افغانستان: طالبان کا صحافیوں پر بدترین تشدد

کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جب پہلی پریس کانفرنس کی اور اس میں انتہائی تحمل کے ساتھ صحافیوں کے والوں کے جواب دیے، تو ایک لمحے کو محسوس ہوا کہ شاید ماضی کے برعکس طالبان کے زیر اثر افغانستان میں اب صحافی بلاخوف اور آزادی کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سر انجام دے سکیں گے۔

لیکن صحافیوں پر تشدد کے تازہ ترین واقعات نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے اور کابل سمیت افغانستان کے کئی علاقوں میں گذشتہ کچھ روز سے جاری احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر تشدد نے طالبان کے اس دعوے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ایسی کئی خبریں، ویڈیوز اور تصاویر تو آپ دیکھ چکے ہوں گہ جس میں طالبان احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے شدید فائرنگ کرتے ہیں لیکن اب کچھ ایسی بھی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جس میں طالبان کے تشدد کا نشانہ بننے والے افغان صحافیوں کو اپنے پاؤں پر بمشکل چلتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ وہ افغان صحافی ہیں جو ملک کے مختلف شہروں میں جاری مظاہروں کی کوریج کر رہے تھے۔

افغان خبر رساں ادارے ’اطلاعات روز‘ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اس کے پانچ صحافیوں کو حراست میں لیا گیا اور ان میں سے دو کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

’اطلاعات روز‘ کے ایڈیٹر ذکی دریابی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان دو صحافیوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں، جنھیں طالبان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ طالبان نے احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگا رکھی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے کے لیے وزارت انصاف سے اجازت لینا ہو گی جس کے بعد سکیورٹی سروسز کو احتجاج کے وقت اور جگہ کے بارے میں معلومات دینا ہوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ بینرز اور نعروں کی تفصیلات بھی بتانا ہوں گی۔

دوسری جانب یورو نیوز کی نامہ نگار اینیلیس بورخیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ایک افغان ساتھی بدھ کے روز جب طالبان سے ایک احتجاج کی کوریج کی اجازت لینے گئے تو انھیں تین گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔

اینیلیس بورخیز نے بتایا: ’میرے صحافی ساتھی کو منہ پر کئی تھپڑ مارے گئے۔ وہ حواس باختہ ہو گئے۔ ان کے فون اور بٹوے کو ضبط کر لیا گیا۔‘

زیر حراست صحافی کی روداد

بی بی بی نے ایک ایسے افغان صحافی سے بھی بات کی ہے جنھیں منگل کے روز کابل میں ایک احتجاج کی کوریج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’طالبان نے بہت سے مظاہرین اور صحافیوں کو حراست میں لیا۔ انھوں نے میرا فون، مائیک اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا۔ انھوں نے مجھے بار بار اپنے ہاتھوں اور کتابوں سے مارا۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں صحافی ہوں لیکن انھوں نے میری بات نہیں سنی۔ میں نے انھیں کچھ لوگوں کو بندوقوں سے مار پیٹ کرتے بھی دیکھا۔ انھوں نے میری ساری ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا: ’میرے فون کے ڈسپلے پر ایک مرد اور عورت کی ایک دوسرے کو گلے لگاتے تصویر تھی۔ اس سے طالبان کمانڈر کو بہت غصہ آیا اور اس نے زور سے فون میرے منھ پر مارا۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

افغانستان میں طالبان کے قبضے کو ایک ماہ ہونے والا ہے اور تقریباً ہر روز ہی سوشل میڈیا پر طالبان کے زیر حکومت افغانستان سے کوئی نئی خبر ہی موصول ہوتی ہے۔

منگل کی شام کو طالبان نے جب اپنی کابینہ کا اعلان کیا تو اس میں خواتین کی عدم شمولیت پر دنیا بھر سے خاصا ردعمل دیکھنے کو ملا، افغان خواتین اور نوجوانوں کے اپنے حقوق کے لیے مظاہرے بھی آج کل دنیا بھر کی خبروں میں ہیں اور اب ان مظاہروں کی کورریج کرنے والے افغان صحافیوں پر تشدد نے افغانستان میں آزادی صحافت اور انسانی حقوق کے مستقبل سے متعلق تحفظات کو جنم دیا ہے۔

طالبان کی جانب سے صحافیوں پر تشدد پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی صحافی رزشتہ سیٹھنا نے لکھا: ’کابل میں احتجاج کی کوریج کرنے پر صحافیوں کی پٹائی اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتے۔ وہ کسی اپوزیشن کو برداشت نہیں کریں گے اور انھوں نے اپنے جنگجوؤں کو شہریوں کی مار پیٹ نہ کرنے اور میڈیا کو اپنا کام کرنے کی اجازت دینے سے متعلق تربیت نہیں دی۔‘

پاکستان کے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے لکھا: ’آزاد میڈیا اور جہموری آزادی پر یقین رکھنے والے ہر شخص کو طالبان کے صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرنی چاہیے۔‘

ساحل کاظمی نامی صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’0۔2 طالبان، جیسے بہت سے لوگ دعویٰ کر رہے تھے، افغانستان کے لوگوں کے ساتھ بہترین رویے کا اظہار کر رہے ہیں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’طالبان کابینہ کے اعلان کے بعد اب حکومتی عہدیدار مار پٹائی کریں گے۔‘

ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے ڈائریکٹر جون سفٹن نے لکھا: ’طالبان نے کہا تھا کہ وہ میڈیا کی آزادی کا احترام کریں گے لیکن عملی طور پر وہ صحافیوں کو مار پٹائی کر رہے ہیں اور انھیں دھمکا رہے ہیں۔‘

ہیومن رائٹس واچ ایشیا کی ہی ایوسی ایٹ ڈائریکٹر پیٹریکیا گوسمین نے لکھا: ’طالبان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ جب تک میڈیا ’اسلامی اقدار کی عزت‘ کرے گا انھیں کام کرنے کی اجازت ہو گی لیکن وہ صحافیوں کو مظاہروں کی رپوٹنگ سے روک رہے ہیں۔‘

سوشل میڈیا انفلوئنسر حنانیا نفتالی نے لکھا: ’بہادر صحافی سچ سامنے لا رہے ہیں اور طالبان کو اس سے نفرت ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’افغان صحافی کو اتنا مارا گیا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ طالبان کو تاریخ کی کتابیں دوبارہ پڑھنا ہوں گی تاکہ انھیں یاد آ سکے کہ جب انھوں نے افغانیوں پر وحشیانہ قوانین نافذ کرنے کی کوشش کی تو ان کا خاتمہ کیسے کیا گیا۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں