روس نے امریکی خفیہ ایجنسی کے راز افشا کرنے والے سنوڈن کو شہریت دیدی

ماسکو (ڈیلی اردو/اے پی) روس نے پیر کے روز سابق امریکی انٹیلی جنس کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کو شہریت دے دی ہے ، جو دنیا بھر سے مواصلات اور ڈیٹا حاصل کرنے کے امریکہ کےانتہائی خفیہ نگرانی کے پروگراموں سے متعلق معلومات افشا کرنے کے بعد سزا سے بچنے کے لئے فرار ہو گئے تھے۔

پیر کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے دستخط شدہ حکم نامے کی فہرست میں سنوڈن کو ان 75 غیر ملکی شہریوں کی فہرست میں شامل تھے جنہیں روسی شہریت دی گئی ہے۔ امریکہ سے فرار ہونے کے بعد ، سنوڈن کو 2020 میں روس میں مستقل سکونت یا گرین کارڈ دیا گیا تھا ۔ اس وقت سنوڈن نے کہا تھا کہ انہوں نے امریکی شہریت کو ترک کیے بغیر روسی شہریت کے لیے درخواست دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

پوٹن کے یوکرین میں “خصوصی فوجی آپریشن” کو شروع کرنے کے فیصلے کے بعد واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تعلقات پہلے ہی گشتہ کچھ دہائیوں کے عرصے میں اپنی کم ترین سطح پر ہیں۔

39 سالہ سنوڈن کو حامیوں کی طرف سے ایک ایسا “وسل بلوئر” یعنی انتباہ کرنے والاسمجھا جاتا ہے جو امریکی شہری آزادیوں کا تحفظ کرنا چاہتے تھے۔امریکی انٹیلی جنس حکام نے سنوڈن پر امریکی اہلکارکو خطرے میں ڈالنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچا نے کا الزام لگایا ہے ۔ امریکہ میں انہیں ایسے الزامات کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں انہیں کئی دہائیوں تک کی قید ہو سکتی ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پیر کو کہا ہے کہ “ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ “مسٹرسنوڈن کو امریکہ واپس آنا چاہیے جہاں انہیں کسی دوسرے امریکی شہری کی طرح انصاف کا سامنا کرنا چاہیے۔

روسی شہریت قبول کرنے پر سنوڈن پر لوگوں کی جانب سے مزید تنقید کا امکان ہے ، جن کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے تنازعہ جیسے مسائل پر خاموش رہے ہیں۔

سنوڈن نے امریکہ کے فون اور انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے سے گزرنے والے قومی سلامتی ایجنسی کے ڈیٹا سے متعلق دستاویزات کو لیک کیا۔ انہوں نے امریکی اینٹلجنس بجٹ اور امریکی اتحادی ممالک کے رہنماوں سمیت غیر ملکی حکام کی نگرانی کے بارے میں تفصیلات بھی جاری کیں۔

سنوڈن کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ انکشافات اس لیے کیے کیونکہ ان کے خیال میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی بہت آگے بڑھ چکی تھی ، جو شہری آزادیوں کی خلاف ورزی تھی۔

سنوڈن پر 2013 میں امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی اور خفیہ معلومات کے بارے میں غیر مجاز انکشاف کرنے اور سرکاری املاک کی چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تینوں الزامات میں سے ہر ایک میں زیادہ سے زیادہ 10 سال کی سزا ہے۔

محکمہ انصاف نے سنوڈن کو اپنی آپ بیتی پر منافع اکٹھا کرنے سے روکنے کے لیے بھی مقدمہ دائر کیا تھا۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ سنوڈن نے خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ خفیہ معلومات کو افشا کرنے والے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز سنوڈن کی شہریت پر تبصرہ محکمہ انصاف کو بھیج دیاہے، اور زیر التواء مجرمانہ الزامات کا حوالہ دیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں