کوہستان بس دھماکا: چین کی کمپنی کا داسو ڈیم پر کام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

پشاور (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ڈیم کی تعمیر پر مامور چینی کمپنی نے ڈیم کی تعمیر کا کام پیر سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رواں برس 14 جولائی کو داسو ہائیڈرو پاور منصوبے پر چینی انجینئرز اور مقامی ملازمین پر مشتمل تعمیراتی ٹیم کو رہائشی کیمپوں سے کام کی جگہ لے کر جانے والی ایک کوچ میں بالائی کوہستان میں دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں نو چینی باشندوں سمیت 13 افراد ہلاک جب کہ 28 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اپر کوہستان میں داسو ڈیم پر کام کرنے والی چینی تعمیراتی کمپنی نے دوبارہ کام شروع کرنے کے حوالے سے ایک اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ اعلامیے کے مطانق کمپنی میں کام کرنے والے مقامی ملازمین کو مرحلہ وار بلایا جائے گا۔

اپر کوہستان کے ڈپٹی کمشنر محمد عارف خان یوسفزئی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں داسو ڈیم پر پیر سے کام شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔

مقامی انتظامی حکام کے مطابق داسو ڈیم پر تعمیراتی کام تین ماہ 10 دن سے بند تھا۔

اس واقعے کو پاکستانی حکام نے ابتدا میں ایک حادثہ قرار دیا تھا تاہم بعد میں سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے اسے دہشت گردی کا واقعہ تسلیم کیا تھا۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ہمسایہ ملک چین کے اعلی سیکیورٹی۔سیاسی اور سفارتی عہدیداروں کے علاوہ عالمی بینک کے نمائندوں نے بھی اپر کوہستان کا دورہ کیا تھا۔

سیکیورٹی انتظامات مزید سخت

ڈپٹی کمشنر عارف یوسفزئی کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام شروع کرنے کے لیے سیکیورٹی کے تمام تر انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر مشتمل دستے رہائشی علاقے سے تعمیراتی کام کی جگہ پر تعینات کیے گئے ہیں۔

اس واقعے کے نتیجے میں نہ صرف اس ڈیم پر چند دنوں کے لیے تعمیری کام کا سلسلہ متاثر ہوا تھا بلکہ اس سے پاکستان بھر میں مختلف علاقوں میں تعمیری اور کاروباری شعبوں سے منسلک چینی باشندوں کی سیکیورٹی کے بارے میں تشویش کی لہر پیدا ہوئی تھی۔ تاہم بعد میں حکومتِ پاکستان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک ہونے اور چینی باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرنے کی ہدایت کی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں سی پیک منصوبوں سمیت لگ بھگ 45 چینی کمپنیاں مختلف تعمیراتی منصبوں پر کام کر رہی ہیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں