کراچی: پارک کی جگہ پر قائم مدینہ مسجد گرانے کے سپریم کورٹ کے حکم کیخلاف احتجاج

کراچی (ڈیلی اردو/وی او اے) ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کے اُس فیصلے کے خلاف کراچی میں جمعے کو احتجاج کیا گیا، جس کے تحت شہر کے تجارتی مقام طارق روڈ پر پانچ منزلہ مسجد کی عمارت کو پارک کی زمین پر تعمیر قرار دے کر گرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

احتجاج میں وزیرِ اعظم عمران خان کے سندھ کے امور پر معاون اور سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم بھی شریک ہوئے۔

سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ پارک کی جگہ کو و اگزار کرکے اسے ایک ہفتے میں بحال کیا جائے۔ عدالت نے یہ حکم کراچی میں منگل کو سماعت کے دوران اس وقت دیا تھا جب عدالت نے استفسار کیا کہ پاکستان کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) میں طارق روڈ کے مقام پر اصل نقشے میں موجود دلکشاء پارک اور کلب کی زمین پر تعمیرات کیسے کر دی گئیں؟

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مدینہ مسجد پارک کی جگہ پر 1100 گز دلکشاء پارک کی جگہ پر تعمیر کی گئی ہے جب کہ اس کے ساتھ متصل دلکشاء کلب کی زمین پر بھی مدرسہ قائم کیا گیا ہے جو اس کے علاوہ ہے۔

سپریم کورٹ نے نہ صرف اس مسجد بلکہ کڈنی ہل پارک میں قائم مسجد، مزار اور قبرستان کو بھی مسمار کرنے کا حکم دیتے ہوئے تنبیہ کی کہ ایسی تمام زمینوں کو جو نقشے کے بر خلاف الاٹ کی گئیں، انہیں کینسل کرنے کے ساتھ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ان احکامات کو مسجد انتظامیہ نے ماننے سے مکمل طور پر انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد کو گرانے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کی جائے گی۔

مسجد انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ٹرسٹ کے پاس تمام دستاویزت موجود ہیں اور یہ مسجد سوسائٹی انتظامیہ کی باقاعدہ اجازت سے بنائی گئی ہے۔

مدینہ مسجد کے بارے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کا جامعہ بنوری ٹاؤن سے الحاق ہے۔

احتجاج کی قیادت کرنے والے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ایف) کے مرکزی رہنما قاری عثمان کا کہنا ہے کہ مسجد کو کسی صورت مسمار کرنے نہیں دیا جائے گا۔ اس کی حفاظت کی جائے گی اور ساتھ ہی سپریم کورٹ میں فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کرنے پر بھی صلح مشورہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسجد کی تعمیر سے قبل یہ غیر آباد جگہ تھی جہاں منشیات استعمال کرنے والے لوگوں کا ڈیرہ تھا۔ مسجد کی تعمیر کی باقاعدہ اجازت لی گئی۔ اس کا نقشہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے منظور کیا گیا اور تمام یوٹیلٹی بلز باقاعدگی سے جمع ہوتے آرہے ہیں۔

قاری عثمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسجد غیر قانونی جگہ پر تھی اور نہ ہی قبضہ کرکے بنائی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ مان بھی لیا جائے کہ مسجد غیر قانونی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی تو ملک بھر میں جس طرح غیر قانونی عمارتوں کو ریگولرائز کیا گیا اسے بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ تاہم مسجد ایک بار تعمیر ہو گئی تو اسے گرانے نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے علمائے کرام کے کئی فتوے بھی موجود ہیں۔ اس حوالے سے دیگر کئی علما نے بھی مسجد کو گرانے سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کراچی میں شہری امور پر تحقیق کرنے والے ادارے کراچی اربن لیب سے وابستہ سینئر محقق محمد توحید کا کہنا ہے کہ کسی بھی رہائشی سوسائٹی میں رفاہی مقاصد کے لیے زمین کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کھلے مقامات تک رسائی ملے۔ انہیں پارک، میدان، مارکیٹس اور عبادت گاہیں میسر آسکیں۔ کسی بھی سوسائٹی کے نقشے میں رکھے گئے رفاہی پلاٹس عام طور پر تبدیل نہیں کیے جاتے البتہ انہیں ضرورت کے مطابق مروجہ طریقے کے مطابق تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔

محمد توحید کا کہنا تھا کہ اس میں مسئلہ اس وقت آتا ہے جب شہر کے ماسٹر پلان، نقشوں کو چھپایا جاتا ہے اور تعمیرات کے لیے چھوڑے گئے مقامات کو ظاہر نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کا ماسٹر پلان اب تک موجود نہیں ہے۔ لینڈ ریکارڈ کو موبائل سمز اور گاڑیوں کے ریکارڈ کی طرح کمپیوٹرائزڈ نہیں کیا جا رہا۔ ہاتھ سے تیار کردہ نقشوں کے بجائے جدید دور سے ہم آہنگ جی آئی ایس اور ریموٹ سینسنگ کی مدد سے نقشے تیار نہ کرنے کی وجہ سے ایسے ہی مسائل سامنے آتے ہیں جس میں کرپٹ عناصر کو اپنا ہاتھ صاف کرنے کے موقع مل جاتے ہیں۔ اور یوں مافیاز کو زمینوں کو ہتھیانے یا انہیں اس کے اصل مقصد کے برعکس استعمال کرنے میں آسانی مل جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ زمین کا ریکارڈ اسی لیے کمپیوٹرائزڈ نہیں کیا جاتا کیوں کہ اس سے ایسے عناصر کی کمائی کے مواقع ختم ہو جائیں گے۔

شہری امور کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی فعال رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی، بلدیہ عظمیٰ کراچی یا کسی بھی ایسے ادارے کو خود یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ کسی بھی زمین کے ٹکڑے کو سوسائٹی کے منظور شدہ ماسٹر پلان کے برعکس کوئی الاٹمنٹ کرے اور یہی نکتہ سپریم کورٹ کے حکم میں اٹھایا گیا ہے۔ جب کہ شہر بھر میں ایسی ہزاروں تعمیرات ہیں جو اس علاقے کے منظور شدہ نقشے سے ہٹ کر تعمیر کی گئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گجر نالے، اورنگی نالے کے اطراف ہٹائے گئے سیکڑوں ایسے مکانات بھی تھے جو لیز شدہ تھے یعنی ان کی موجودگی کو سرکاری طور پر جاری شدہ دستاویز کے تحت قبول کر لیا گیا تھا۔

اس معاملے پر اب تک انتظامیہ کی جانب سے نوٹس جاری کرنے کے علاوہ مسجد کی تعمیر کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی البتہ ماضی میں سندھ پولیس کے افسران یہ کہتے رہے ہیں کہ شہر میں کئی ہزار مساجد اور امام بارگاہیں تجاوزات کرکے قائم کی جا چکی ہیں جنہیں ہٹانا اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بس کی بات نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں