متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیراعظم مودی کو سب سے بڑے ایوارڈ سے نواز دیا

دبئی (ڈیلی اردو) متحدہ عرب امارات نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نواز دیا جو عرب امارات کی جانب سے تیل کی بڑی منڈی کھونے کا ڈر ہے یا پھر اس کی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بے حسی ہے۔

نریندر مودی کو ایسے وقت پر یو اے ای کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’آرڈر آف زیاد‘ دیا گیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کردی گئی اور گزشتہ 20 دن سے وادی میں مسلسل کرفیو جاری ہے اور زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ اس ضمن میں بتایا گیا کہ بھارت خام تیل استعمال کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے بڑی منڈی تصور کیا جاتا ہے۔

سماجی حلقوں کی جانب سے نریندر مودی کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال میں اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دینے پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

بیروت کی انسانی حقوق کی تنظیم کی رکن سما حدید نے کہا کہ ’خلیجی ملک کی جانب سے نریندر مودی کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں تاہم انہوں نے انسانی حقوق کو اقتصادی فوائد کے لیے قربان کردیا‘ بھارت ناصرف عالمی مذمت سے راہ فرار اختیار کرچکا ہے بلکہ مسلمان اتحادی ممالک سے مزید حمایت حاصل کر رہا ہے‘ بھارت کشمیر میں کرفیو لگا کر کشمیریوں کی آواز نہیں دبا سکتا۔ یو اے ای کے شیخ محمد بن زید النہیان نے نریندر مودی سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’آپ (ایوارڈ) کے حقدار ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ محمد بن زید النہیان نے رواں برس اپریل میں ٹوئٹ میں نریندر مودی کے لیے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب نئی دہلی میں آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نے کہا کہ ’اب بھارت جیسے ملک کو سطحی نہیں لیا جا سکتا‘۔

برطانیہ کی پارلیمانی رکن ناز شیخ نے یو اے ای کے شیخ محمد بن زید النہیان کو مراسلہ لکھا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و ستم کے پس منظر میں ایوارڈ دینے سے متعلق فیصلے پر دوبارہ غور کریں۔

ایک اماراتی پروفیسر عبدالخاق عبداللہ نے کہا کہ شیخ محمد بن زید النہیان کی جانب سے نریندر مودی کی دوبارہ انتخابی کامیابی کے بعد ایوارڈ سے متعلق اعلان سامنے آیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں کے قریبی تعلقات ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں