امریکی ریاست مشیگن کے اسکول میں فائرنگ، 3 طلبہ ہلاک، 8 زخمی

واشنگٹن (اے پی/اے ایف پی/روئٹرز) پولیس کا کہنا ہے کہ مشیگن کے ایک ہائی اسکول میں پندرہ سالہ طالب علم نے سیمی آٹو میٹک شاٹ گن سے فائرنگ کر دی جس میں دیگر آٹھ طلبہ زخمی بھی ہوگئے۔ حملے کا مقصد فی الحال واضح نہیں ہو سکا ہے۔

نائب شیریف مائیکل میک کابے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ منگل کے روز پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک 16 سالہ لڑکا اور 17 اور 14 برس کی دو لڑکیاں شامل ہیں۔ کم از کم ایک ٹیچر سمیت دیگر اٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دو زخمیوں کی سرجری بھی کرانی پڑی ہے جبکہ دیگرچھ کی حالت مستحکم ہے۔

فائرنگ کا یہ واقعہ آکسفورڈ قصبے کے آکسفورڈ ہائی اسکول میں پیش آیا۔ یہ جگہ ڈیٹرائٹ سے تقریباً48 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور یہاں لگ بھگ 22 ہزار افراد رہتے ہیں۔

فائرنگ کے پیچھے مقصد کیا تھا؟

آکلینڈ کاونٹی کے نائب شیریف مائیکل میک کابے نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ تفتیش کار اب بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ فائرنگ کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا میں گشت کرنے والے ان الزامات سے واقف ہیں کہ فائرنگ سے قبل حملے کی دھمکیاں مل رہی تھیں، تاہم انہوں نے تفتیش کاروں کے کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل اس طرح کی باتوں پر یقین کرنے کے حوالے سے متنبہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ حملے کے چند منٹوں کے اندر ہی پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے اس کے پاس سے سیمی آٹومیٹک ہینڈ گن اور متعدد گولیاں بھی برآمد کرلی ہیں۔

مائیکل میک کابے نے بتایا، “اس لڑکے نے متعدد راونڈ فائرنگ کی۔ تقریباً 15 سے 20 گولیاں چلائیں۔”

صدر جوبائیڈن نے سانحے پر کیا کہا؟

امریکی صدر جو بائیڈن کو فائرنگ کے اس واقعے کی اطلاع منی سوٹا میں دی گئی جہاں وہ دورے پر تھے۔ انہوں نے کہا، “دکھ کی اس گھڑی میں میری دلی ہمدردی متاثرہ کنبوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے۔”

مشیگن کے گورنر گریٹ شین وائٹمرنے فائرنگ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک والدین کے لیے یہ سب سے بدترین خواب ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ امریکا کا منفرد مسئلہ ہے جسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے باوجود کسی کو بھی اسکول جانے سے ڈرنا نہیں چاہئے۔

بندوق پر پابندی لگانے کی وکالت کرنے والے اور فائرنگ کے واقعات پر نگاہ رکھنے والے ایک گروپ ‘ایوری ٹاون گن سیفٹی’ کا کہنا ہے کہ رواں برس یعنی 2021 میں یہ امریکا میں کسی اسکول میں ہلاکت کا اب تک کا بد ترین واقعہ ہے۔ گروپ کے مطابق منگل کے روز پیش آنے والے فائرنگ کے اس واقعے سے قبل اب تک امریکا میں سال 2021 کے دوران فائرنگ کے 138واقعات پیش آچکے ہیں۔

امریکا میں کسی اسکول میں فائرنگ کا بدترین واقعہ فروری 2018 میں فلوریڈا کے پارک لینڈ میں پیش آیا تھا جہاں 17 افراد مارے گئے تھے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں