین نے بھارت کی سات ریاستوں کے اعدادشمار کا تجزیہ کیا۔ ان سات ریاستوں میں بھارت کی مجموعی طور پر نصف سے زیادہ آبادی رہتی ہے۔ گوکہ بھارت میں ہر سال ہونے والی اموات کا سروے جاری کیا جاتا ہے تاہم سن 2019 کے اعدادوشمار اب تک جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

امریکی ادارے نے سیرو سروے کے اعدادشمار کا بھی تجزیہ کیا۔ سیرو سروے دراصل بھارت میں ہونے والے دو اینٹی باڈی ٹیسٹ کے اعدادشمار ہیں۔

محققین نے بھارتی اعدادشمار کا موازنہ بین الاقوامی سطح پر وائرس سے ہونے والی اموات سے بھی کیا۔ اس کے علاوہ بھارت کے ایک لاکھ77 ہزار گھروں میں رہنے والے آٹھ لاکھ 68 ہزار لوگوں کے درمیان ہونے والے کنزیومر سروے کے اعدادشمار کا بھی تجزیہ کیا گیا۔

اس سروے میں پوچھا گیا تھاکہ گزشتہ چار ماہ میں گھر کے کسی فرد کی موت ہوئی ہے یا نہیں۔ سائنس دانوں نے اس بات کو بھی مدنظر رکھا کہ سیرو سروے کی بنیاد پر انفیکشن کی شرح کا استعمال اموات کا اندازہ لگانے کے لیے کیا جائے۔

’باون لاکھ ہلاکتیں‘

اپوزیشن کانگریس نے دعوی کیا کہ کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کسی بھی صورت میں 52 لاکھ 40 ہزار سے کم نہیں ہے۔

پارلیمان کے ایوان بالا میں تقریر کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے کا کہنا تھا کہ حکومت کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے غلط اعدادو شمار جاری کر رہی ہے اور یہ حقیقت سے بہت دور ہے۔

انہوں نے کہا بھارت میں تقریباً چھ لاکھ 38 ہزار 565 گاؤں ہیں اور اگر ہر گاؤں میں کووڈ سے پانچ اموات بھی ہوئی ہوں گی تو یہ تعداد 31 لاکھ 91 ہزار 825 بنتی ہے۔

بھارت میں 7935 شہری علاقے ہیں اگر ہر شہر میں اوسطاً دس اموات بھی مان لی جائیں تو یہ تعداد سات لاکھ 93 ہزار 500 ہوتی ہے۔ اسی طرح ملک کے انیس میٹرو شہروں میں لگ بھگ تین لاکھ ساٹھ ہزار اموات ہوئی ہوں گی۔

اس منطق کے تحت کھڑگے نے اصرار کرتے ہوئے کہا، ”اس طرح ایک اندازے کے مطابق تقریباً 52 لاکھ 43 ہزار افراد کورونا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ تعداد اس سے کم نہیں ہوسکتی۔ اس کے باوجود حکومت کہہ رہی ہے کہ چار سے پانچ لاکھ کے درمیان ہی اموات ہوئی ہیں۔”

حکومت کی تردید

مودی حکومت نے امریکی ادارے سینٹر فار گلوبل ڈویلپمنٹ کی رپورٹ اور اپوزیشن کانگریس پارٹی کے دعوؤں، دونوں کی ہی تردید کی ہے۔

وفاقی وزیر صحت من سکھ منڈاویا نے کووڈ انیس سے ہلاکتوں کے حوالے سے حکومتی اعدادشمار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر اموات کی تعداد کہیں کم بتائی گئی ہے تو اس کے لیے ریاستیں ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت صرف ریاستوں کی طرف سے فراہم کردہ اعدادو شمار کو یکجا اور شائع کرتی ہے۔

بھارت کے وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد کو حکومت کی جانب سے چھپانے کی کوئی وجہ نہیں ہے، ”ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کووڈ کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم نے خود کہا ہے کہ ہلاکتوں کا ریکارڈ رکھا جانا چاہیے۔ انہیں چھپانے کی کوئی وجہ نہیں ہے، لیکن تمام ہلاکتوں کے لیے کسی ایک شخص کو مورد الزام ٹھہرانا کسی صورت میں درست نہیں ہے۔”

خیال رہے کہ اس برس اپریل اور مئی میں بھارت میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی انتہائی بھیانک تصویریں دیکھنے کو ملی تھیں۔ ہسپتالوں میں نہ صرف آکسیجن سلنڈروں کی قلت پیدا ہو گئی تھی بلکہ شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں لاشوں کی قطاریں دکھائی دیکھائی دیتی تھیں۔ اس بھیانک صورت حال کو مودی حکومت کی ناکامی قرار دیا گیا تھا۔

عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے ٹوئٹر پر کہا، ”ہر ملک کے لیے یہ ضروری ہے کہ اموات کا درست اندازہ لگائے۔ مستقبل میں زیادہ اموات کو روکنے اور اپنے نظامِ صحت کو اچانک لگنے والے دھچکوں کے لیے تیار رہنے کا یہی راستہ ہے۔”

بھارت میں کورونا کی تیسری لہر کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ فی الحال صرف آٹھ فیصد بالغوں کو ہی کووڈ ویکسین کی دونوں خوراکیں مل سکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں