مزاحمتی کمانڈر صالح ریگستانی کا طالبان پر پنجشیر میں ’قتل و بربریت‘ کا الزام

کابل (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغان قومی مزاحمتی محاذ کے جنگجو صالح محمد ریگستانی نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں انھوں نے طالبان پر پنجشیر میں ’قتل و بربریت‘ کا الزام لگایا ہے۔ طالبان نے ابھی تک ان الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔

ریگستانی نے ویڈیو میں کہا ’طالبان نے افغانستان کے محفوظ ترین صوبے پنجشیر پر حملہ کر دیا ہے اور دہشت گردی، قتل اور بربریت کی وارداتیں کی ہیں۔‘

گذشتہ روز 9 ستمبر کو احمد شاہ مسعود کے قتل کی بیسویں برسی تھی۔ ان کے ساتھ لڑنے والے کمانڈروں نے بیس سال بعد احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف ’دوسری مزاحمت‘ جاری رکھی ہوئی ہے۔

فوجی وردی پہنے ریگستانی کی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ ’پنجشیر میں طالبان کا داخلہ جنگ کا اختتام نہیں بلکہ جنگ کا آغاز ہے۔‘

انھوں نے طالبان کو ایک ’جنونی اور جابرانہ گروہ‘ قرار دیا۔

بی بی سی فارسی نے طالبان کے ترجمانوں سے پنجشیر کی صورتحال اور مبینہ طور پر شہریوں کے قتل کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن ابھی تک بی بی سی کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں